7

کیمبرج اے لیول ریاضی کا پیپر مبینہ طور پر لیک، محنتی طلبہ شدید پریشان، آئی بی سی سی نے رپورٹ طلب کر لی

اسلام آباد (30 اپریل 2026): پاکستان میں کیمبرج اے لیول کے ریاضی (Mathematics 9709) کے پرچے کے مبینہ طور پر لیک ہونے کی خبروں نے محنتی طلبہ اور ان کے والدین کو شدید تشویش اور پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے، جس کے بعد امتحانی نظام کی شفافیت پر ایک بار پھر سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔

طلبہ اور والدین کا ردعمل:

سوشل میڈیا پر والدین اور اساتذہ کی جانب سے شدید ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ایک طالب علم کے والد نے سوشل میڈیا پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ “ریاضی کا امتحان دینے والے بہت سے اے لیول طلبہ خود کو دھوکہ دہی کا شکار محسوس کر رہے ہیں۔ پرچہ مبینہ طور پر لیک ہو چکا تھا۔ کیمبرج جیسا معتبر ادارہ امتحانات کی سالمیت برقرار رکھنے میں ناکام رہا ہے۔”

اسلام آباد کے ایک نجی اسکول کی ٹیچر نے والدین کے گروپس میں اپنے محنتی طلبہ کے لیے غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے لکھا: “میں بیان نہیں کر سکتی کہ میں اس وقت کتنی غصے میں ہوں۔ میرے پاس اپنے محنتی طلبہ کے لیے الفاظ نہیں ہیں۔ میرا دل لاکھوں ٹکڑوں میں ٹوٹ گیا ہے۔ میں خود کو دلاسا دے رہی تھی کہ یہ سچ نہیں ہو سکتا، پورا پرچہ لیک ہونا مضحکہ خیز ہے، لیکن ایسا ہو چکا ہے۔”

آئی بی سی سی کا اقدام:

اس مبینہ پیپر لیک کا نوٹس لیتے ہوئے انٹر بورڈ آف کوآرڈینیشن کمیشن (IBCC) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر غلام علی ملاح نے کیمبرج سے رپورٹ طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

‘ڈان’ سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر غلام علی ملاح نے کہا: “آج ہم نے سوشل میڈیا پر مبینہ پیپر لیک کے بارے میں طلبہ اور والدین کی شکایات دیکھیں۔ اس لیے ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ جمعرات کو کیمبرج کو ایک خط لکھ کر اس مسئلے پر ان کا نقطہ نظر حاصل کیا جائے۔ میں طلبہ کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم ان کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائیں گے۔”

کیمبرج کا مؤقف:

مسئلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کیمبرج کے ترجمان نے کہا ہے کہ “ہم سوالیہ پرچے کے مبینہ لیک ہونے کی خبروں سے آگاہ ہیں۔ ہم ایسی رپورٹوں کی مکمل تحقیقات کرتے ہیں اور اگر ضرورت پڑی تو جون 2026 کی امتحانی سیریز ختم ہونے کے دوران یا اس کے بعد مراکز کو مزید معلومات فراہم کریں گے۔”

گزشتہ سال کا پس منظر:

واضح رہے کہ گزشتہ سال بھی پانچ پرچوں کے مبینہ لیک ہونے پر طلبہ اور والدین میں شدید تشویش پائی گئی تھی۔ والدین کا کہنا تھا کہ امتحانات شروع ہونے سے چند گھنٹے قبل پرچے آن لائن رقم کے عوض دستیاب تھے، جس سے قابل طلبہ کا مستقبل داؤ پر لگ گیا تھا۔ یہ معاملہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی میں اٹھایا گیا تھا، جس کی ذیلی کمیٹی نے تحقیقات کے بعد تصدیق کی تھی کہ کئی پرچے لیک ہوئے تھے۔ کیمبرج نے گزشتہ سال اپنے بیان میں “تین پرچوں کے جزوی لیک” کا اعتراف کیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں