ڈیلی دومیل نیوز،مظفرآباد : عدالت العالیہ آزاد جموں و کشمیر نے حلقہ ایل اے 30 (حلقہ نمبر 04) میں تعلیمی پیکج کے نام پر اسکولوں کی بندش اور آسامیوں کی دوسرے علاقوں میں منتقلی کے خلاف بڑا اور تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے عارضی حکمِ امتناعی جاری کر دیا ہے۔
معزز عدالت نے واضح کیا ہے کہ تعلیمی اداروں کو نقصان پہنچانے یا بند کرنے کے بجائے حکومت نئے ادارے قائم کرے اور اساتذہ کی نئی آسامیاں تخلیق کرے۔
تعلیمی اداروں کو بچانے کے لیے آئینی رٹ پٹیشن:
حلقہ چار کے رہائشیوں کی جانب سے آزاد حکومت اور دیگر متعلقہ اداروں کے خلاف ہائی کورٹ میں ایک اہم آئینی رٹ دائر کی گئی تھی، جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ تعلیمی پیکج کے تحت ان کے حلقے سے اساتذہ اور ملازمین کی آسامیاں منتقل کی جا رہی ہیں، جس کے باعث مقامی اسکول عملاً بند ہونے اور بچوں کا تعلیمی مستقبل تاریک ہونے کا شدید خطرہ ہے۔ مقدمے کی پیروی سپریم کورٹ کے سینئر ایڈووکیٹ ثاقب احمد عباسی اور ہارون عباسی ایڈووکیٹ نے کی۔