23

ہم نے آگ کو کھیل سمجھ لیا ہے،تحریر:نسیم شاہد

ڈیلی دومیل نیوز،کراچی میں سینکڑوں دکانوں پر مشتمل گل پلازہ جل گیا، جلا بھی ایسا کہ اس کی عمارت تک زمین بوس ہو گئی۔ جانی نقصان کا صرف اندازہ ہی لگایا جا سکتا ہے کیونکہ لاپتہ افراد کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے۔ میں اس پر کالم لکھ رہا تھا تو مجھے ناصر محمود شیخ نے جو حادثات کے اعدادوشمار پر نظر رکھتے ہیں۔ 1122پنجاب کا ایک ڈیٹا بھجوایا۔ یہ ڈیٹا 2025ء کے اعدادوشمار پر مشتمل ہے جن کے مطابق ایک سال کے عرصے میں آگ لگنے کے 28829 واقعات ہوئے، جن میں ایک سو افراد جان سے گئے اور اربوں روپے کا نقصان ہوا۔ ان جلنے کے واقعات میں زخمی ہونے والوں کی تعداد بارہ سو سے زائد ہے۔ پنجاب واحد صوبہ ہے جہاں 1122 تمام اعدادوشمار نہ صرف جمع کرتا ہے بلکہ ہر ماہ انہیں سامنے بھی لاتا ہے، جبکہ باقی تینوں صوبوں میں 1122زحمت نہیں کرتی۔ سندھ میں صرف کراچی کے واقعات کو جمع کرکے رپورٹ بنائی جاتی ہے، باقی سندھ میں کیا ہوتا ہے، کسی کو کچھ پتہ نہیں۔ اب صوبہ پنجاب میں تقریباً 29ہزار واقعات کا رونما ہونا اس امر کی دلیل ہے کہ آگ لگنے کے مواقع ہمارے ہاں قدم قدم پر پیدا ہوتے ہیں۔ کہیں دکانیں جلتی ہیں کہیں، گھروں میں آگ لگتی ہے، کہیں بسیں جل جاتی ہیں، کہیں شارٹ سرکٹ، کہیں سلنڈر پھٹنے کے واقعات اور کہیں بے احتیاطی اس آگ کا سبب بن جاتی ہے۔ دنیا میں شاید ہی آگ لگنے کے اتنے واقعات ہوتے ہوں جتنے پاکستان میں ہوتے ہیں۔ سب سے خطرناک مقامات شاپنگ مالز اور پلازے ہیں، جہاں ہروقت لوگوں کا ہجوم رہتا ہے۔ لاہور گلبرگ میں موبائل مارکیٹ کئی بار آگ کی لپیٹ میں آ چکی ہے۔ ایسے پے درپے واقعات کے باوجود حکومت کی سطح پر ایک واضح بے گانگی نظر آتی ہے۔ اسے خدا کی رضا سمجھ لیا گیا ہے، حالانکہ یہ سراسر انسانی غفلت کا نتیجہ ہے۔ آپ معاملات پر غور کریں تو آپ کو ہر جگہ کھرا کرپشن کی طرف جاتا نظرآئے گا۔ قوانین موجود ہیں مگر ان پر عملدرآمد نہیں ہوتا، کیونکہ ذمہ داروں کی آنکھیں بند ہو جاتی ہیں۔ حفاظتی انتظامات جو دنیا بھر میں پبلک مقامات کیلئے بنیادی تقاضا سمجھے جاتے ہیں،ہمارے ہاں کسی شمار میں نہیں آتے۔ تنگ و تاریک مارکیٹیں اور پلازے درحقیقت چلتے پھرتے موت کے کنویں ہیں، آگ لگنے کی صورت میں وہ ایک قید خانہ بن جاتے ہیں، جس سے نکلنے کا کوئی رستہ ہی موجود نہیں ہوتا۔ سب سے اذیت ناک لمحہ وہ ہوتا ہے جب کسی کی عمر بھر کی پونجی شعلوں کی نذر ہورہی ہوتی ہے۔ وہ بے بسی کی تصویر بنا یہ سارا منظر دیکھتا ہے،صبح کے امیر رات کے غریب بن جاتے ہیں۔ رات کو بھری پری دکانیں چھوڑ کے جانیوالے صبح کے وقت امداد کے منتظر ہوتے ہیں۔

رانا ثنا اللہ کی مذاکرات کی بات پر اپوزیشن لیڈر اور قیادت کو مثبت جواب دینا چاہیے، پی ٹی آئی رہنما علی محمد خان
اب جہاں تک کراچی کے گل پلازہ کا تعلق ہے تو اس کے بارے میں کہا جاتا ہے، منی کراچی تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے جلنے کو کراچی کے جلنے سے تعبیر کیاجا رہا ہے۔ اس کی آگ پر 33گھنٹوں بعد قابو پایا جا سکا۔ یعنی تقریباً ڈیڑھ دن یہاں آگ حکمران رہی۔ سندھ کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ اور میئر کراچی مرتضیٰ وہاب 24گھنٹے بعد موقع پر پہنچے اور انہیں عوامی احتجاج کا سامنا کرنا پڑا۔ آگ کیسے لگی اس کا تعین تو نہیں ہو سکا، البتہ یہ حقیقت ضرور آشکار ہوگئی کہ بلدیہ کراچی کے پاس آگ بجھانے کی جدید سہولتیں ہی موجود نہیں، اس پرانے دقیانوسی طریقے سے آگ بجھانے کی کوشش کی جاتی رہی جو آج کراچی کی ضرورتیں پوری کرہی نہیں سکتا۔ عینی شاہدین اور پلازے کے دکانداروں کی باتیں سن کر اندازہ ہو جاتا ہے کہ ساڑھے تین کروڑ آبادی کے اس شہر میں کوئی ڈھنگ کا سسٹم ہی نہیں پھر یہ بھی دیکھا گیا کہ بلدیہ اور کے ڈی اے کی گاڑیاں آئیں تو کسی میں پانی نہیں تھا اور کسی کے اندر وہ آلات موجود نہیں تھے جو ایسے واقع پر کام آتے ہیں۔ آگ بجھانے والا عملہ کوئی فولاد کا بنا نہیں ہوتا اسے سیفٹی آلات اور پہناوا فراہم کیا جاتا ہے۔ گل پلازہ کے واقعہ میں ایک چیز نوٹ کی گئی کہ فائر بریگیڈ یا 1122کا عملہ پلازے کے اندر نہیں جا رہا تھا، کیونکہ ان کے پاس فائر فائٹر کی مکمل کٹ موجود نہ تھی۔ انہوں نے عام سے جوتے پہنے ہوئے تھے اور جسم کو آگ سے بچانے والے سیفٹی ڈریس بھی نہیں تھے۔ ایسے میں بھلا آگ کو کوئی کیسے روک سکتا۔ سوال یہ نہیں کہ ریسکیو کی گاڑیاں بروقت پہنچ گئیں، جیسا کہ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کہتے رہے تھے بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ان کے پاس اتنے بڑے پلازہ میں لگی آگ کو سرد کرنے کیلئے جدید آلات،آگ بجھانے کے کیمیکل اور آگ میں پھنسے افراد کو نکالنے کیلئے عملے کے پاس آگ پروف سیفٹی کٹ تھی؟ جو کچھ 33گھنٹے میں وہاں ہوتا رہا اس سے تو یہی لگتا ہے سندھ خصوصاً کراچی اس معاملے میں تہی دست ہے۔ سندھ حکومت نے ایسی خریداری پر کبھی توجہ ہی نہیں دی۔ وہی بلدیہ اور کے ایم سی نیز کے ڈی اے کی پرانی گاڑیاں، پرانا عملہ، آگ بجھانے کا دقیانوسی طریقہء کار،33گھنٹوں میں تو سب کچھ جل کر راکھ ہو جاتا ہے اور آگ خود بخود بجھ جاتی ہے پھر یہ فخریہ دعوے کیوں کہ ہم نے بالآخر آگ پر قابو پا لیا۔
کراچی کا شمار دنیا کے بڑے شہروں میں ہوتا ہے۔ یہ پاکستان کا بھی سب سے بڑا شہر ہے، مگر اب اس شہر کا یہ حال ہے کہ ایک عام شخص بھی جو کراچی کا مکین ہے غمزہ ہو کر کہتا ہے کراچی کو برباد کر دیا گیا ہے۔ ایم اے جناح روڈ جیسی مرکزی شاہراہ تک کھنڈر بن چکی ہے۔ صاف پانی ناپید ہے۔ علاج معالجے کی سہولتیں ندارد ہیں۔ سب سے بڑی بے حسی یہ ہے کہ شہر کو کسی آفت سے محفوظ رکھنے کیلئے موثر ادارے موجود ہیں نہ انتظامات ہیں۔ یہ آج نہیں ہمیشہ سے ہواہے کہ کراچی میں کسی جگہ آگ لگتی ہے تو بچتا کچھ نہیں۔ پہلے بھی کئی فیکٹریاں جلیں، مزدور بھی جل گئے مگر صورت حال کو بہتر بنانے پر توجہ نہیں دی گئی۔ جتنا بڑا شہر ہے، اس میں آتشزدگی کے واقعات ایک معمول بن جاتے ہیں۔ اصل کام ایسے واقعات و سانحات میں بروقت آگ پر قابو پانا اور انسانی جانوں کو بچانا ہے۔ اب لوگ کہہ رہے ہیں کہ سندھ حکومت عوام کا پیسہ نچوڑتی ہے مگر ان کی بہتری پر خرچ نہیں کرتی۔ سوال یہ ہے کہ آپ واویلا تو ہر وقت کرتے ہیں کہ کراچی پورے ملک سے زیادہ ٹیکس دیتا ہے مگر آپ اس ٹیکس کو عوامی فلاح اور ان کی حفاظت پر کیوں خرچ نہیں کرتے۔ کم از کم آگ پر قابو پانے والے نظام کو ہی نیویارک یا لندن کے ہم پلہ بنا دیں، تاکہ 33منٹ میں بجھنے والی آگ کو بجھانے میں 33گھنٹے نہ لگیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں