48

پانیوں پر گھر بنانا اور کنارہ ڈھونڈنا نسیم شاہد

ڈیلی دومیل نیوز،سیلاب کا بہت شور شرابا ہے۔ ہاہا کار مچی ہوئی ہے، الزامات کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ وزراء بھارت کی مثالیں دے رہے ہیں کہ اس نے جگہ جگہ بروقت ڈیم بنائے، جب چاہے پانی ذخیرہ کرلیتا ہے اور جب چاہے چھوڑ دیتا ہے۔ ایک بڑا الزام یہ بھی سامنے آ رہا ہے کہ آبی گذرگاہوں پر قبضے کرکے ہاؤسنگ کالونیاں بنا دی گئیں،جس کے باعث اب سیلاب آیا ہے تو دریاؤں کو راستہ نہیں مل رہا، نقصان زیادہ ہو رہا ہے جو فوری سوال میرے ذہن میں ہتھوڑے برسا رہا ہے، وہ دریاؤں کی گذرگاہوں پر قبضے سے متعلق ہے۔ کیا دریا خشک ہو جائے تو اس کی زمین لٹ کا مال بن جاتی ہے؟ کیا اس پر ریاست کا کوئی کنٹرول نہیں ہوتا جو چاہے اس پر قبضہ کرلے اور گھر بنائے یا ہاؤسنگ کالونی اسے کوئی پوچھنے والا نہیں، سب باتیں بنا رہے ہیں، حالانکہ اقتدار میں آنے والے سب ذمہ دار ہیں یہ سب کچھ ایک دن میں تو نہیں ہوا۔ برسہا برس کی غفلت کا نتیجہ ہے جو لوگ شہروں سے گذرنے والے ندی نالوں پر عمارتیں بناتے ہیں، انہوں نے سلیمانی ٹوپی تو نہیں پہنی ہوئی۔ سب کے سامنے قبضے کررہے ہوتے ہیں اور ہمارے متعلقہ اداروں میں بیٹھے ہوئے کرپٹ افراد اپنا حصہ لے کر آنکھیں بند کرلیتے ہیں، اب ذرا سوچئے کہ بھارت دریاؤں میں زیادہ پانی نہ چھوڑتا اور کم پانی آتا تو آبادی سے آسانی کے ساتھ گذر جاتا۔ کسی کو معلوم ہی نہ ہوتا کہ بڈھا راوی کس قدر مظلوم ہے، اس کے راستے قبضہ کرکے بند کر دیئے گئے ہیں۔ پھر قبضہ کرنے والوں کو مزید ہلہ شیری ملتی، وہ مزید آگے بڑھ جاتے اور راوی کی گذرگاہ کو مزید تنگ کر دیتے۔ کروڑوں روپے کے پلاٹ بیچنے والوں کو اس کی کیا پرواہ کہ وہ خلوت کے خلاف بغاوت کر رہے ہیں۔ کبھی ایسا بھی ہوا ہے کسی سال بارش نہ آئے تو چھت کا پرنالہ بند کر دیا جائے۔ یہ کیسی پلاننگ اور کیسی حکومتیں رہی ہیں کہ جنہوں نے صرف اپنے آج کے بارے میں سوچا اور مستقبل پر نظر نہ رکھی۔ مہذب ملکوں میں تو ویران سڑک کو بھی بند نہیں کرتے کہ نجانے کس وقت اسے استعمال کرنا پڑے۔ یہاں دریاؤں کو جو اپنی تاریخی حیثیت رکھتے ہیں اور جن کا سلسلہ پیچھے سے آنے والے دریاؤں سے جڑا ہوا ہے، ہم نے بے دردی سے سنگ و خشت کے پہاڑ کھڑے کرکے بند کر دیا۔ یہ کہاوت تو مشہور ہے کہ دریا کئی صدیوں بعد بھی اپنا قبضہ لینے آ سکتا ہے۔

اس بار کے سیلابوں نے اتنا تو کیا ہے کہ اب آبی گذرگاہوں کی بحالی کے بارے باتیں ہو رہی ہیں، مگر ہنوز دلی دوراست کے مصداق یہ اتنا آسان نہیں کہ ریورس گیئر لگ سکے جو طاقتور لوگ ہیں صحراؤں اور دریاؤں کو بھی نہیں چھوڑتے وہ آسانی سے ان گذرگاہوں کو خالی نہیں کریں گے۔ اس میں انسانی المیہ تلاش کریں گے تو ہزاروں لوگ بے گھر ہو جائیں گے۔ اربوں کھربوں کا نقصان ہوگا، اس لئے جو ہو چکا ہے اسے رہنے دیا جائے۔ چلیں جی یہ آپس میں مل بیٹھ کے ایسی کوئی بچاؤ سکیم نکال لیں گے، مگر راوی، چناب، ستلج اور سندھ کو کون سمجھائے گا جو لوگ راوی کے عین کنارے پر اپنے گھر بنائے بیٹھے ہیں انہیں ہر سال یہ دھڑکا ہی لگا رہے گا کہ دریا سیلاب کے دنوں میں بپھر کے ان کے گھروں میں داخل ہو جائے گا۔ کیا حکومتیں ہر سال یہی کام کرتی رہیں گی کہ دریاؤں کی گذرگاہوں پر گھر بنا کے رہنے والوں کو بچاتی رہیں۔ یہ ایک طے شدہ معیار ہے کہ دریاؤں کے بندوں سے باہر کئی کلومیٹر کا علاقہ تعمیرات سے پاک رکھا جاتا ہے، تاکہ طغیانی یا سیلاب کی صورت میں پانی باہر آئے تو انسانی آبادیوں کو نقصان نہ پہنچے۔ یہاں مجرمانہ غفلت کا اندازہ آپ اس حقیقت سے لگائیں کہ سامنے راوی گذر رہا ہے اور ساتھ مٹی کے بند بنا کر سڑکیں اور کوٹھیاں بنا دی گئی ہیں،یعنی بچاؤ کی کوئی ڈیفنس لائن ہے ہی نہیں۔ محکمے دیکھیں تو فہرست ختم نہیں ہوتی۔ اربن پلاننگ، اربن فلڈنگ، روڈا، ایل ڈی اے مگر کارکردگی دیکھیں تو یوں لگتا ہے۔ ہمارے شہروں کو بھی جنگل بنا دیا گیا ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں کی بات کرکے ہم دنیا کو اپنی طرف متوجہ کرنا چاہتے ہیں، لیکن جو غفلتیں ہم خود کررہے ہیں اور فطرت کے مخالف اقدامات سے اپنے لئے مسائل پیدا کررہے ہیں،ان کا علاج بھی کسی نے کرنا ہے یا نہیں۔

ہر سال یہ صورتِ حال پیدا ہوتی ہے، ہر سال ہمارے حکمران اور ادارے انگڑائی لے کر بیدار ہوتے ہیں، مگر زمیں جنبد نہ جنبد گل محمد کے مصداق سیلاب کا موسم جاتے ہیں سب اسی پرانی ڈگر پر چل پڑتے ہیں سب سے پہلے تو ایسی تمام تعمیرات کو ختم کرنے کی ضرورت ہے جو دریاؤں اور نالہ لئی جیسے بڑی آبی گذرگاہوں پر تعمیر کی گئی ہیں۔ خیبرپختونخوا میں اس بار جو بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی، اس کے بعد حکومت نے دریائے سوات کے کنارے بنے ہوئے تمام ہوٹلز مسمار کر دیئے۔ ایسے تمام ہاؤسنگ کالونی مالکان کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے جنہوں نے دریاؤں کے راستے پر قبضے کرکے اربوں روپے کمائے ان سے وصول کرکے ان شہریوں کو زرتلافی دیا جائے جو اپنے گھر بنا کے سکون سے محروم ہو چکے ہیں۔ روڈا جیسے ادارے بھی فی الفور ختم کئے جائیں جو دریاؤں پر شہر بسانے کے لئے قائم کئے گئےّ شہر کی توسیع کے لئے زمینیں تلاش کرنا چاہئیں نہ کہ دریا کی گذرگاہ پرشہر بسانے کی منصوبہ بندی کی جائے۔ پانی پر گھر بھی کبھی بنا ہے؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں