3

سپریم کورٹ آزاد کشمیر کا تاریخی فیصلہ: گریڈ 1 تا 15 کی بھرتیوں پر پابندی ختم، اوپن میرٹ بحال

مظفرآباد (23 اپریل 2026): سپریم کورٹ آف آزاد جموں و کشمیر کے فل بینچ نے سرکاری ملازمتوں اور تعلیمی اداروں میں داخلوں کے حوالے سے ہائی کورٹ کے اوپن میرٹ کے فیصلے کو بحال رکھتے ہوئے تمام محکمہ جات میں گریڈ 1 تا 15 کی تقرریوں پر عائد حکم امتناعی (Stay Order) ختم کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

عدالتی بینچ اور سماعت کی تفصیلات

اس اہم کیس کی سماعت چیف جسٹس آزاد جموں و کشمیر جسٹس راجہ سعید اکرم خان، سینئر جج جسٹس رضا علی خان اور جسٹس خالد رشید پر مشتمل فل بینچ نے کی۔

عدالت نے حکومت کی جانب سے فوری سماعت کی استدعا کو منظور کرتے ہوئے کیس کی تاریخ 30 اپریل سے تبدیل کر کے آج مقرر کی تھی۔ یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے ایک عبوری حکم کے ذریعے ان بھرتیوں پر پابندی عائد کر رکھی تھی، جس کی وجہ سے ریاست بھر میں سرکاری ملازمتوں کا عمل معطل تھا۔

کیس کا پس منظر اور کوٹہ سسٹم کا خاتمہ

یہ قانونی معرکہ ہائی کورٹ آزاد کشمیر کے 16 اگست 2025 کے اس فیصلے سے شروع ہوا تھا جس میں سرکاری ملازمتوں کے لیے رائج قدیم کوٹہ سسٹم کو ختم کر کے تمام بھرتیاں اوپن میرٹ پر کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔

ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں مجموعی طور پر 17 اپیلیں دائر کی گئی تھیں۔

اپیل کنندگان کا مؤقف تھا کہ کوٹہ سسٹم ختم ہونے سے پسماندہ علاقوں اور مخصوص طبقات کے حقوق متاثر ہو سکتے ہیں۔

تاہم، سپریم کورٹ نے ابتدائی دلائل کے بعد ہائی کورٹ کے فیصلے کو درست قرار دیتے ہوئے میرٹ کی بالادستی قائم رکھی ہے۔

عدالتی حکم کا خلاصہ: “تمام سرکاری محکموں میں گریڈ 1 تا 15 کی آسامیوں پر بھرتیوں کے خلاف جاری حکم امتناعی ختم کیا جاتا ہے۔ اب تمام تقرریاں ہائی کورٹ کے وضع کردہ اوپن میرٹ کے اصول کے تحت کی جا سکیں گی۔”

فیصلے کے دور رس اثرات

اس فیصلے کے بعد آزاد کشمیر کے تمام سرکاری محکموں میں رکا ہوا بھرتیوں کا عمل فوری طور پر بحال ہو جائے گا۔ سیاسی و سماجی حلقوں نے اسے انصاف کی فتح قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے حقدار اور باصلاحیت نوجوانوں کو آگے آنے کا موقع ملے گا اور اقرباء پروری کا خاتمہ ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں