تاریخ: 28 فروری 2026 | مقام: اسلام آباد / کابل
ڈیورنڈ لائن پر کئی ماہ سے جاری تناؤ اب ایک باقاعدہ فوجی تصادم کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ پاکستان کی جانب سے “آپریشن غضبِ حق” کا آغاز دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات اور افغان عبوری حکومت کی جانب سے ٹی ٹی پی (TTP) کے خلاف کارروائی نہ کرنے کے بعد کیا گیا ہے۔
1. جنگ کا پس منظر اور آغاز
اس حالیہ تنازع کا آغاز فروری کے وسط میں اسلام آباد میں ہونے والے ایک بڑے سیکیورٹی بریچ کے بعد ہوا۔ پاکستان نے افغان حکومت کو ٹی ٹی پی کے رہنماؤں کی حوالگی کے لیے حتمی الٹی میٹم دیا، جس پر عمل درآمد نہ ہونے کی صورت میں 21 فروری کو پاک فضائیہ نے صوبہ خوست اور پکتیکا میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر سرجیکل اسٹرائیکس کیں۔
جواباً افغان فورسز نے سرحد پر بھاری اسلحہ اور ٹینکوں کا استعمال کیا، جس نے اس جھڑپ کو ایک کھلی جنگ میں بدل دیا۔
2. آپریشن کے اہداف (Strategic Objectives)
پاکستانی عسکری ذرائع کے مطابق، اس آپریشن کے تین بڑے مقاصد ہیں:
بفر زون کا قیام: سرحد کے ساتھ ایک ایسی پٹی بنانا جہاں سے دراندازی ناممکن ہو۔
ٹھکانوں کا خاتمہ: ٹی ٹی پی اور داعش (K) کے تربیتی مراکز کو مکمل طور پر تباہ کرنا۔
سرحدی باڑ کی بحالی: سرحد پر جہاں جہاں باڑ کو نقصان پہنچایا گیا، وہاں دوبارہ کنٹرول حاصل کرنا۔
3. موجودہ صورتحال اور انسانی بحران
جنگ کے باعث دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور عوامی نقل و حرکت مکمل طور پر معطل ہے۔
| شعبہ | تازہ ترین صورتحال (28 فروری) |
| سرحدی گزرگاہیں | طورخم اور چمن بارڈر مکمل سیل؛ ہزاروں مال بردار ٹرک پھنسے ہوئے ہیں۔ |
| نقل مکانی | سرحدی دیہاتوں سے تقریباً 150,000 افراد محفوظ مقامات پر منتقل۔ |
| فضائی صورتحال | پاکستان کو فضائی برتری حاصل؛ کابل اور قندھار کے فوجی مراکز پر فضائی نگرانی جاری۔ |
| شناختی چیکنگ | ملک بھر میں 2026 کے نئے سمارٹ کارڈز کے ذریعے سخت چیکنگ کا عمل شروع۔ |
4. عالمی ردِعمل
عالمی برادری اس تصادم پر گہری تشویش کا اظہار کر رہی ہے:
چین: فوری جنگ بندی کی اپیل کی ہے تاکہ سی پیک (CPEC) کے منصوبے متاثر نہ ہوں۔
اقوامِ متحدہ: کابل کے لیے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر خوراک اور ادویات پہنچانے کے لیے “سیف کوریڈور” کا مطالبہ کیا ہے۔
قطر و ترکی: دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کی کوششیں کر رہے ہیں، تاہم ابھی تک کوئی باقاعدہ معاہدہ طے نہیں پایا۔
شہریوں کے لیے اہم ہدایات
سفری پابندی: سرحد سے ملحقہ اضلاع (خیبر، کرم، باجوڑ اور چمن) کی جانب غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔
شناخت کی تصدیق: ہر وقت اپنا جدید NIC (2026 ایڈیشن) ساتھ رکھیں، کیونکہ سیکیورٹی اداروں نے چیک پوسٹوں پر سختی کر دی ہے۔
تصدیق شدہ خبریں: سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی افواہوں کے بجائے صرف سرکاری میڈیا کے بیانات پر یقین کریں۔