بلغاریہ انتخابات میں ایلیانا یوٹووا کامیاب، ملک کی پہلی منتخب خاتون صدر

بلغاریہ انتخابات کی خبر کے لیے دنیا بھر کی خبروں کی علامتی تصویر 4

بلغاریہ انتخابات کے دوسرے مرحلے میں قائم مقام صدر ایلیانا یوٹووا نے کامیابی حاصل کر لی ہے اور وہ ملک کی پہلی براہ راست منتخب خاتون صدر بننے جا رہی ہیں۔ دوسرا مرحلہ یکم نومبر کو ہوا۔ متوازی گنتی کے مطابق یوٹووا کو تقریباً 57.4 سے 58.2 فیصد ووٹ ملے۔ ان کے حریف کو تقریباً 38.6 سے 39.6 فیصد ووٹ ملے۔

حریف آندرے گیوروف نے شکست تسلیم کر لی ہے۔ پہلا مرحلہ 25 اکتوبر کو ہوا تھا۔ اس میں یوٹووا کو تقریباً 35 فیصد ووٹ ملے تھے۔ گیوروف کو تقریباً 32 فیصد ووٹ ملے تھے۔ پہلے مرحلے میں ٹرن آؤٹ ریکارڈ کم 23 فیصد رہا تھا۔ دوسرے مرحلے میں ٹرن آؤٹ کا تخمینہ 27 سے 29 فیصد لگایا گیا ہے۔

بلغاریہ انتخابات میں کامیابی کی اہمیت

بلغاریہ میں صدارت کا عہدہ زیادہ تر رسمی ہوتا ہے۔ اس کے باوجود یہ عہدہ علامتی طور پر اہم سمجھا جاتا ہے۔ یوٹووا کی عمر 62 سال ہے۔ وہ جنوری میں قائم مقام صدر بنی تھیں۔ اس وقت رومن رادیف نے پارلیمنٹ کے لیے انتخاب لڑنے کے لیے استعفیٰ دیا تھا۔ ان کے نائب صدر کے امیدوار کریل والچیف تھے۔

رپورٹ کے مطابق یوٹووا ماسکو کے ساتھ مذاکرات کی حامی ہیں۔ وہ یوکرین کو فوجی امداد دینے کی مخالف ہیں۔ یہ نکتہ رپورٹ میں حقائق کے طور پر سامنے آیا ہے۔ اس خبر میں کسی فریق کی حمایت نہیں کی جا رہی۔ صرف رپورٹ شدہ موقف پیش کیا جا رہا ہے۔

سرکاری نتائج اور نئی مدت

یورپی یونین کی سربراہ ارسلا فون ڈیر لائن نے یوٹووا کو مبارکباد دی ہے۔ سرکاری نتائج مرکزی الیکشن کمیشن سے متوقع ہیں۔ یہ نتائج 4 نومبر تک آنے کی توقع ہے۔ مکمل مدت 22 جنوری 2027 سے شروع ہوگی۔ اس کے بعد یوٹووا باقاعدہ صدر کے طور پر ذمہ داریاں سنبھالیں گی۔ بین الاقوامی انتخابات کی دیگر خبروں میں اسرائیل انتخابات کی رپورٹ بھی دیکھیں۔ مزید معلومات کے لیے ماخذ کی رپورٹ ملاحظہ کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں