ڈیلی دومیل نیوز،گلگت: گلگت بلتستان میں اتوار (7 جون) کو ہونے والے عام انتخابات کے لیے انتخابی مہم اور تیاریاں عروج پر پہنچ چکی ہیں، جہاں 10 اضلاع کی 24 جنرل نشستوں پر میدان سجنے جا رہا ہے۔ تاہم، اس انتخابی معرکے میں جہاں سیاسی جماعتوں کے درمیان لفظی جنگ تیز ہو گئی ہے، وہاں پہلی بار ووٹ ڈالنے والے نوجوان روایتی وعدوں سے مایوس نظر آتے ہیں۔
پاکستان کے زیر انتظام خطے گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے 20 سالہ کاظم نقوی، جو پہلی مرتبہ اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے جا رہے ہیں، کا کہنا ہے کہ ہمارے علاقے میں پینے کے پانی، روزگار، صحت اور بنیادی انفراسٹرکچر کی شدید کمی ہے۔ انہوں نے ماضی کی حکومتوں کی کارکردگی پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں سے روزگار کے وعدے تو بہت کیے گئے لیکن وہ کبھی پورے نہیں ہو سکے، اور گذشتہ دو انتخابات کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ عملی اقدامات کے بجائے صرف زبانی جمع خرچ کیا گیا۔