اسلام آباد (اکنامک ڈیسک | 11 مئی 2026): وفاقی حکومت آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار طبقے پر انکم ٹیکس کا بوجھ کم کرنے پر غور کر رہی ہے، جبکہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ نہ کرنے کی تجویز زیرِ بحث ہے۔ اس اقدام کا مقصد سرکاری اور نجی دونوں شعبوں کے ملازمین کو یکساں مالی ریلیف فراہم کرنا ہے۔
ٹیکس ریلیف اور معاشی منطق
ذرائع کے مطابق وزیر خزانہ محمد اورنگزیب تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس کی شرح کم کرنے اور قابلِ ٹیکس آمدنی کی حد (Threshold) بڑھانے کے حق میں ہیں۔
ٹیکس میں حصہ: موجودہ مالی سال کے پہلے تین سہ ماہیوں میں تنخواہ دار طبقے نے 425 ارب روپے سے زائد ٹیکس ادا کیا ہے۔
موازنہ: یہ رقم رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے 200 ارب روپے کے حصے سے دوگنا سے بھی زیادہ ہے اور ہول سیلرز، ریٹیلرز اور ایکسپورٹرز کے مجموعی ریونیو سے بھی بڑھ کر ہے۔
تنخواہوں میں اضافہ کیوں نہیں؟: حکام کا کہنا ہے کہ اگر تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے تو ملازمین زیادہ ٹیکس بریکٹ میں چلے جاتے ہیں، جس سے ان کی “ٹیک ہوم پے” (Net Pay) میں کوئی خاص فرق نہیں پڑتا۔ اس کے برعکس، ٹیکس میں کمی سے ملازمین کو براہِ راست زیادہ فائدہ پہنچے گا۔
سرکاری بمقابلہ نجی شعبہ
گزشتہ چار سالوں میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 60 فیصد سے زائد اضافہ ہو چکا ہے، جبکہ مہنگائی اور کم معاشی نمو کی وجہ سے نجی شعبے کی اجرتیں جمود کا شکار رہی ہیں۔ حکومت اس فرق کو ختم کرنے کے لیے ٹیکس پالیسی میں تبدیلیوں پر کام کر رہی ہے۔
PSDP ملازمین کے لیے خوشخبری
ملازمین کی ایک مخصوص کیٹیگری کے لیے پہلے سے منظور شدہ اضافہ برقرار رہے گا:
پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (PSDP) کے تحت چلنے والے منصوبوں کے ملازمین کی کم از کم تنخواہ میں 20 سے 35 فیصد اضافہ منظور ہو چکا ہے۔
یہ اضافہ یکم جولائی 2026 سے لاگو ہوگا کیونکہ ان ملازمین کے پے پیکجز میں گزشتہ چار سالوں سے کوئی تبدیلی نہیں کی گئی تھی۔
آئی ایم ایف (IMF) کے ساتھ مشاورت
بجٹ کے حوالے سے حتمی فیصلے 15 مئی سے شروع ہونے والے آئی ایم ایف مشن کے مذاکرات میں کیے جائیں گے۔ ان مذاکرات میں انکم ٹیکس، تنخواہوں اور ترقیاتی اخراجات (Development Spending) پر تفصیلی بات چیت ہوگی۔