پاکستان میں صحافیوں پر قانونی دباؤ بڑھ گیا، فریڈم نیٹ ورک کی نئی رپورٹ میں انکشاف

صحافیوں پر قانونی دباؤ: پریس کانفرنس سے خطاب 11

پاکستان میں صحافیوں کے خلاف تشدد کی نوعیت بدل رہی ہے۔ اب جسمانی حملوں کی جگہ قانونی کارروائیوں نے لے لی ہے۔ فریڈم نیٹ ورک کی نئی رپورٹ کے مطابق صحافیوں پر قانونی دباؤ اب ایک بڑا خطرہ بن گیا ہے۔ اس فریڈم نیٹ ورک رپورٹ کا عنوان “From Violence to Lawfare: Process as Punishment for Journalists” ہے۔ عدنان رحمت اور اقبال خٹک نے اس رپورٹ کو تحریر کیا ہے۔ انٹرنیشنل میڈیا سپورٹ کا تکنیکی تعاون اس کی تیاری میں شامل ہے۔ یہ رپورٹ صحافیوں کے خلاف جرائم کے خاتمے کے عالمی دن سے قبل جاری کی گئی ہے۔ 2 نومبر کو صحافیوں کے خلاف جرائم کے خاتمے کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔

صحافیوں پر قانونی دباؤ

رپورٹ کے مطابق اکتوبر 2025 سے اگست 2026 کے دوران پاکستان میں صحافیوں کے خلاف ہر ماہ اوسطاً دس واقعات ریکارڈ ہوئے۔ اس عرصے میں فرائض کی انجام دہی کے دوران ایک صحافی قتل ہوا۔ تین صحافیوں پر قاتلانہ حملے کی کوششیں ہوئیں۔ 18 صحافیوں کو تشدد کی دھمکیاں ملیں۔ 11 صحافی جسمانی حملوں کا شکار ہوئے۔ اس کے علاوہ 13 قانونی کارروائیاں کی گئیں۔ 32 مرتبہ قانونی کارروائی کی دھمکیاں دی گئیں۔ صوبہ پنجاب میں 49 واقعات ریکارڈ ہوئے۔ یہ تعداد مجموعی واقعات کے نصف سے زیادہ ہے۔ اس کے بعد خیبر پختونخوا، اسلام آباد اور بلوچستان کا نمبر آتا ہے۔

اس رپورٹ کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ صحافیوں پر قانونی دباؤ اب جسمانی تشدد سے زیادہ بڑا خطرہ ہے۔ پیکا قانون کے بڑھتے ہوئے استعمال پر رپورٹ میں تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق پیکا قانون کے تحت ہتک عزت، غلط معلومات، ہراسانی اور ساکھ کو نقصان پہنچانے کے الزامات اکثر بدعنوانی، سرکاری اخراجات اور سرکاری رویے کی کوریج کرنے والے صحافیوں کے خلاف لگائے جاتے ہیں۔ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی پر تنقیدی رپورٹنگ کو نشانہ بنانے کا الزام ہے۔ ڈیجیٹل اور آزاد صحافی خاص طور پر زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ متاثرین اور ان کے اہل خانہ کے مطابق تقریباً دو تہائی واقعات میں حکومتی حکام یا عہدیدار ذمہ دار تھے۔ لہٰذا قانونی عمل کو سزا کے طور پر استعمال کرنا آزادی صحافت کے لیے سنگین خطرہ ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں