5

دھوکے کی تہذیب اور بیداری کا لمحہ

ڈاکٹر ضمیر اخترخان
مغربی معاشرے کی فریب کاری ملاحظہ ہو کہ اس کے کئی ممالک میں ایک طرف ہزاروں لاکھوں لوگ غزہ کے مظلوم مسلمانوں کے حق میں مظاہرے کرتے نظرآتے ہیں اور دوسری طرف ہزاروں مغربی ممالک کے شہریوں کے غزہ کیخلاف اسرائیل کی حمایت میں جنگ لڑنے کا انکشاف ہوا ہے ۔ یہ وہ تضادہے جس نے مغربی انسان کی مادہ پرستی کی نفسیات کو اجاگر کیا ہے۔ اسی نفسیاتی بیماری کا ظالمانہ اظہارعالمی سطح پرمغربی طاقتوں کی مجرمانہ کارروائیاں ہیں جن کے نتیجے میں کروڑوں انسانوں کوموت کے کھاٹ اتاراجاتا ہے۔ ہیروشیما اور ناگاساکی کی انسانیت کے خلاف ظلم عظیم کی داستان دنیاابھی تک نہیں بھولی مگرافسوس اس جرم کی مرتکب امریکی قوم کا لیڈرمسٹر ٹرمپ اب بھی اپنی فوج کو ایران کے خلاف ایٹم بم کے استعمال کا حکم دے رہا ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ پوری انسانی دنیااس بیمارذہنیت کے خلاف اٹھ کھڑی ہو۔

حال ہی میں یہ خبرچھپی ہے کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ پر مسلط کی گئی جنگ میں یورپی ممالک کے ہزاروں شہری اسرائیلی فوج میں شامل رہے جس کے بعد غیر ملکی شہریوں کے ممکنہ جنگی جرائم پر بین الاقوامی قانونی کارروائی کے سوالات شدت اختیار کر گئے ہیں۔
اس وقت دنیا ایک عجیب دوغلے پن کے دوراہے پر کھڑی ہے— ایک ایسا دور جہاں انصاف کے نعرے بلند کیے جاتے ہیں، مگر عمل میں ظلم کی سرپرستی کی جاتی ہے۔ مغرب، جو خود کو انسانی حقوق، آزادی اور جمہوریت کا علمبردار کہتا ہے، آج اپنی ہی اقدار کے ملبے تلے دب چکا ہے۔ غزہ کی گلیوں میں بہتا ہوا خون صرف فلسطینیوں کا نہیں، بلکہ مغربی ضمیر کی موت کا اعلان بھی ہے۔
یہ کیسا المیہ ہے کہ ایک طرف مغربی عوام کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکل کر مظلوم فلسطینیوں کے حق میں آواز بلند کرتی ہے، اور دوسری طرف انہی معاشروں کے ہزاروں شہری اسرائیلی فوج کا حصہ بن کر اسی ظلم کو دوام دیتے ہیں؟ یہ تضاد نہیں، بلکہ ایک گہری فکری بیماری ہے—وہ بیماری جو مادہ پرستی، مفاد پرستی اور اخلاقی زوال سے جنم لیتی ہے۔

تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ جب طاقت انصاف سے خالی ہو جائے تو وہ تباہی کا استعارہ بن جاتی ہے۔ ہیروشیما اور ناگاساکی کی راکھ آج بھی انسانیت کو جھنجھوڑ رہی ہے، مگر افسوس! طاقت کے نشے میں چور ذہنیت اب بھی دنیا کو ایٹمی تباہی کے دہانے پر لے جانے سے باز نہیں آ رہی۔ آج ایران کے خلاف ایٹمی دھمکیاں ہوں یا غزہ میں معصوم بچوں پر بمباری—یہ سب اسی سوچ کا تسلسل ہے۔
اعداد و شمار چیخ چیخ کر سچ بیان کر رہے ہیں: ہزاروں امریکی، فرانسیسی، جرمن اور دیگر مغربی ممالک کے شہری اسرائیلی فوج میں شامل ہو کر ایک ایسے ظلم کا حصہ بن رہے ہیں جسے دنیا کی تاریخ کبھی معاف نہیں کرے گی۔ 72 ہزار سے زائد شہداء، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے—یہ صرف اعداد نہیں، بلکہ انسانیت کے چہرے پر لگے وہ داغ ہیں جو کبھی مٹ نہیں سکتے۔
یہ سوال اب صرف فلسطین کا نہیں رہا، یہ سوال پوری انسانیت کا ہے:
کیا عالمی ضمیر واقعی مر چکا ہے؟کیا انصاف اب صرف طاقتور کے مفاد کا نام رہ گیا ہے؟
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ دنیا کے باشعور انسان، خواہ وہ کسی بھی مذہب یا قوم سے تعلق رکھتے ہوں، اس ظلم کے خلاف متحد ہو جائیں۔ یہ لڑائی صرف زمین کی نہیں، یہ حق اور باطل کی جنگ ہے۔ اگر آج خاموشی اختیار کی گئی تو کل یہ آگ ہر دروازے تک پہنچے گی۔

اقبال نے کہا تھا:
تمدن، تصوف، شریعت، کلام
بتانِ عجم کے پجاری تمام


آج یہ شعر مغرب کی اس کھوکھلی تہذیب پر صادق آتا ہے جو بظاہر روشن مگر اندر سے تاریک ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ دنیا اس فریب کو پہچانے، اس دوغلے پن کو بے نقاب کرے، اور ایک ایسے نظام کی طرف لوٹے جوسوائے اسلام کے کوئی اور نہیں ہے۔ یہ اسلام ہے جو حقیقی انصاف، حقیقی امن اور حقیقی انسانیت کی ضمانت دیتا ہے۔ دنیا اب ایک فیصلہ کن موڑ پر کھڑی ہے۔ فریب کے یہ پردے زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتے۔ وقت آ گیا ہے کہ انسانیت اس دوغلے پن کو پہچانے، اس مصنوعی تہذیب کے کھوکھلے نعروں کو رد کرے، اور سچائی کی طرف لوٹے۔ وہ سچائی جو نہ کسی مفاد کی غلام ہے، نہ طاقت کے نشے میں اندھی—بلکہ عدل، رحم اور توازن کا کامل نظام ہے۔ یہ وہ نظام ہے جو رنگ، نسل، قوم اور جغرافیے سے بالا تر ہو کر انسان کو انسان سمجھتا ہے؛ جو مظلوم کی آہ کو سنتا ہے اور ظالم کے ہاتھ کو روکتا ہے؛ جو امن کو محض نعرہ نہیں بلکہ عملی حقیقت بناتا ہے۔ اور یہ نظام سوائے اسلام کے کوئی اور نہیں۔ یہ اسلام ہی ہے جو حقیقی انصاف، حقیقی امن اور حقیقی انسانیت کی ضمانت دیتا ہے۔اب فیصلہ دنیا کے ہاتھ میں ہے—وہ فریب کے اندھیروں میں بھٹکتی رہے یا حق کے اس روشن چراغ کو تھام لے جس میں پوری انسانیت کی نجات پوشیدہ ہے۔ ورنہ تاریخ کا پہیہ ظالموں کو ہمیشہ کی طرح روند دے گا—اور اس بار شاید انسانیت کو سنبھلنے کا موقع بھی نہ ملے۔یہ لمحہ فیصلہ کن ہے…یا تو انسانیت جاگ جائے گی، یا پھر ہمیشہ کے لیے سو جائے گی۔ فاعتبروا یااولی الابصار

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں