ڈیلی دومیل نیوز.ایشیا کرکٹ کپ میں پاکستان کرکٹ ٹیم دوسری بار بھارتی ٹیم سے ہار گئی ہے، اسی ہفتے میں ہمیں سعودی عرب کے ساتھ ہونے والے اسٹریٹیجک دفاعی معاہدے کی خوشی ملی تھی جس کے اوپر کچھ لکھنے کا دل تھا مگر پھر پاکستان اور بھارت کی کرکٹ ٹیموں کے سپر 4 مرحلے کے میچ دیکھنے بیٹھ گئے، ہمارے بچے بھی بڑی بیتابی سے میچ کے منتظر تھے اور آغاز میں جب پاکستانی شاہینوں کی اونچی اڑان اور بھارتی فیلڈرز کی بوکھلاہٹ دیکھی تو ہم سب اچھلنے لگے، لیکن بیچ کے اوورز میں جا کر ہمارے بیٹرز جب 35 گیندوں میں ایک بھی باؤنڈری نہ لگا سکے اور وکٹیں بھی گرنے لگیں تو ہمارے بچے مصلہء لیکر بیٹھ گئے کہ اب ہم دعاؤں سے پاکستان کو جتوا لیں گے مگر ہم جائزہ لیتے رہے کہ ہماری ٹیم کے ساتھ مسئلہ کیا ہے تو دماغ میں وہی پرانے جوابات انگڑائی لینے لگے، اس ملک میں کوئی بھی ایسا شعبہ ہے جس میں باقاعدہ منصوبہ بندی ہوتی ہو اور فیصلے میرٹ پر ہوتے ہوں؟ جواب نفی میں تھا، دنیا کے تمام ممالک میں کھیلوں کی تنظیمیں بنی ہوتی ہیں اور ان کے باقاعدہ انتخابات ہوتے ہیں، پہلے علاقائی عہدیداروں کا انتخاب ہوتا ہے پھر مرکزی عہدیداروں کے انتخابات ہوتے ہیں، تمام تنظیموں کے باقاعدہ آئین ہوتے ہیں اور کسی کی مجال نہیں کہ کہیں ذرا بھر آئین کی خلاف ورزی کر سکے، جبکہ پاکستان میں زیادہ تر کھیلوں کی تنظیموں پر غیر منتخب لوگ دہائیوں تک براجمان رہتے ہیں، جیسا کہ ایک لمبے عرصے تک فٹ بال فیڈریشن کے صدر سابق وفاقی وزیر صالح حیات رہے تھے، ہاکی کے ریٹائرڈ ائیرمارشل نور خان جبکہ کرکٹ بورڈ کے چئیرمین کا عہدہ تو باقاعدہ سیاسی رشوت کے طور پر استعمال ہوتا آ رہا ہے، دنیا کے تمام ممالک میں جس کھیل کی فیڈریشن ہوتی ہے اسی کھیل کے سابق کھلاڑیوں ہی میں سے کوئی منتخب ہوتا ہے جبکہ ہمارے ہاں کئی ایسے چئیرمین رہے ہیں جو کبھی فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلے نہ کرکٹ کی سوجھ بوجھ رکھتے تھے، بات یہاں تک بھی رہتی تو خیر تھی، یہ بھی شنید ہے کہ کرکٹ میں بیٹھے بعض صاحبان پاکستانی ٹیم کو بہت مضبوط نہیں ہونے دیتے وجہ اس کی یہ کہ جب ٹیم تسلسل سے جیتنے لگے تو پھر کھلاڑیوں کے دماغ خراب ہو جاتے ہیں اور وہ کسی کی پرواہ نہیں کرتے گویا اپنا رعب قائم رکھنے کے لیے ٹیم کو ہروانا ضروری ہوتا ہے، دنیا میں جہاں جہاں کرکٹ ہوتی ہے وہاں ریجنل ٹیموں میں مقابلے ہوتے ہیں اور نچلی سطح پر بچوں کے لیے بہترین کوچنگ کا بندوبست ہوتا ہے جبکہ ہمارے ہاں زیادہ تر اچھے کھلاڑی گلی محلوں سے کھیل کر نکلتے ہیں، کراچی،لاہور، راولپنڈی اور پشاور کے علاوہ کوئی ایسا شہر نہیں جہاں مختلف جگہوں پر باقاعدہ کوچنگ سینٹر بنے ہوں یا کرکٹ کے کھلاڑیوں کے لیے کوئی ایسی جگہ ہو جہاں وہ اپنا ٹیلنٹ ٹیسٹ کروا سکیں، اس وقت جن دو درجن کے لگ بھگ کرکٹ کھلاڑیوں کو مختلف کیٹیگری میں سنٹرل کنٹریکٹ دیا گیا ہے اگر پورے ملک سے کھلاڑیوں کو ٹیسٹ کیا جائے تو آپ کو چند درجن کی بجائے چند سو ایسے کھلاڑی ملیں گے جو ان سے بہتر نہیں تو ان کے برابر ضرور ہوں گے، جس کو موقع ملتا ہے وہی آگے بڑھتا ہے، ہمارا مسئلہ کھلاڑی اور کھلاڑیوں کی صلاحیتوں کا نہیں بلکہ سارا معاملہ منیجمنٹ کا ہے، تربیت کا ہے فزیلیٹیز کے فقدان کا ہے، پاکستان کے لوگ مجموعی طور پر بہت باصلاحیت لوگ ہیں پوری دنیا کے مختلف شعبوں میں پاکستانیوں نے اپنا لوہا منوایا ہے، کرکٹ ہی میں دیکھ لیں کہ ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے والے کتنے ممالک ہیں جن میں پاکستانی کھلاڑیوں نے اپنی جگہ بنائی ہوئی ہے، آسٹریلیا، زمبابوے، جنوبی افریقہ اور انگلینڈ کے بعد اب عرب ممالک میں تو ساری کرکٹ ہی پاکستانی کھلاڑیوں نے شروع کر رکھی ہے ایشیا کپ کے حالیہ مقابلوں میں اومان اور دوبئی کی طرف سے کھیلنے والے پاکستانی کھلاڑیوں نے کیا خوب داد سمیٹی ہے، کھیلوں سمیت ہمارے ہر شعبے کی کامیابی کے راستے میں جو رکاوٹیں ہیں وہ ہم نے خود کھڑی کر رکھی ہیں، جب تک میرٹ کے مطابق تقرریاں نہیں ہوں گی اور باقاعدہ تربیت نہیں ہو گی اس وقت تک ہم کھیلوں میں آگے جا سکتے ہیں نہ کسی اور شعبے میں کارکردگی دکھا سکتے ہیں، پاک فوج پاکستان کا واحد ادارہ ہے جس میں باقاعدہ تربیت دی جاتی ہے تو وہ سارے ملک پر حاوی ہے، وہی سب کو مشکل میں ڈال بھی سکتے ہیں اور مشکلات سے نکالنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں جس دن دوسرے شعبوں میں بھی درست تربیت کا نظام بن گیا اور میرٹ کی بحالی ہو گئی وہ بھی کامیابی کے جھنڈے گاڑنے لگیں گے۔
71
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل