بندرگاہوں پر ڈاک ہڑتال: 22 ملکوں کی 113 بندرگاہوں پر کام ٹھپ، بحری خدمات متاثر

طوفان موراسو کے خطرے کے پیش نظر ساحلی بندرگاہ پر کنٹینر کرینیں 12

دنیا بھر کی بندرگاہوں پر ڈاک ورکروں نے جمعے کو ایک بڑی ہڑتال کی۔ اس ہڑتال سے بحری اور فیری خدمات بری طرح متاثر ہوئیں۔ بندرگاہوں پر ڈاک ہڑتال 22 ملکوں کی 113 بندرگاہوں پر ہوئی۔ رائٹرز کے مطابق اس تاریخی ہڑتال کی حمایت 25 سے زائد یونینوں نے کی۔ ہڑتال کا دائرہ یورپ سے آگے دیگر خطوں تک پھیلا ہوا تھا۔ اس کے اثرات کئی اہم بندرگاہوں پر واضح طور پر محسوس کیے گئے۔

بندرگاہوں پر ڈاک ہڑتال

مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ بندرگاہوں کو اسلحہ کی ترسیل کے لیے استعمال کرنے کی سخت مخالفت کر رہے ہیں۔ وہ جنگوں میں مارے جانے والے معصوم ملاحوں کے لیے پرزور احتجاج کر رہے ہیں۔ یونینوں کے اعداد و شمار کے مطابق 2026 میں اب تک بحیرہ اسود میں 570 تصدیق شدہ حملے ہو چکے ہیں۔ ان خطرناک حملوں میں 40 ملاح ہلاک ہوئے ہیں۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ بندرگاہوں کو جنگی مقاصد کے لیے ہرگز استعمال نہ کیا جائے۔ سمندر میں کام کرنے والے ملاحوں کی قیمتی جانوں کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔

اس ہڑتال کا سب سے نمایاں مظاہرہ یونان کی مشہور بندرگاہ پیرائیس میں ہوا۔ وہاں تقریباً 3,000 ورکرز نے بھرپور شرکت کی۔ اس کے نتیجے میں یونانی جزائر کے لیے تمام فیری خدمات معطل ہو گئیں۔ مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ دیگر یورپی بندرگاہوں پر بھی کام بری طرح متاثر ہوا۔ اس سے مال بردار جہازوں کی آمد و رفت میں نمایاں تاخیر ہوئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ہڑتال کا سلسلہ بڑھا تو عالمی سپلائی چین پر بھی دباؤ پڑ سکتا ہے۔ تاہم ہڑتال کے منتظمین نے اسے صرف ایک دن کے پرامن احتجاج کے طور پر پیش کیا ہے۔

مختصر یہ کہ یہ ہڑتال 22 ملکوں کی 113 بندرگاہوں پر ہوئی جس میں 25 سے زائد یونینوں نے حصہ لیا۔ مظاہرین اسلحہ کی ترسیل کی سخت مخالفت اور ملاحوں کے تحفظ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں