پاکستان نے چین سے نوجوانوں کی مہارت کے لیے 11 معاہدے حاصل کر لیے ہیں۔ یہ معاہدے سی اے سی آئی ای 2026 کے موقع پر طے پائے۔ پاکستان نے شریک ممالک میں سب سے زیادہ معاہدے حاصل کیے۔ ان معاہدوں سے 14 مہارت و تعلیم کے منصوبوں کی راہ ہموار ہوئی۔ منصوبے نوجوانوں کی تربیت اور تعلیم پر مرکوز ہیں۔ دورے کی قیادت وزیراعظم یوتھ پروگرام کے چیئرمین رانا مشہود احمد خان نے کی۔ وفد نے چینی اداروں سے تفصیلی ملاقاتیں کیں۔ مقصد نوجوانوں کو جدید مہارتوں سے آراستہ کرنا تھا۔ اس کامیابی کو تعلیم کے شعبے میں اہم پیش رفت قرار دیا گیا۔ خبر کی تفصیل سرکاری ذرائع سے سامنے آئی۔
ایک علیحدہ مفاہمت وزیراعظم آفس میں دستخط ہوئی۔ اس میں چائنا پاکستان ٹی وی ای ٹی تعاون شامل تھا۔ وزیراعظم یوتھ پروگرام بھی اس کا فریق تھا۔ ٹینگ چائنیز ایجوکیشن اینڈ ٹیکنالوجی بھی شریک تھی۔ ہدف پانچ سال میں 50 ہزار سے زیادہ نوجوانوں کی تربیت ہے۔ اس کے ساتھ 2 ہزار ماسٹر ٹرینرز بھی تیار کیے جائیں گے۔ شعبوں میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز شامل ہیں۔ ای کامرس بھی ان شعبوں میں شامل ہے۔ فن ٹیک بھی تربیت کا حصہ ہوگا۔ مصنوعی ذہانت بھی شامل کی گئی ہے۔ میڈیا، سیاحت اور کاروباری مہارت بھی اس میں شامل ہیں۔ سمارٹ ڈیجیٹل تربیتی مراکز بھی قائم کیے جائیں گے۔
پاکستان چین معاہدے اور نوجوانوں کی مہارت
تعلیم کے حوالے سے ایک اور خبر یہاں پڑھیں۔ اس خبر میں امتحانات کی تفصیل دی گئی تھی۔ نوجوانوں کی مہارت کا موضوع اس سے بھی جڑا ہوا ہے۔ تعلیم اور مہارت ایک دوسرے کو مضبوط کرتے ہیں۔ چین کے ساتھ تعاون اس لیے اہم ہے کہ وہاں ٹیکنالوجی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ پاکستان کے نوجوان اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ تربیت کے بعد روزگار کے مواقع بڑھنے کی امید ہے۔ کاروبار شروع کرنے کی صلاحیت بھی بہتر ہوگی۔ ڈیجیٹل شعبے میں کام کے مواقع زیادہ ہیں۔ اس لیے یہ منصوبے نوجوانوں کے مستقبل سے جڑے ہیں۔
تربیت کے منصوبے اور آئندہ مراحل
رپورٹ کے مطابق بیجنگ میں ایک کراس بارڈر ای کامرس ٹیلنٹ ٹریننگ بیس کا افتتاح ہوا۔ یہ اطلاع رپورٹ کے طور پر دی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق چائنا الیکٹرسٹی کونسل کے ساتھ ایک گرین پاور ٹیلنٹ ڈویلپمنٹ بیس بھی قائم ہوا۔ یہ اطلاع بھی رپورٹ کے طور پر دی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق جیلن کالج نومبر سے 15 پاکستانی طلبہ کو چینی زبان کی تربیت دے گا۔ اخراجات اس کے لیے حتمی کیے گئے ہیں۔ یہ اطلاع بھی رپورٹ کے طور پر دی گئی ہے۔ ان منصوبوں کی تفصیل آئندہ مرحلوں میں سامنے آئے گی۔ نوجوانوں کی دلچسپی اس میں زیادہ متوقع ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے بیرونی رپورٹ ملاحظہ کریں۔ خبر یہ سرکاری اعلان اور رپورٹوں پر مبنی ہے۔