ڈیلی دومیل نیوز،سوشل میڈیا سے بات چلی ، پھر کالم بھی لکھے گئے اور استفسار یہ تھا کہ یہ صوبوں والی بات کہاں سے آئی، مختلف حضرات کے الگ الگ خیال اور تبصرے تھے، لیکن ان سب کو زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا اور واضح ہو گیا کہ یہ تجویز کہاں سے آئی ہے، پنجاب گروپ آف کالجز اور دنیا نیوز کے چیئرمین میاں عامر محمود نے ہی پردہ اٹھا دیا، یونیورسٹی آف لاہور کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے ملک کی ترقی ،بہتری اور مسائل کے حل کے لئے چار صوبو ںکو 33صوبوں میں تقسیم کرنے کی تھیوری پیش کی، ان کا دعویٰ ہے کہ اس طرح اخراجات تو نہیں بڑھیں گے لیکن صوبوں کی تعداد میں اضافے کے باعث گورننس بہتر ہوگی اور عوامی شکایات بھی دور ہوں گی، ان کی یہ تقریر و تجویز ان کے چینل پر براہ راست نشر کی گئی اور ساتھ ہی اینکر حضرات و خاتون نے اس تجویز کی افادیت کا بھی ذکر شروع کر دیا۔
میں اس تجویز پر کسی فوری ردعمل کی بجائے یہ عرض کروں گا کہ 70کی دہائی میں یہ بات سب سے پہلے منظرعام پر آئی تو ہم نے اس کی تائید کی تھی، ایئرمارشل (ر) اصغر خان (مرحوم) نے تحریک استقلال کے نام سے سیاسی جماعت تشکیل دی تو اس کے لئے سائنسی عمل بھی کیا جنرل ضیاء کے دور میں جب سیاسی جماعتوں کو عوام سے رجوع کرنے کی اجازت نہیں تھی تو تحریک انصاف کے اجلاس ’’مرغی خانہ‘‘ برکی روڈ پر ہوا کرتے تھے۔ ایئر مارشل (ر) اصغر خان نظم و ضبط کے پابند اور کام کرنے کے عادی تھے۔ چنانچہ انہوں نے متوقع طور پر عام انتخابات کے لئے دستاویزاتی تجاویز مرتب کرنے کا فیصلہ کیا، اس مقصدکے لئے ملکی حوالے سے مختلف شعبہ جات میں اصلاحات کی غرض سے جماعتی گروپ تشکیل دیئے، ان میں ایک گروپ یا کمیٹی گورننس، قانون امن و امان اور کارکردگی کے حوالے سے تجاویز تیار کرنے کی ذمہ دار تھی اس کے سربراہ معروف قانون دان میاں محمود علی قصوری تھے۔
یہ کمیٹیاں جوں جوں اپنا کام مکمل کر لیتیں، ویسے ویسے میڈیا کو آگاہ کیا جاتا تھا۔ میاں محمود علی قصوری نے بھی اصلاحاتی کام مکمل کیا تو ایک پریس کانفرنس میں اپنی کمیٹی کی سفارشات کا تفصیل سے ذکر کیا، مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ اختیارات کی تقسیم کے حوالے سے کمیٹی نے تجویز کیا تھاکہ چاروں صوبوں کے ڈویژن صوبے قرار دیئے جائیں اور دہلی سمیت بعض دوسرے ممالک کی طرح ہر ڈویژن کے لئے ایک لیفٹیننٹ گورنر چار رکنی کابینہ اور مختصر اسمبلی ہو، میاں محمود علی قصوری کا موقف تھا کہ اس عمل سے نہ صرف اختیارات نچلی سطح تک آ جایں گے بلکہ عوام کو دور دراز بھی نہیں جانا پڑے گا۔ تحریک استقلال اس دور کی سیاست کے باعث کمیٹیوں کی حتمی تجاویز کو عملی جامہ پہنانے سے قاصر رہی اور یہ معاملہ دب گیا، اس کے بعد نئے صوبوں کی تشکیل کے لئے جنوبی پنجاب سے آواز بلند ہوئی اور جنوبی پنجاب کے اضلاع پر مشتمل پہلے سرائیکی اور پھر جنوبی پنجاب صوبہ کو صوبہ بنانے کا مطالبہ کیا گیا اور اس کے لئے جدوجہد بھی کی گئی، لیکن جنوبی پنجاب پر مشتمل نیا صوبہ تشکیل دیئے جانے والے عوامل نہ بن سکے اور یہ ایک نعرہ بن کر رہ گیا، حتیٰ کہ سابقہ حکومت نے تسلی کے لئے ملتان میں بھی ایک سیکرٹریٹ قائم کر دیا، تاہم یہ بیل منڈھے نہ چڑھ سکی کہ ایک تو سرائیکی صوبہ والے تاج لنگاہ کی وفات ہو گئی اور ان کے بعد جنوبی پنجاب والوں نے صوبائی مطالبہ ترک کرکے ’’اتحاد‘‘ میں شرکت کرلی اور یون ریجنل سیاست کو وفاقی سیاست کے لئے قربان کر دیا او ریہ معاملہ لٹکتا چلاآ رہا ہے۔ پیپلزپارٹی نے جنوبی پنجاب کے لئے صوبہ بنانے کے لئے قرارداد بھی پیش کی گئی، دلچسپ امر یہ ہوا کہ مسلم لیگ (ن) نے متبادل کے طو رپر بہاولپور کو بھی پرانی حدود کے مطابق صوبہ کی حیثیت دینے کی تجویز پیش کردی، یوں یہ مسئلہ صوبائی اسمبلی تک ہی محدود ہو کر رہ گیا اور اب وعدے ہی وعدے ہیں۔
قارئین! میں نے میاں محمود علی قصوری کی کمیٹی والی تجاویز کے بارے میں ردعمل لینے کی کوشش کی لیکن توجہ نہ دی گئی۔ قارئین! آپ سب جانتے ہوں گے کہ میاں محمود علی قصوری کس قد کاٹھ کے لیڈر تھے۔ ان کی سیاست کا آغاز تو نیپ سے ہوا تاہم 1970ء میں وہ پیپلزپارٹی میں شامل ہو گئے تھے انہوں نے لاہور سے ذوالفقار علی بھٹو کی خالی کی جانے والی نشست پر ضمنی انتخاب میں حصہ لیا اور نشست جیت کر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور جب سقوط ڈھاکہ کے بعد اقتدار پیپلزپارٹی کو ملا تو وہ وفاقی وزیر قانون بنائے گئے اور انہی کی وزارت نے 1973ء کے آئین کا مسودہ تیار کیا اور پھر 1973ء کا یہ آئین منظور کرلیا گیا، تاہم آئینی مسودہ کی تیاری کے وقت میاں محمود علی قصوری کو بھی اپنی تجویز یاد نہ آئی اور آئین میں چاروں صوبے اور صوبائی حکومتیں برقرار رہیں، حالانکہ اس وقت یہ ممکن تھا کہ نئے آئین کے تحت یہ کام بھی کرلیا جاتا لیکن ایسا نہ ہوا۔بعدازاں بھٹو سے اختلاف کے بعد وہ تحریک استقلال میں شامل ہوئے تھے۔
’’ نوازشریف آپ کے بھائی ہیں تو انہیں ابھی یہاں بلاؤ‘‘ خواجہ آصف کی سڑک پر بچے کے ساتھ دلچسپ مکالمے کی ویڈیو وائرل
اب یہ تجویز ایک میڈیا اورتعلیمی گروپ کے چیئرمین میاں عامر محمود کی طرف سے آئی اور انہوں نے دلائل بھی دیئے ہیں، اس لئے قیاس کے گھوڑے دہراتے رہیں کہ اس مقصد کے لئے آئینی ضرورت یہ ہے کہ پہلے صوبائی اسمبلی بھاری بھرکم اکثریت کے ساتھ نئے صوبہ کے لئے قرارداد منظور کرے اور پھر اسے قومی اسمبلی اور سینیٹ سے بھی منظوری مل جائے تو نیا صوبہ بن سکتا ہے لیکن ایسا پہلے ہوا اور نہ اب ممکن ہے، تاہم تجویز کو ایک سابق ضلعی ناظم اور میڈیا گروپ کے سربراہ کے ذریعے عوام کے لئے مشتہر کر دیا گیا ہے اور موجودہ اتحادی حکومتوں پر دبائو بھی آئے گا کہ میاں عامر نے بلدیاتی اداروں کی افادیت کا بھی ذکر کیا ہے۔ میں ذاتی طور پر اس تجویز کا تب بھی حامی تھا اور اب بھی ہوں لیکن جن حضرات نے ذمہ داری سے اسے نبھانا اور صوبے تشکیل دینے کے لئے کام کرناہے وہ اس پر رضامند ہو کر ایوانوں سے منظور کرالیں گے، یا پھر اس پر بحث ہوتی رہے گی۔ البتہ یہ تجویز بلدیاتی اداروں کی تشکیل اور ان کے اختیارات کے لئے ضرور کام آئے گی۔