53

اداکار یا افسران؟ نسیم شاہد

ڈیلی دومیل نیوز.دنیا بھر میں حکمران اور سیاستدان اپنی پروجیکشن کے لئے میڈیا کا استعمال کرتے ہیں۔ روسی صدر پیوٹن بھی اپنی گھر سے دفتر جانے کی ویڈیو بنواتے ہیں حتیٰ کہ سنگھار میز کے سامنے کھڑے ہو کر اپنانک سک درست کرنے کی مصروفیت کو بھی محفوظ کرکے دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی کسی سے پیچھے نہیں۔ وہ ایک ڈان کی طرح جہاز سے اترتے ہیں اور پھر کیمرہ انہیں دور تک تمکنت سے چلتا دکھاتا ہے۔ لوگوں سے ملنے اور ان میں گھل مل جانے کی ویڈیوز حکمرانوں اور سیاستدانوں کا پرانا وتیرہ رہا ہے۔ پاکستان کی تاریخ بھی حکمرانوں کی پروجیکشن سے بھری پڑی ہے۔ اگرچہ ماضی بعید میں سوشل میڈیا تو نہیں ہوتا تھا۔ البتہ اطلاعات کے سرکاری محکمے حکمرانوں کی سرگرمیوں کو دکھاتے اور پھیلاتے۔ صدر ایوب خان کی سرگرمیاں بھی محکمہ اطلاعات کے پاس محفوظ ہیں۔ ضیاء الحق، پرویز مشرف جیسے آمر بھی اس سے محفوظ نہیں رہے۔ ذوالفقار علی بھٹو اس کے بہت عادی تھے۔ ان کی سب سے زیادہ فلمیں محکمہ اطلاعات کے پاس محفوظ ہیں۔ سیاستدان اور حکمران چونکہ عوام کو مطمئن کرنا چاہتے ہیں، جوابدہ بھی ہوتے ہیں، اس لئے ان کی یہ مجبوری بھی بن جاتی ہے کہ وہ عوام کو یہ احساس دلاتے رہیں کچھ نہ کچھ ان کے لئے کر رہے ہیں۔ پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز بھی وہی کررہی ہیں جو ماضی میں وزرائے اعلیٰ کرتے رہے ہیں۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ کہیں کہیں لگتا ہے مشیران کرام کچھ زیادہ ہی چاہ پلوسی کررہے ہیں۔ ابھی تک پنجاب حکومت کی طرف سے اس بات کی تردید نہیں آئی کہ صوبے میں امدادی اشیاء تقسیم کرنے کے لئے وزیراعلیٰ مریم نوازکے بینرز لگانے اور ایسے تھیلوں میں تقسیم کرنے کی شرط عائد کی گئی ہے جن پر مریم نواز کی تصویر ہو۔ البتہ پی ٹی آئی کے بعض رہنماؤں کی کی طرف سے یہ الزام ضرور دیا جا رہا ہے۔ ایک ڈپٹی کمشنر کا اس ضمن میں جاری کیا گیا نوٹیفکیشن بھی زیرگردش ہے۔ میرے خیال میں ایسا کوئی بھی فیصلہ حکومت کو فائدہ پہنچانے کی بجائے نقصان پہنچا سکتا ہے۔ ویسے میرے ذاتی تجربے میں یہ بات آئی ہے کہ ملتان میں جب ایک فلاحی تنظیم نے سیلاب زدگان میں امدادی سامان تقسیم کرنے کے لئے مجھے بھی ساتھ چلنے کو کہا تو میں نے ایسی کوئی بات نہیں دیکھی کہ امدادتقسیم کرنے سے اس بنیاد پر روکا جا رہا ہو کہ ہمارے پاس مریم نواز کا پینا فلیکس کیوں نہیں ہے۔ خیر موجودہ دور میں بہت سارے سلسلے سوشل میڈیا کے ذریعے غلط سلط ہو جاتے ہیں اور حقیقت جاننا مشکل ہو جاتا ہے۔ تاہم اس وقت میرا موضوع ذرا اس سے ہٹ کر ہے۔

آج ہر آدمی یہ محسوس کررہا ہے کہ بیورو کریسی جن میں پولیس افسر بھی شامل ہیں، کسی نئے خبط میں مبتلا ہو گئے ہیں یہ خبط ہے سوشل میڈیا پر ہمہ وقت نظر آنا۔ میں اکثر افسروں کی مصروفیات دیکھ کر سوچتا ہوں یہ دفتروں میں کب بیٹھتے ہوں گے؟ ہر وقت تو سوشل میڈیا پر نظر آتے ہیں اب مجھے کوئی بتائے کہ ایسی ویڈیوز کی کیا منطق ہے کہ صاحب بہادر پروٹوکول کے قافلے میں دفتر آئے ہیں، ایک پولیس والا بڑھ کر گاڑی کا دروازہ کھول رہا ہے اور وہ اپنی ٹوپی سیدھی کرتے اپنے کمرے میں جا رہے ہیں۔ کوئی بتا سکتا ہے، اس کا عوام کو کیا فائدہ ہے یا کیا ڈرامائی منظر بھی ان کی نوکری کا حصہ ہے۔ کوئی کھلی کچہری لگا کر بیٹھا ہے تو مظلوم عوام کی ویڈیو بنا کران کی عزت نفس مجروح کررہا ہے۔ کیا اسے اتنی بھی عقل نہیں کہ کسی کی مرضی کے بغیر ویڈیو بنانا جرم ہے۔ پھر یہی نہیں پورے ڈائیلاگ بھی شامل کئے جاتے ہیں، جن میں صاف بہادر شہنشاہ جہانگیر کی طرح فیصلے کررہا ہوتا ہے۔ او بھائی یہ کھلی کچہری کے ڈرامے تو پہلے ہی اس بیورو کریسی کے منہ پر کلنک کا ٹھیکہ تھے کیونکہ ان سے یہی تاثر ملتا تھا کہ دفتروں میں لوگوں کو انصاف یا ریلیف نہیں مل رہا۔ حالانکہ وہاں ایک پورا نظام موجود ہے، جہاں مختلف برانچوں میں بیسیوں ملازمین تعینات ہوتے ہیں۔خودکار نظام بہتر بنانے کی بجائے یہ ویڈیو زدہ کھلی کچہریاں ایک ایسا مکروہ ڈرامہ ہے جس سے عوام کی تذلیل تو ہوتی ہے فائدہ کوئی نہیں ہوتا۔ سیلاب کے ان دنوں میں بھی افسروں کی پھرتیوں نے ایک ڈرامائی رنگ بھر دیا ہے۔ سیلاب کوئی پہلی بار تو آیا نہیں البتہ یہ ڈرامے پہلی بار دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ چلیں جی مان لیتے ہیں کہ نئی ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھایا جانا چاہیے مگر سوال یہ ہے اس ٹک ٹاکر نظام کے آنے سے عوام کو کوئی چھوٹا موٹا ریلیف بھی ملا ہے۔ ایک افسر سیلابی کیمپ میں جا کے ایک دیہاتی عورت سے ویڈیو کیمرے کی زد میں آکر پوچھ رہے تھے، اماں روٹی ملدی پئی اے، گھرتوں چنگی ملدی پئی اے ناں۔ اب بتائیں اس افسر کی عقل کا ماتم کیا جائے یا نہ کیا جائےّ انہیں اتنا بھی علم نہیں کہ گھربار چھوڑ کر کسی امدادی کیمپ میں رہنا کتنا اذیت ناک ہوتا ہے، وہاں سونے کا نوالہ بھی دیا جائے تو وہ گھر کی سوکھی روٹی کے برابر بھی نہیں ہوتا۔

یہ وباء کچھ عرصہ پہلے ہی پھوٹی ہے اور اب وبائی امراض کی طرح بیورو کریسی میں پھیل گئی ہے۔ ایک زمانہ تھا افسروں کے کام بولتے تھے، عوام ان کی کارکردگی ان کے کاموں سے جان جاتے تھے۔ آج کارکردگی کی بجائے ویڈیو بناؤ، جان چھڑاؤ کا نظریہ غالب آ چکا ہے۔ رشوت کا چرچا سرعام ہونے لگا ہے۔ افسر ٹک ٹاکر بن جائیں گے تو اصل فرائض کون ادا کرے گا۔ ایک دوست نے فون کیا اور کہا فلاں افسر کے پاس فائل پڑی ہے تمام ضابطے کی کارروائی اور کاغذات مکمل ہیں، مگر وہ دفتر ہی نہیں آتے۔ شام کے وقت آتے ہیں تو ان ویڈیوز کی ایڈیٹنگ کرانے میں لگ جاتے ہیں جو انہوں نے سارے دن میں بنوائی ہوتی ہیں کوئی مشورہ دو، کیا کروں، میں نے کہا بہت آسان ہے، موبائل کیمرہ لے کر دفتر چلیں جائیں اور کہیں شہر میں اچھے کاموں کی وجہ سے آپ کی ایک ویڈیو بنانی ہے۔ وہ فوراً تیار ہو جائیں گے۔ باقی کام تو مشکل رہے گا ہی نہیں۔ میں سوچ رہا ہوں یہ سلسلہ آخر کہاں رکے گا، ہر چھوٹا بڑا افسر اس خبط میں مبتلا ہو چکا ہے، کیا دنیا میں کہیں ایسا نظام چل رہا ہے کیا اس سے گڈ گورننس آ سکتی ہے، کوئی ہے جو اس کا جواب دے سکے وہ بھی ٹک ٹاک کے بغیر۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں