شنگھائی: چینی کمپنی ایجی بوٹ نے اپنا نیا روبوٹ اے آئی ماڈل متعارف کرا دیا ہے۔ اس ماڈل کا نام جی او تھری پری ویو ہے۔ اس کا اعلان 3 نومبر کو کیا گیا ہے۔ یہ اعلان پی آر نیوز وائر کے ذریعے سامنے آیا ہے۔ یہ ماڈل روبوٹس کو سیکھنے اور کام کرنے میں مدد دے گا۔
جی او تھری پری ویو ایک ایمبوڈیڈ فاؤنڈیشن ماڈل ہے۔ یہ پری ٹریننگ، پوسٹ ٹریننگ اور پوسٹ ڈیپلائمنٹ میں سیکھنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ اس میں ڈبلیو آر اے ایم آرکیٹیکچر استعمال کیا گیا ہے۔ اس کا مکمل نام ورلڈ ریزننگ ایکشن ماڈل ہے۔ یہ آرکیٹیکچر ٹاسک کو سمجھنے، مستقبل کی حالت کی پیش گوئی اور عمل پیدا کرنے کو یکجا کرتا ہے۔ اس میں جینی ایوالور ہائبرڈ پوسٹ ٹریننگ سسٹم بھی شامل ہے۔
روبوٹ اے آئی ماڈل کی عالمی درجہ بندی
جی او تھری پری ویو تین بڑے روبوٹ بینچ مارکس میں پہلے نمبر پر رہا ہے۔ ان میں روبو ڈوجو شامل ہے۔ روبو ٹوئن بھی شامل ہے۔ روبو کولیزیئم بھی شامل ہے۔ ان بینچ مارکس میں پہلی پوزیشن اس ماڈل کی کارکردگی کو ظاہر کرتی ہے۔ یہ کامیابی ایجی بوٹ کے لیے ایک اہم سنگ میل ہے۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ ماڈل 2026 کے آخر تک مکمل طور پر اوپن سورس ہو جائے گا۔ اس سے محققین اور ڈویلپرز اسے استعمال کر سکیں گے۔ روبوٹکس کے شعبے میں اس سے نئی تحقیق کو فروغ ملے گا۔ مستقبل میں اس طرح کے ماڈلز روبوٹس کو زیادہ ذہین بنا سکتے ہیں۔ اس سے صنعتی اور گھریلو استعمال میں بھی تبدیلی آ سکتی ہے۔
اس سے قبل اسرائیل کے انتخابی نتائج کی خبر بھی شائع ہوئی تھی۔ بین الاقوامی خبروں میں پولیو مہم سے متعلق خبر بھی قارئین تک پہنچی تھی۔ مزید تفصیل کے لیے بیرونی ذریعے کی جی او تھری اعلان کی رپورٹ بھی ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔