50

سیلاب کے مارے بمقابلہ حرص کے مارے نسیم شاہد

ڈیلی دومیل نیوز.میرے چند مخیر دوستوں نے امدادی سامان جمع کیا اور متاثرین کو تقسیم کرنے کے لئے قاسم بیلہ کے نواح میں لگے کیمپوں میں مقیم افراد کے پاس گئے،میں بھی اُن کے ساتھ تھا۔انتظامیہ نے بہت زیادہ ٹینٹ لگائے تھے اور اُن میں ڈیڑھ دو ہزار متاثرین موجود تھے،ہم نے طے کیا ایک ایک کیمپ میں جا کے امدادی سامان دیں گے،تقسیم کرتے کرتے ہم ایک کیمپ کے سامنے پہنچے تو میں نے دیکھا یہ تو ایک شناسا فیملی ہے اور جس کی رہائش گجر کھڈہ میں ہے۔یہ سیلاب متاثرین کیسے ہو گئے،میں سوچنے لگا۔ اتنے میں ایک مرد پاس آیا میں اُسے جانتا تھا۔وہ بھی مجھے دیکھ کر تھوڑا جھینپ گیا، میں نے پوچھا کیا تم نے رہائش تبدیل کر لی ہے،کیا تم اِس وقت سیلابی علاقے میں رہ رہے ہو۔وہ مجھے ہاتھ جوڑ کر ایک طرف لے گیا اور کہنے لگا،گھر تو وہی ہے بس ذرا حالات خراب تھے، ہم نے سوچا ان کیمپوں میں آ جاتے ہیں،امدادی سامان بھی ملتا رہے گا حکومت جو امداد دے گی وہ بھی مل جائے گی۔آپ مہربانی کریں کسی کو نہ بتائیں میں یہ سُن کر شش و پنج میں پڑ گیا۔میں نے پوچھا کیا اور لوگ بھی ہیں جو سیلاب متاثرین نہیں اور کیمپوں میں رہ رہے ہیں،اس نے کہا بہت ہیں،خاص طور شہر میں مانگنے والے جتنے گدا گر ہیں، وہ یہاں آ گئے ہیں،اُف خدایا یہ قوم نہیں سدھرے گی اس کے لئے پیسہ ایک ایسی چیز ہے جس کی خاطرایمان تک بیچا جا سکتا ہے۔ہم واقعی ایک ایسا معاشرہ بن گئے ہیں،جس میں دیانت اور ہمدردی نام کی کوئی چیز موجود نہیں۔کالم لکھ رہا تھا تو ڈاکٹر نجم جمشید کا فون آیا،انہوں نے سیلاب کی صورتحال کے بارے میں پوچھا اور کہا ایسی تباہی ہم نے پہلے کبھی نہیں دیکھی۔ڈاکٹر نجم جمشید کا شمار ملک کے معروف ماہرین امراض جلد میں ہوتا ہے۔ پھرانہوں نے بتایا ابھی کچھ دیر پہلے سیلابی علاقوں سے دو مثاثرین میرے پاس آئے،دونوں میاں بیوی تھے اور بیوی کی ڈلیوری بھی متوقع تھی، وہ دونوں زارو قطار رو رہے تھے کہ ہم لٹ گئے ہیں کوئی سامان تک نہیں بچا۔ انہوں نے کہا سیلاب بہت شدید ہے۔ہم جب اپنے بوڑھے والدین کے ساتھ سیلاب میں پھنس گئے تو پرائیویٹ کشتی والوں نے30ہزار روپیہ لے کر کنارے پر پہنچایا،اسی دوران جلدی امراض بھی لاحق ہو گئے اور اب بچے کی پیدائش کا مرحلہ بھی درپیش ہے، جس کے لئے ہسپتال والے ایک لاکھ روپیہ مانگ رہے ہیں یہ بتانے کے بعد ڈاکٹر نجم جمشید نے کہا میں یہ کر سکتا تھا کہ اپنی فیس چھوڑ دوں،میں نے فیس چھوڑ دی اور ایک ہسپتال میں فون بھی کیا کہ ان کا کچھ خیال کریں۔ وہ نشتر ہسپتال جانا چاہتے تھے بقول اُن کے اُن کا پہلا بچہ وہاں پیدا ہوتے ہی فوت ہو گیا تھا۔یہ سب کچھ بتانے کے بعد ڈاکٹر نجم جمشید کا سوال یہی تھا کہ لاکھوں کی تعداد میں جو لوگ اپنے گھر بار اور اثاثوں سے محروم ہو گئے ہیں وہ اس بے رحم معاشرے میں کیسے زندہ رہیں گے،جو لوگوں کو مصیبت میں دیکھ کر سب سے پہلے یہ سوچتا ہے اس سے فائدہ کیسے اٹھانا ہے۔

ہم آج بھی کورونا کے دِنوں میں ماسک بنانے والوں کی لوٹ مار کو یاد رکھے ہوئے ہیں وہ ماسک جو بعد میں پانچ دس روپے کا بکتا رہا،کورونا کے آغاز میں 100روپے تک بیچا گیا،کسی نے کیا خوب کہا ہے ”ہمارے کاروباری طبقے کو یہ علم ہو جائے کہ قیامت آنے والی ہے تو کفن کی قیمتیں سو گنا بڑھا دیں گے“۔ آج کل تو اُن اشیاء کے ریٹ بھی بڑھا دیئے گئے ہیں جو سیلاب زدگان کو دی جا رہی ہیں، کرسمس پر دنیا کے ممالک اشیاء کی قیمتیں کم کر دیتے ہیں، ہمارے ہاں عید آئے تو پانچ روپے کی چیز25روپے میں بیچی جاتی ہے اور تو اور ماہِ رمضان میں جو برکتوں اور رحمتوں والا مہینہ ہوتا ہے روزہ داروں کو لوٹنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔سیلاب اُتر جائے تو حکومتی اداروں کا یہ بہت بڑا امتحان شروع ہو گا کہ وہ متاثرین کی بحالی کے پیکیج کو حقیقی معنوں میں متاثرین تک پہنچائیں۔خدشہ یہی ہے کہ سرکاری افسر اور عملہ اس کام میں بھی رشوت اور کمشن کا راستہ نکال لیں گے۔ اس کا بہترین حل یہ ہے کہ حکومت متاثرہ علاقوں کو نشان زد کرے اور پھر اس علاقے میں رہنے والوں کا ڈیٹا نادرا لے سے،اس کے بعد سروے کیا جائے کہ نقصان کتنا ہوا ہے اُس کے مطابق امداد دی جائے۔ گدھ کو مردار خور جانور کہا جاتا ہے، مگر ٹھہریے صاحب ہماری آستینوں میں بھی کئی گدھ چھپے ہوئے ہیں ایسے لوگ بھی پکڑے گئے ہیں جو سیلاب میں بہہ کر آنے والے جانوروں کا گوشت بیچ رہے ہیں جن کاموں کو سوچ کر ہی اُبکائی آتی ہے، وہ سب کام ہمارے ہاں بلا خوف و خطر کئے جاتے ہیں۔کل میرے مالی سجاد نے بتایا اُس کے چھوٹے سے گھر میں بھائی بہنوں کی اپنے بچوں سمیت آمد ہوئی ہے،کیونکہ اُن کے گھر پانی میں ڈوب گئے ہیں اور سامان تک نکالنے کی مہلت نہیں ملی۔ میں نے کہا تم نے انہیں خیموں میں کیوں نہیں بھیجا، کوئی مشکل ہے تو میں خیمے لے لیتا ہوں۔اُس نے کہا سر ہم عزت دار لوگ ہیں اپنی خواتین کو خیموں میں نہیں بھیج سکتے۔اُس نے کہا بس آپ مجھے دو ماہ کی تنخواہ ایڈوانس دے دیں گذارا ہو جائے گا۔ اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسے کتنے لوگ ہوں گے جو متاثر تو ہوئے لیکن کیمپوں میں نہیں آئے، کیا امدادی پیکیج اور وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی طرف سے جس امداد پیکیج کا اعلان کیا گیا ہے وہ ایسے حقیقی متاثرین تک بھی پہنچے گا؟ دو روز پہلے ایک سینئر صحافی نے مجھے بتایا جس دن مریم نواز سیلاب متاثرین سے ملنے ملتان آئی تھیں،اُس دن وہ موقع پر موجود تھے۔رش کی وجہ سے کسی نے اُن کی جیب کاٹ لی، ایسی ایک دو شکایات پہلے بھی ملی تھیں،جس معاشرے میں جنازوں کے موقع پر جیب کاٹ لی جاتی ہو، اُس معاشرے میں اگر ہم ہمدردی اور ایمانداری کو ڈھونڈنے نکلیں تو سوائے خجل خواری کے کچھ ہاتھ نہ آئے، جس کی دنیا میں نظیر نہ ملے وہ پاکستان میں ڈنکے کی چوٹ پر آسانی سے مل سکتی ہے،آزمائش شرط ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں