پونے میٹرو کی پنک لائن آج سے مسافروں کے لیے کھل گئی ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی نے 3 نومبر کو اس لائن کا ورچوئل افتتاح کیا تھا۔ مسافر سروس آج 4 نومبر 2026 کو صبح 6 بجے شروع ہوئی۔ لائن مکمل طور پر بلند ہے اور 23.203 کلومیٹر طویل ہے۔ راستہ مان سے ہنجواڑی تک شیواجی نگر تک ہے۔ آخری اسٹیشن ضلع عدالت شیواجی نگر ہے۔ راستہ راجیو گاندھی انفوٹیک پارک سے گزرتا ہے۔ ہنجواڑی آئی ٹی مرکز بھی اس راستے میں شامل ہے۔ کل 23 اسٹیشن ہیں۔ ابتدائی طور پر 17 اسٹیشنوں پر سروس شروع ہوئی ہے۔ باقی چھ اسٹیشن مرحلہ وار جنوری 2027 تک کھلیں گے۔
لاگت 8,313 کروڑ روپے ہے۔ منصوبہ ڈی بی ایف او ٹی پبلک پرائیویٹ شراکت کے تحت بنا ہے۔ حکام اسے بھارت کی پہلی مکمل خواتین سے چلنے والی میٹرو لائن قرار دیتے ہیں۔ اس وضاحت کو حکام کی وضاحت کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ تقریباً 100 خواتین ٹرین پائلٹ ہیں۔ اسٹیشن عملے میں خواتین تقریباً نصف ہیں۔ اسی تقریب میں فیز دوم کے چار کوریڈورز کی بنیاد بھی رکھی گئی۔ ان کوریڈورز کی کل لمبائی تقریباً 44.4 کلومیٹر ہے۔ مجموعی منصوبوں کی لاگت تقریباً 21,800 کروڑ روپے بتائی گئی ہے۔ یہ اعداد پی آئی بی کی رپورٹنگ سے لیے گئے ہیں۔
پونے میٹرو پنک لائن کی سروس اور راستہ
نئی لائن سے پونے کا میٹرو نیٹ ورک تقریباً 55 کلومیٹر ہو گیا ہے۔ سفر کا وقت اس سے کم ہوگا۔ آئی ٹی ملازمین کو زیادہ فائدہ ہوگا۔ طلبہ اور روزانہ مسافروں کو بھی سہولت ملے گی۔ سڑکوں پر ٹریفک کا دباؤ کم ہونے کی امید ہے۔ ماحول پر بھی مثبت اثر پڑے گا۔ ٹرانسپورٹ سے متعلق ایک اور خبر یہاں پڑھیں۔ اس خبر میں ٹرین حادثے کی تفصیل تھی۔ مسافروں کو نئی سروس کے اوقات چیک کرنے چاہیے۔
آئندہ توسیع اور خواتین عملہ
خواتین پائلٹوں کی تعداد اس منصوبے کی خاص بات ہے۔ اسٹیشنوں پر بھی خواتین عملہ موجود ہوگا۔ اس سے خواتین مسافروں کو اعتماد ملے گا۔ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوئے ہیں۔ آئندہ مرحلوں میں باقی اسٹیشن بھی کھلیں گے۔ توسیع سے شہر کے مزید علاقے جڑیں گے۔ مزید تفصیلات کے لیے بیرونی رپورٹ ملاحظہ کریں۔ خبر یہ افتتاح اور سروس تک محدود ہے۔ آئندہ اعلان سے مزید تفصیل سامنے آئے گی۔