کیا بنجمن نیتن یاہو ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں؟ 2

کیا بنجمن نیتن یاہو ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں؟ عبرانی ذرائع میں بڑھتی ہوئی قیاس آرائیاں اور 5 اہم اشارے

تہران / تل ابیب (15 مارچ 2026) – ایران کی تسنیم نیوز ایجنسی کی عبرانی ویب سائٹ نے اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کی سلامتی اور زندگی کے حوالے سے عبرانی زبان کے ذرائع میں گردش کرنے والی خطرناک قیاس آرائیوں پر ایک تفصیلی رپورٹ شائع کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو کی کئی دنوں سے عوامی منظر نامے سے غائب ہونے کی وجہ سے ان کی ممکنہ ہلاکت یا شدید زخمی ہونے کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔

نتین یاہو کی حالت پر شکوک و شبہات: 5 بڑے محرکات

تسنیم نیوز نے ان قیاس آرائیوں کو تقویت دینے والے پانچ اہم اشارے درج ذیل بتائے ہیں:

ویڈیو پیغام کا فقدان: نیتن یاہو کے ذاتی چینل پر گزشتہ تین دنوں سے کوئی نئی ویڈیو اپ ڈیٹ نہیں کی گئی، جبکہ چار دنوں سے ان کی کوئی نئی تصویر بھی سامنے نہیں آئی۔ ان سے منسوب حالیہ بیانات صرف تحریری شکل (Text) میں جاری کیے گئے ہیں۔

روایتی معمول میں تبدیلی: ماضی میں نیتن یاہو روزانہ ایک سے تین ویڈیوز جاری کرتے تھے، لیکن مسلسل تین دن تک ایک بھی ویڈیو کا سامنے نہ آنا غیر معمولی سمجھا جا رہا ہے جس نے شکوک و شبہات کو جنم دیا ہے۔

سیکیورٹی میں اچانک اضافہ: عبرانی ذرائع کے مطابق 8 مارچ کو نیتن یاہو کی رہائش گاہ کے گرد سیکیورٹی حصار کو غیر معمولی طور پر سخت کر دیا گیا تھا۔ خاص طور پر خودکش ڈرونز کے حملوں کو روکنے کے لیے کیے گئے یہ اقدامات کسی ہنگامی صورتحال کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

اعلیٰ سطح کے دوروں کی منسوخی: ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر اور خصوصی نمائندے اسٹیو وِٹکوف کا آج طے شدہ دورہ اسرائیل اچانک منسوخ کر دیا گیا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ اس منسوخی کا تعلق نیتن یاہو کی پراسرار صورتحال سے ہے۔

فرانسیسی صدر کے ساتھ مبینہ کال: فرانس کے صدارتی محل (Élysée Palace) نے نیتن یاہو اور صدر ایمانوئل میکرون کے درمیان ہونے والی حالیہ ٹیلیفونک گفتگو کی کوئی تاریخ واضح نہیں کی۔ اس کال کے حوالے سے بھی صرف ایک تحریری متن جاری کیا گیا ہے، جس سے اس گفتگو کی صداقت پر سوال اٹھ رہے ہیں۔

موجودہ صورتحال

اگرچہ یہ تمام معلومات عبرانی ذرائع اور انٹیلی جنس اشاروں پر مبنی ہیں، تاہم ابھی تک اسرائیلی حکومت یا کسی آزاد عالمی ذریعے نے نیتن یاہو کی ہلاکت یا زخمی ہونے کی باقاعدہ تصدیق یا تردید نہیں کی ہے۔ خطے کی تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال میں یہ خاموشی کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں