واشنگٹن — 3 فروری 2026 امریمی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گزشتہ سال دستخط کیے گئے “ایپسٹین فائلز ٹرانسپیرنسی ایکٹ” کے تحت، امریکی وزارتِ انصاف نے جمعہ کے روز جیفری ایپسٹین کیس سے جڑی 3.5 ملین دستاویزات، 2,000 ویڈیوز اور 180,000 تصاویر جاری کر دی ہیں۔
نمایاں نام اور انکشافات
ان دستاویزات میں دنیا کی بااثر ترین شخصیات کے نام اور ان کے ایپسٹین کے ساتھ تعلقات کی نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں:
ڈونلڈ ٹرمپ: صدر ٹرمپ کا نام ان فائلز میں 1,000 سے زائد مرتبہ آیا ہے۔ ان میں ایف بی آئی کو موصول ہونے والی ایسی تجاویز اور ٹپس شامل ہیں جن میں ان پر غیر تصدیق شدہ الزامات لگائے گئے تھے۔ تاہم، وزارتِ انصاف نے واضح کیا ہے کہ بہت سے الزامات “جعلی یا سنسنی خیز” ہو سکتے ہیں۔
ایلون مسک: نئی ای میلز سے پتا چلتا ہے کہ ایلون مسک اور ایپسٹین کے درمیان پہلے سے معلوم تعلقات سے کہیں زیادہ بات چیت ہوئی تھی۔ 2012 اور 2013 کی ای میلز میں مسک کے ایپسٹین کے نجی جزیرے پر جانے کے منصوبوں کا ذکر ہے، حالانکہ مسک نے ہمیشہ جزیرے پر جانے کی تردید کی ہے۔
بل گیٹس: ان فائلز میں موجود ڈرافٹ ای میلز میں الزام لگایا گیا ہے کہ ایپسٹین بل گیٹس کے معاشقوں کے بارے میں جانتا تھا اور ان کے درمیان “منشیات اور خواتین” کے حوالے سے مبینہ گفتگو ہوئی تھی۔ بل گیٹس کے ترجمان نے ان الزامات کو “مکمل طور پر غلط” قرار دیا ہے۔
سابق شہزادہ اینڈریو: برطانوی شاہی خاندان کے سابق رکن کی نئی تصاویر سامنے آئی ہیں جن میں وہ ایک نامعلوم خاتون کے ساتھ نازیبا حالت میں دیکھے جا سکتے ہیں۔
سرکاری غفلت اور متاثرین کی تشویش
دستاویزات کے جاری ہونے کے فوراً بعد، پیر کے روز وزارتِ انصاف کو ہزاروں دستاویزات عارضی طور پر واپس لینا پڑیں۔ اس کی وجہ “ناقص ایڈیٹنگ” (Sloppy Redactions) تھی، جس کی وجہ سے کئی متاثرہ خواتین کے نام اور نجی تصاویر (بشمول برہنہ تصاویر) غلطی سے پبلک ہو گئیں۔ متاثرین کے وکلاء نے اس پر شدید احتجاج کرتے ہوئے اسے “خوفناک غفلت” قرار دیا ہے۔