ڈیلی دومیل نیوز.عنوان :وہ جو کھبی بھولا ہی نہیں اج پھر بے حساب یاد آیا
تحریر :راجہ امجد حسین
زبان ومقاں میں قید انسان لاکھ چائے اپنے جسم روح کو باہر نہیں نکال سکتا۔ منزل دارالبقا کی طرف سے دارالفنا کے مکینوں کی خواہشات احساسات اہداف تعلق محبتیں اس ایک لمحے کل کل نفس ذائقۃ الموت کے تربیت دیے گئے پروگرام کے ساتھ ختم ہو جاتی ہیں۔خلق الانسان سے من حلق سے ذائقہ الموت کے یادگار لمحات زندگی کی رعنائیاں محفل کی مستی چاشنی جذبات کی جدت و تشفی ہر انسان کا اثاثہ ہوتے ہیں۔
جب کوئی اپنا اس محفل سے الوداع ہو جائے۔اور وہ بھی چپ چاپ ہنستے کھیلتے ہوئے دبے قدموں اچانک داغ جدائی دے جائے تو گھر مکان کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ جہاں مکین ہوتے ہوئے بھی نہیں ہوتے 13 سال قبل 25 جون 2012 کو چیف ایڈیٹر و بانی روز نامہ دو میل مظفراباد حاجی راجہ ظفر حسین خان مجھ سمیت خاندان عزیز و اقارب دوست احباب کو الو داع کہہ گئے اج 13 برس بیت گئے لیکن قیامت کا وہ لمحہ وہ دن اج بھی مجھ سمیت میرے خاندان پر قیامت ہے۔ ان کی یادیں انکی باتیں مسکراہٹیں نرم و شگفتہ دھیمے لہجے میں شائستگی کے ساتھ گفتگو وہ سب میرے اور میرے خاندان کا قیمتی اثاثہ ہیں مگر دردناک دل سلگتا ہے اثاثہ چھین گیا اب وہ یادیں دل کی لو فراز پر وہ مسکراہٹیں دل کی دھڑکنوں کے ساتھ وہ یادیں وہ باتیں وہ شاستگی وہ پیار ان کی بازگشت کیا وہ سب کچھ ایک سوال ہے؟ اپنے دل سے جواب ملتا ہے۔۔۔۔۔۔۔ کیوں اس کیوں کے اندر بھی فلسفہ ہے وہی فلسفہ پیدائش سے لے کر موت کا۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہی خلق الانسان من حلق۔۔۔ کل نفس ذائقہ الموت کا۔۔۔۔۔ وہی دار الفنا سے دارالبقا تک کا فلسفہ۔۔۔۔ وہی مٹی سے مٹی تک کا فلسفہ سو کسی سے کیا شکوہ اس غم سے گزرنا ہر انسان کے مقدر میں لکھ دیا گیا ہے اور ہر انسان نے اس سے کسی نہ کسی طرح گزرنا ہے۔۔۔۔جو ائے گا وہ جائے گا اور ضرور جائے گا۔اس زمین پر قدم بکھیرے ہوئے قبرستان ان کے اندر ترتیب سے بنی ہوئی قبریں اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ کوئی بھی ناگزیر نہیں جو بھی ایا وہ ضرور جائے گا یہ سارے قبرستان ان مسافروں سے بھرے ہوئے ہیں جو دنیا میں ائے اپنے اپنے حصے کا کام کیا اور اپنے سفر طے کیے اور اپنی حقیقی منزل کی طرف روانہ ہوگے۔فرشتہ اجل ایک پل کسی کو نہیں دیتا ایک لمحہ سانس بھرا اور دوسرے لمحے سانس بکھیر گئی روح اور جسم کا رشتہ ٹوٹ گیا اور انسان ایک پل میں اپنے اہل خانہ اپنے پیاروں اپنے خاندان اپنے دوست احباب سے بچھڑ گیا مگر انسان کا کردار اس کا اخلاق لوگوں کی خدمت کا سفر ہمیشہ تاریخ بن جاتی ہے جیسے ہمیشہ یاد رکھا جاتا ہے حاجی راجہ ظفر حسین کا کردار اخلاق اور خدمت کا سفر بھی باکمال تھا۔ زندگی شرافت دیانت اصول پسندی کا عملی نمونہ تھی کبھی کسی کو نقصان نہیں پہنچایا کبھی کسی کی دل ازاری نہیں کی نامساعد سے نا مساعد حالات میں بھی کبھی صبر و استقامت کو نہ چھوڑا اور نہ کبھی کسی لمحے پر عزت وقار خودداری پر سمجھوتہ کیا ان کی زندگی میرے لیے اور میرے خاندان کیلئے قابل تلقید اثاثہ ان کے چاہنے والے دوست احباب روزنامہ دومیل کے قارئین دو میل نیوز ڈیجیٹل ڈیجیٹل کے ناظرین سے التماس ہے کہ وہ درود شریف سورت فاتحہ اور صورت اخلاصِ پڑھ کر راجہ ظفر محرم کی بلندی درجات کے لیے اج ان کی تیرہویں برسی کے موقع پر ایصال ثواب کر دیں میں بھی اپ کے ساتھ دعا میں شامل ہوں۔اللّٰہ پاک راجہ ظفر مرحوم کے درجات کو بلند فرمائے آمین۔جس کی محبت کا میری زندگی کا کوئی حساب نہیں کوئی گنتی نہیں کوئی کریڈٹ نہیں جو کبھی بھولا ہی نہیں وہ شخص اج پھر بے حساب یاد ایا۔
88