4

چین میں ‘دو سروں والے’ سانپ کی نئی نسل دریافت، دم سے شکاریوں کو چکمہ دینے کا انوکھا طریقہ

بیجنگ (سائنس ڈیسک | 12 مئی 2026): چینی محققین نے سانپ کی ایک نئی قسم دریافت کی ہے جو شکاریوں سے بچنے کے لیے اپنی دم کو دوسرے سر کے طور پر استعمال کرتی ہے۔ اس سانپ کو اس کی اس انوکھی چال کی وجہ سے “دو سروں والا ریپٹائل” کہا جا رہا ہے۔

انوکھا دفاعی طریقہ

اس سانپ کو ‘گوانگشی ریڈ اسنیک’ (Guangxi Reed Snake) کا نام دیا گیا ہے۔ محققین کے مطابق:

سر کی نقل: یہ سانپ اپنی موٹی اور گول دم کو ہوا میں لہرا کر دوسرے سر کی نقل کرتا ہے تاکہ شکاری الجھن کا شکار ہو جائیں۔

جسمانی نشانات: اس کی دم پر بھی وہی نشانات موجود ہیں جو اس کے سر پر ہوتے ہیں۔

دفاعی پوزیشن: خوفزدہ ہونے پر یہ سانپ اپنے جسم کو انگریزی کے ہندسے ‘8’ کی شکل میں لپیٹ لیتا ہے یا اپنی دم اٹھا کر اسے سر کے طور پر پیش کرتا ہے۔

جسمانی خصوصیات اور مسکن

سائنسی جریدے ‘Zoosystematics and Evolution’ میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق:

سائنسی نام: اس کا سائنسی نام Calamaria incredibilis رکھا گیا ہے۔

جسامت: یہ غیر زہریلا سانپ تقریباً 8 انچ لمبا ہوتا ہے۔

ظاہری شکل: اس کے بھورے رنگ کے ترازو (Scales) اور پشت پر سات گہری دھاریاں ہوتی ہیں۔

نشو و نما: یہ زیادہ تر رات کے وقت متحرک ہوتا ہے اور جنگل میں پتوں، چٹانوں کی دراڑوں اور مٹی میں چھپا رہتا ہے۔ اس کی خوراک زیادہ تر زمینی کیڑے (Earthworms) ہوتے ہیں۔

دریافت کی اہمیت

یہ دریافت جنوبی چین کے گوانگشی صوبے میں واقع ‘ہواپنگ نیشنل نیچر ریزرو’ (Huaping National Nature Reserve) میں ایک حیاتیاتی سروے کے دوران ہوئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس دریافت سے گوانگشی کے علاقے کی حیاتیاتی تنوع (Biodiversity) اور قدرت کے تحفظ کی اہمیت مزید اجاگر ہوتی ہے۔ یاد رہے کہ 2026 میں ہی محققین نے کمبوڈیا کی غاروں سے بھی سانپوں اور دیگر رینگنے والے جانوروں کی 11 نئی اقسام دریافت کی تھیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں