71

کرپٹ کون؟ محسن گواریہ

ڈیلی دومیل نیوز، بیورو کریسی کا نام سنتے ہی لوگ اچھے اور برے تبصرے کرتے ہیں،کچھ لوگوں کے خیال میں اس نے پاکستان کی تعمیر و ترقی میں مثبت کردار ادا کیا جبکہ بعض سمجھتے ہیں کہ پاکستانمیں خرابیوں کی جڑ ہماری بیورو کریسی ہے، ملکی بیورو کریسی وفاقی ہو یا صوبائی، اعلیٰ تعلیم کے حامل اور تربیت یافتہ افراد پر مشتمل ہے،قیام پاکستان کے فوری بعد اسی بیورو کریسی نے وہ کار ہائے نمایاں انجام دیئے کہ نو آزاد ملک مختصر وقت میں ترقی کی راہ پر گامزن ہو گیا،جس کے بعد محلاتی سازشوں کا دور شروع ہوا،تو قوانین اور کارکردگی پس پشت ڈال دی گئی اور پسند نا پسند کا سلسلہ شروع ہو گیا قواعد پر زبانی احکامات کو ترجیح دی جانے لگی،کسی بھی حکمران نے قواعد کو اہمیت نہ دی بلکہ اپنی ہی متعارف کردہ اصلاحات پر بھی عملدرآمدسے دانستہ گریز کیا گیا، نتیجے میں معاملات سدھرنے کی بجائے بگڑتے گئے۔

کبھی فوگ کے نام پر اور کبھی گرمی کے نام پر سکول بند کرنا درست نہیں؛عدالت کاچھٹیوں میں توسیع کے حکومتی فیصلےپر اظہار برہمی
بیورو کریسی دراصل انتظامیہ ہوتی ہے جو امور مملکت کو حکومتی پالیسیوں اور قوانین کے تحت چلاتی ہے،عوامی مسائل کے حل،عوامی خوشحالی کے لئے کام کرتی اور نظم و نسق قائم رکھتی ہے،موجودہ بیورو کریسی دراصل انگریز دور کا تسلسل ہے،برٹش حکومت کے فیصلوں پر عملدرآمد کرانا اس کا کام تھا، مگر انگریز کی نگرانی اور قوانین کی حکمرانی بہت سخت تھی، اسی بیورو کریسی نے قیام پاکستان کے بعد سے 1958ء تک ملک کو ترقی کی ڈگر پر ڈالا،دنیا بھر میں پالیسی سازی اور عملدرآمد کے معاملہ میں بیورو کریسی کا اہم کردار ہوتا ہے اور اسے تسلیم بھی کیا جاتا ہے،لیکن تیسری دنیا کی جمہوریت میں آہستہ آہستہ بیورو کریسی کو نا پسندیدہ عنصر اور ذاتی ملازم بنا دیا گیا،حکمران جماعت نے ہمیشہ من مانی کی،سب سے زیادہ نقصان یہ ہوا کہ قوانین کی اہمیت ثانوی ہو گئی،لہٰذا سمجھا جانے لگا کہ بیورو کریسی کی سوچ عوامی نہیں اور وہ عوامی مسائل کا بہتر حل نہیں دے سکتی،نتیجے میں قانون سازوں نے تمام اختیارات کا مرکز اپنی ذات کو بنا لیا، بیورو کریسی دوسرے درجے کی شہری بنا دی گئی،اس صورتحال میں بیورو کریسی پر نا اہلی،بد عنوانی،قانون شکنی کا الزام نہیں دھرا جا سکتا،بلکہ تمام صورتحال کی ذمہ دار حکومتیں ہیں،اگر چہ بیورو کریسی میں بھی خامیاں موجود ہیں اور ان کو درست کرنے کی ضرورت ہے،مگر اس کے لئے قواعد پر عملدرآمد کو یقینی بنانا ہو گا۔

ہر حکومت نے بیوروکریسی کی اصلاحات کے نام پر ڈوریاں کھینچنے کی کوشش کی،1949ء میں پے اینڈ سروس کمیشن رپورٹ، 1973ء میں انتظامی اصلاحات کمیٹی رپورٹ پیش ہوئی اس دوران چار مرتبہ حکومت کو ری آرگنائز کرنے کی کوشش کی گئی،بھٹو نے سول بیورو کریسی خاص طور پر سول سروس کو بے اختیار کر کے 1300افسر کرپشن کے الزام میں برطرف کر دیئے،ان اصلاحات کی وجہ سے سروسز کا نظام برباد ہو گیا،ڈی ایم جی افسروں کو سول سرونٹ کا درجہ دے کر آئینی تحفظ دیا گیا،اس سے قبل سی ایس پی افسر با اختیار تھے مگر ان کو بھی سیاسی بنا دیا گیا، بیورو کریسی کو محکمانہ خود مختاری کے تحت کام کرنے سے روک دیا گیا،ترقی،تبادلے،تعیناتی کے اختیارات بھی صلب کر لیے گئے،یہ دراصل بیورو کریسی کو ریاست کی ملازمت سے نکال کر حکومت کا خدمت گار بنانے کی ایک کوشش تھی،جس کے بعد بیوروکریسی سول سرونٹ سے گورنمنٹ سرونٹ بن گئی، اب ترقی تبادلے پوسٹنگ کے لئے اصول قانون کار کردگی نہیں بلکہ سیاسی پشت پناہی ہے۔ حکومت تب تک بہترین انداز سے عوامی اور ملکی خدمت کرتی رہی جب تک بیورو کریسی با اختیار تھی، اب بھی اگر حکومت کو ڈیلیور کرنا ہے، اپنے منشور کے مطابق عوام کو سہولیات دینا ہیں، عوام کو فوری انصاف اور مسائل کا حل تلاش کرنا ہے تو بیورو کریسی کو با اختیار بنانا ہو گا،اصلاحات ضرور کریں مگر یہ اصلاحات بیورو کریسی کو کنٹرول کرنے کی بجائے ان کی کارکردگی بہتر بنانے، اختیارات سے تجاوز روکنے، بدعنوانی کے خاتمے کے لئے ہونی چاہئیں۔

پاکستان کی سیاست اور سیاست دانوں میں ایک روایت برسوں سے چلی آ رہی ہے کہ جب بھی انہیں مشکلات کا سامنا ہوتا ہے تو الزام تراشی کا سب سے آسان ہدف،اپوزیشن اور بیورو کریسی کو بنا لیا جاتا ہے، حالیہ دنوں میں دفاعی وزیر خواجہ آصف نے بیان دیا کہ ”پاکستان کی نصف سے زیادہ بیورو کریسی نے پرتگال میں جائیدادیں خرید لی ہیں اور وہاں شہریت کے حصول کی تیاری کر رہی ہے“۔ یہ الزام میڈیا کی زینت بنا اور عام عوام کے ذہنوں میں ایک بار پھر بیورو کریسی کو کرپشن اور بیرونِ ملک جائیدادوں کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی گئی، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ الزام حقیقت پر مبنی ہے؟ دوسری طرف پاکستانی سیاستدانوں کے اثاثوں کا جائزہ لیا جائے تو حقیقت بالکل برعکس نظر آتی ہے،برطانیہ میں کتنے ہی پاکستانی سیاستدانوں کے محلات اور فلیٹ موجود ہیں۔ لندن کے مہنگے ترین علاقوں میں سیاست دانوں کی جائیدادیں ایک کھلا راز ہیں،متحدہ عرب امارات کے دبئی اور ابوظہبی میں کتنے ہی سیاستدانوں کے ٹاورز، اپارٹمنٹس اور شاپنگ مالز ہیں جن کی قیمتیں اربوں روپے ہیں،امریکہ اور کینیڈا میں شہریت حاصل کرنا تو پاکستانی سیاست دانوں کا پرانا شوق ہے، کئی سیاستدان اپنی فیملیز کو تعلیم اور کاروبار کے نام پر وہاں سیٹل کر چکے ہیں،یہاں تک کہ کچھ سیاست دانوں نے تو سائپرس، مالٹا اور ترکی کے ”گولڈن ویزا پروگرام“ کے ذریعے یورپی یونین کی شہریت حاصل کی تاکہ اپنے مستقبل کو بہتر بنا سکیں۔

اگر آج پاکستان کے ہسپتال، تعلیمی ادارے، عدالتیں، ترقیاتی منصوبے اور ریونیو کا نظام کسی حد تک بھی قائم ہیں تو وہ بیورو کریسی کے ہی مرہونِ منت ہیں،پاکستان کے کئی سینئر بیورو کریٹس نے اپنی زندگی کا سب سے قیمتی وقت ملک کی خدمت میں صرف کیا، کئی افسروں کو سیاسی دباؤ کے باوجود ایمانداری کے ساتھ کام کرنے پر معطل، ٹرانسفر یا انتقامی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑا،یہ کیسا سسٹم ہے کہ ایک طرف بیورو کریسی ملکی نظام کو سنبھالے رکھے اور دوسری طرف الزام تراشی کی زد میں رہے؟

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں درجنوں مثالیں موجود ہیں جب حکمران خاندان اقتدار سے محروم ہوتے ہی بیرونِ ملک جا بسے، کبھی لندن، کبھی جدہ اور کبھی دبئی میں سیاسی پناہ لی گئی، جہاں تک پرتگال میں بیورو کریسی کی جائیدادوں کا سوال ہے تو ابھی تک کوئی سرکاری فہرست یا ثبوت سامنے نہیں آیا، خواجہ آصف کے دعوے کو محض ایک سیاسی بیان کہا جا سکتا ہے، کیونکہ نہ کسی افسر کا نام لیا گیا اور نہ ہی کسی جائیداد کی دستاویز دکھائی گئی،اگر واقعی بیورو کریسی وہاں جائیدادیں خرید رہی ہوتی تو اس کی خبریں عالمی میڈیا اور یورپی یونین کے ریکارڈ میں بھی ضرور سامنے آتیں،دوسری طرف جب بھی مہنگائی، بیروزگاری یا گورننس پر سوال اٹھتا ہے تو کوئی نہ کوئی بیان سامنے آ جاتا ہے کہ بیورو کریٹس کرپٹ ہیں،انہوں نے باہر جائیدادیں بنا لی ہیں۔پاکستان کی بیوروکریسی میں خامیاں ضرور موجود ہیں، مگر یہ آج بھی اس ملک کے نظام کو سنبھالنے میں مرکزی کردار ادا کر رہی ہے،اگر کچھ افسر واقعی بدعنوانی میں ملوث ہیں تو اس کا ذمہ دار بھی وہی سیاسی نظام ہے جو میرٹ کے بجائے سفارش اور ذاتی تعلقات کی بنیاد پر افسروں کو عہدوں پر تعینات کرتا ہے، ورنہ عوام یہ سوال پوچھتے رہیں گے کہ کرپٹ کون ہے؟ اگر بیورو کریٹس کی جائیدادیں پرتگال میں ہیں تو سیاستدانوں کی جائیدادیں کہاں کہاں ہیں؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں