بھارتی سپریم کورٹ نے کامیڈی سٹار راجپال یادیو کو 2 کروڑ روپے جمع کرانے کے لیے 2 ہفتوں کی مہلت دے دی

16

نئی دہلی(دومیل نیوز)بھارتی سپریم کورٹ نے ایک اہم فیصلہ سنایا ہے۔ کامیڈی سٹار راجپال یادیو کو 2 کروڑ روپے جمع کرانے کے لیے 2 ہفتوں کی مہلت دی گئی ہے۔

عدالت کی مہلت

بھارتی میڈیا کے مطابق یہ مہلت چیک باؤنس کیس کے حوالے سے جاری مالی تنازع میں دی گئی ہے۔ اداکار کو سپریم کورٹ رجسٹری میں کم از کم 2 کروڑ بھارتی روپے جمع کرانے ہیں۔ انہیں آخری بار 2 ہفتوں کی مہلت دی گئی ہے۔

بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے اس معاملے پر رائے دی۔ بینچ کے مطابق راجپال یادیو کا سابقہ طرز عمل عدالت کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے کافی نہیں ہے۔ تاہم ان کے وکیل کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی۔ اس یقین دہانی پر عدالت نے انہیں مزید 2 ہفتوں کی مہلت دے دی۔

وکیل نے یقین دلایا کہ راجپال یادیو مقررہ مدت کے اندر 2 کروڑ روپے جمع کرائیں گے۔ انہوں نے باقی رقم کے لیے ضمانت بھی فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔

چیف جسٹس کے سوالات

سماعت کے دوران چیف جسٹس سوریا کانت نے راجپال یادیو کے سابقہ طرز عمل کا حوالہ دیا۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا عدالت ان کے وعدے پر بھروسہ کر سکتی ہے؟ ان کے ماضی کے طرز عمل کو دیکھتے ہوئے کوئی کیسے بھروسہ کرے؟ چیف جسٹس نے کہا کہ وہ بالی وڈ میں ڈرامہ اور اداکاری کرنے میں ماہر ہیں۔ عدالت میں بھی وہ وہی کررہے ہیں۔

عدالت نے ان کی ضمانت قبل از گرفتاری اگلی سماعت 5 اکتوبر تک برقرار رکھی ہے۔ تاہم عدالت نے انہیں اپنا پاسپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔

قرض کا پس منظر

واضح رہے کہ 2010 میں راجپال یادیو نے اپنی پہلی فلم اتا پتہ لاپتہ کے لیے قرض لیا تھا۔ یہ فلم ان کی اپنی ہدایت کاری میں بننے والی تھی۔ اس فلم کے لیے انہوں نے ایک نجی ادارے سے 5 کروڑ روپے قرض لیا تھا۔

فلم باکس آفس پر ناکام رہی۔ راجپال یادیو قرض کی رقم واپس نہ کرسکے۔ سود شامل ہونے کے بعد واجب الادا رقم بڑھ کر تقریباً 9 کروڑ روپے ہوگئی۔ اس کے نتیجے میں ایک طویل قانونی جنگ شروع ہوئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں