ڈیلی دومیل نیوز: PTI کے بانی قائد عمران خان کو اقتدار سے محروم ہوئے تین سال ہونے کو ہیں وزیر ِ اعظم تو میاں شہبازشریف ہیں لیکن کمال یہ ہے کہ سیاست کا مرکزو محور آج بھی عمران خان ہی ہیں انہوں نے اڈیالہ جیل میں ہونے کے باوجود سہیل آفریدی کو وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ بنادیا بلکہ محمودخان اچکزئی کو پارلیمنٹ میں اپوزیشن لیڈ ر اور راجہ ناصر عباس کو سینٹ میں اپوزیشن لیڈربنوادیا حالانکہ حکومت اور کچھ مقتدر قوتیں ایسا نہیں چاہتی تھیں بہرحال کچھ طاقتیں جس انداز سے حالات کو چلانا چاہتیں تھیں یوں ان کے دل کے ارمان آنسوؤں میں بہہ گئے کا مصرعہ ان پر صادق آگیا اب سہیل آفریدی وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ نے کہا ہے کہ عمران خان کو وزارت عظمیٰ سے صرف اس لیے ہٹایا گیا کہ وہ ایک ملک کو پسند نہیں تھے، عمران خان کے سوا کسی اور میں ایبسلوٹلی ناٹ کہنے کی جرأت نہیں، کیونکہ سب کو اپنے ذاتی مفادات عزیز ہیں ان کا کہناتھا کہ میں فارم 47 کے مسلط شدہ کرپٹ ٹولے کو سیاست اور حکمرانی دونوں میدانوں میں عبرت ناک شکست دے کر دکھاؤں گا ملک کے حالات سب کے سامنے ہیں، دنیا چاند پر پہنچ گئی اور بدقسمتی سے ہم امن کی بھیک مانگ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بند کمروں میں بیرونی سازش کے ذریعے ایک منتخب وزیراعظم کو ہٹایا گیا، صرف اس لیے کہ وہ ایک بیرونی ملک کو پسند نہیں تھا، عمران خان نے کافروں کی سرزمین پر مسلم اْمہ کے لیے آواز اٹھائی اور یہی بات ان کے لیے ناقابلِ برداشت تھی، سہیل آفریدی نے الزام لگایا کہ تیراہ کے لوگوں کو شدید برفباری میں زبردستی گھروں سے نکالا گیا اور زبردستی نقل مکانی پر مجبور کیا گیا، کچھ وزراء یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ تیراہ کے لوگ برفباری کی وجہ سے نقل مکانی کر رہے ہیں، ایک طرف تیراہ کے لوگ پاکستان کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں، دوسری طرف بے شرم سیاستدان ان کا مذاق اڑا رہے ہیں، کوئی بھی شخص اپنی مرضی سے اپنا گھر نہیں چھوڑتا، ان لوگوں کو زبردستی نکالا گیا اور انہیں کوئی مالی مدد بھی فراہم نہیں کی گئی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ سیاسی مسخروں کے مفادات پاکستان سے نہیں جڑے ان کے مفادات صرف لوٹ مار سے وابستہ ہیں، پاکستانی عوام کا پیسہ لوٹ کر بیرونِ ملک بھاگ جانا ہی ان کا مقصد ہے، جو بھی پاکستان میں ان کے سامنے کھڑا ہوتا ہے، یہ لوگ اس کا ساتھ برا حشر کرتے ہیں لیکن میں نہیں جھکوں گا، پوری دنیا کی طاقت میرے ضمیر کا سودا نہیں کر سکتی، میں عوام کی مدد سے ان کا مقابلہ کروں گا، جو بھی میرے صوبے کے مفاد میں نہیں ہوگا، میں اس کی ہر پالیسی کے خلاف کھڑا ہوں گا۔ سہیل آفریدی نے کہا کہ اگر کسی بیرونی جارحیت کا سامنا ہوا تو فوج سے پہلے پختون قون ان کا مقابلہ کرے گی لیکن واضح ہے کہ ہم آئندہ کسی بیرونی جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے ایک طرف تو یہ باتیں ہورہی ہیں دوسری طرف سیاسی مبصرین کا کہناہے کہ اہل ِ خانہ اور رہنماؤں کی عمران خان سے ملاقاتوں کا انحصار8 فروری کے روئیے پر ہوگاکیونکہ بسنت اور اسٹریٹ موومنٹ کے دوران حکومت کو دوتین اور چیلنجز کا سامناہے بسنت کے دوران PTIکے کارکن اپنے بانی قائد عمران خان اور پارٹی جھنڈے پر بنی پتنگیں اڑا کر ماحول خراب کرسکتے ہیں یعنی پتنگ کوئی اڑائے گا اور بو کاٹا کے بعد جو سیاسی پتنگ پکڑے گا جس گھریا شخص سے وہ پتنگ برآمدہوگی پکڑا وہ جائے گایعنی کرے کوئی بھرے کوئی اور ویسے حکومت نے بھی پورا بندوبست کررکھاہے بسنت کو سیاسی بنانے والوں کو عبرت کا نشان بنادیا جائے گا ویسے 25سال بعد حکومت نے بسنت منانے کی اجازت دی ہے اسے ثقافتی تہوار ہی رہنے دیا جائے سیاسی نہ بنایا جائے تو اس کا مزا دوبالاہوجائے گا مسائل کی ماری قوم کو انجوائے کرنا چاہیے اور تو اور سہیل آفریدی نے انہی دنوں سٹریٹ موومنٹ کی کال دیکر ایک نیا مسئلہ کھڑا کردیاہے لیکن یہ بھی کہاجارہاہے کہ بانی PTI کو بہت سے صحت کے مسائل نے آن گھیراہے موصوف کو بلند فشار خون سے آنکھوں کے پردے کی دھندلاھٹ سمیت کوئی عارضہ بھی ہو سکتا ہے شنیدہے کہ انہیں خفیہ طورپر ہسپتال منتقل کیا گیا ذرائع نے کاکہناہے کہ بانی نے باضابطہ طور پر جن عوارض میں مبتلا ہونے کی شکایت کی ہے ان میں اٹھتے بیٹھتے حتیٰ کہ لیٹے ہوئے چکرانا، سماعت میں خلل جس میں کانوں میں سیٹی کی آواز لگاتار محسوس ہورہی تھی، دانتوں میں تکلیف میں مبتلا ہونا شامل ہے۔ ان تمام بیماریوں کامکمل علاج کیا گیا ہے جن سے وہ اب روبصحت ہے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ بانی تحریک کی اپنے مشقتی سے سخت توتو میں میں ہوئی ہے جس کے نتیجے میں مشقتی نے جیل انتظامیہ سے درخواست کر کے اپنی ذمہ داری تبدیل کرا لی ہے۔ یہ مشقتی سزا یافتہ بانی کے لئے کھانا تیار کرتا تھا اور اسے دیگر آسائشیں فراہم کرتا تھا۔ کچھ لوگوں کا کہناہے کہ مسلسل قیدو بندکی صعوبتوں اور قید ِ تنہائی کے سبب عمران خان کا مزاج چڑچڑاہوتاجارہاہے پھران سے ملاقاتوں پربھی پابندی ہے یہ بھی افواہ پھیلی ہوئی کہ پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے عمران خان سے ملاقات کرنے سے انکارکردیا تھاجبکہ علیمہ خان نے کہاہے کہ عمران خان کو ٹارچر کرنے کے لیے قید تنہائی میں رکھا گیا ہے، ان سے ملاقات نہیں ہورہی، پچھلے ایک سال میں جو ملاقاتیں ہوئیں وہ صرف دو درجن ہیں،پولیس نے منگل کوبھی عمران خان کی بہنوں کو اڈیالہ جیل میں ملاقات کی اجازت نہ دی، اپنی بہنوں کے علیمہ خان نے کہاکہ آخری ملاقات 2 دسمبر کو کرائی گئی، سلمان صفدر 20 دسمبر کو گئے تھے اورزبردستی 8 منٹ ملاقات کی تھی، انہوں نے کہاکہ ان کا خیال تھا کہ بانی کو ذہنی مریض بنادینگے، عمران خان اپنی قوم کے لئے جیل میں بیٹھے ہیں لیکن ایسا سوچنے والے غلطی پر ہیں عمران خان کبھی ہارنہیں مان سکتا وہ پاکستانی قوم کا ہیروہے۔
14
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل