ڈیلی دومیل نیوز.چناری (خصوصی رپورٹر) دنیا جہاں ترقی کی نئی بلندیوں کو چھو رہی ہے، وہیں آزاد کشمیر کے ضلع جہلم ویلی کے حلقہ سات میں بنیادی سہولیات کا فقدان آج بھی جوں کا توں برقرار ہے۔ یونین کونسل گجر بانڈی کے دیہی علاقے خصوصاً تلی کوٹ، کلی گبر، بیمان شیراں اور کیوا روڈ شدید پسماندگی، ادھورے ترقیاتی منصوبوں اور سڑکوں کی خستہ حالی کا شکار ہیں۔
منتخب نمائندے خاموش، وعدے وفا نہ ہوئے
مقامی عوام کا کہنا ہے کہ وزیر تعلیم دیوان علی چغتائی اور چیئرمین ضلع کونسل طیب منظور کیانی نے انتخابات سے قبل عوامی فلاح و بہبود کے بڑے دعوے کیے تھے، مگر اقتدار میں آنے کے بعد وہ عوامی مسائل پر خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔ باشعور طبقے اور فلاحی تنظیموں کی جانب سے بارہا توجہ دلانے کے باوجود عوامی مسائل ترجیح نہ بن سکے۔
تلی کوٹ تا کلی گبر روڈ، تین سال سے ادھورا منصوبہ
تلی کوٹ سے کلی گبر روڈ پر تعمیراتی کام کا آغاز تین سال قبل ہوا، مگر تاحال مکمل نہ ہو سکا۔ مقامی افراد کے مطابق، ٹھیکیدار کی غفلت اور محکمہ شاہرات کی عدم توجہی کے باعث سڑک پر صرف ابتدائی سولنگ کی گئی، جبکہ جگہ جگہ پتھروں کے خطرناک ڈھیر موجود ہیں۔ بارشوں کے دوران یہ راستہ مکمل بند ہو جاتا ہے، اور شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
عوامی فنڈز سے محدود بہتری، حکومتی دلچسپی ندارد
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ماضی میں جتنے بھی ترقیاتی اقدامات ہوئے، وہ حکومتی مہربانی نہیں بلکہ عوامی چندوں اور فلاحی اداروں کی کاوشوں کا نتیجہ ہیں۔ اگرچہ عوام نے بارہا منتخب نمائندوں سے رابطہ کیا، مگر ان کی طرف سے کوئی مؤثر ردعمل سامنے نہیں آیا۔
عوام کا مطالبہ اور اپیل
علاقہ مکینوں نے وزیر تعمیرات عامہ چوہدری اظہر صادق، چیف انجینئر، سیکرٹری ورکس، ڈپٹی کمشنر جہلم ویلی اور متعلقہ محکموں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر:
تلی کوٹ تا کلی گبر سڑک کی تعمیر مکمل کروائیں
سڑک کے معیار کا ازسر نو جائزہ لیں
ٹھیکیدار اور نگران اداروں کی کارکردگی کی تحقیقات کریں
مایوسی کا شکار نوجوان نسل
عوامی سطح پر تشویش ظاہر کی گئی ہے کہ اگر اسی طرز عمل کا تسلسل جاری رہا تو نوجوان نسل میں مایوسی اور احساس محرومی مزید گہرا ہو جائے گا۔ باشعور شہریوں، طلباء اور نوجوانوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ متحد ہو کر علاقائی ترقی کے لیے سنجیدہ لائحہ عمل اختیار کریں تاکہ جہلم ویلی جیسے حساس علاقے کو پسماندگی سے نکالا جا سکے۔