110

جہلم ویلی میں بدترین لوڈشیڈنگ، ناقص موبائل سروس کے خلاف 26 جولائی کو مکمل شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کا اعلان

ڈیلی دومیل نیوز.چناری(خصوصی رپورٹر)عوامی ایکشن کمیٹی کے کور ممبر صدر انجمن تاجران ضلع جہلم ویلی مرکزی نائب صدر آل ازاد کشمیر انجمن تاجران وسیکرٹری جنرل انجمن تاجران جہلم ویلی محمد ممتاز اعوان ۔سرپرست اعلی حاجی زمان احمد عباسی ۔ممبران انجمن تاجران راجہ مظہر خان۔اویس خان نے ڈسٹرکٹ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ضلع جہلم ویلی میں بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ ۔موبائل کمپنیوں کی ناقص سروس کے خلاف 26جولائی کو شٹر ڈاؤن ہڑتال اور پہیہ جام ہڑتال کریں گئے ضلع جہلم ویلی کی ضرورت 16میگا واٹ ہے جب کہ محکمہ پاور جنریشن آرگنائزیشن کے پانچ پراجیکٹس جن کی پیدوار 14میگا واٹ بنتی ہے اس کے باوجود کنیناں سے لیکر چکوٹھی چکار تک علاقوں میں 16گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ ہے سراں۔چٹھیاں۔چکار۔ہٹیاں بالا ۔چناری چکوٹھی ۔ سمیت بیسویں دیہات اندھیرے میں ڈوبے ہوئے ہیں ۔دونوں محکمہ جات مل کر بھی ٹوٹل ضرورت 16میگا واٹ پوری نہیں کر رہے بدترین لوڈشیڈنگ کے زمہ داران کا تعین کے لیے وزیراعظم آزادکشمیر ۔چیف سیکرٹری آزاد کشمیر ۔احتساب بیورو۔انٹی کرپشن ۔ تحقیقات کرائے ۔اس سے قبل یہ اعتراض تھا کہ ضلع میں بجلی کی ضرورت زیادہ ہے گرڈ اسٹیشن پر نصب ٹرانسفارمر کی استعداد کار کم ہے جس سے ہر بریکر پر لوڈشیڈنگ ہورہی ہے جون میں 32کروڑ روپے کی لاگت سے جدید ترین 26MBV کا ٹرانسفارمر نصب کیا گیا تاریخ کی بدترین گرمی میں تین دن تک بجلی بند رہی باوجود اس کے لوڈشیڈنگ میں کمی واقع ہو اس کے بعد بجلی کی لوڈشیڈنگ چھ گھنٹے سے بڑھ کر 16گھنٹے ہوگئی ہے ایک گھنٹے میں بیس بار بجلی ٹرپ ہوتی ہے تاجروں کا معاشی استحصال ہورہا ہے اربوں روپے کی لاگت کے پانچ پاور ہاوس ہاوسسز شاریاں۔کھٹائی ۔چھم ۔بنہ مولا۔لیپا کو ضلع کی ضرورت پوری کرنی چاہیے تھی لیکن مرکزی شہر ہٹیاں بالا میں 16گھنٹے کی لوڈشیڈنگ سے نظام زندگی مفلوج ہوگیا ہے اس کی زمہ داری نہ محکمہ برقیات قبول کرتاہے نہ پی ڈی او اور نہ ہی ضلعی انتظامیہ ۔عاجز آکر ہم چھبیس جولائی کو مکمل شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کریں گے گرڈ اسٹیشن پر نصب ہونے والے ٹرانسفارمر کی تنصیب کے بعد لوڈشیڈنگ زیرو ہونے کے بجائے دوگنا ہوگئی ہے اس سے قبل بلند وبانگ دعوے کیے گئے تھے کہ سٹی کا فیڈر الگ ہوگا زیرو لوڈشیڈنگ ہوگی لیکن ایک ماہ گزرنے کے باجود نہ بریکرز بنے اور نہ ہی فیڈرز پر عملی کام ہوا ۔29جون کی رات ایک بجے سیکرٹری برقیات نے بٹن آن کر کے ٹرانسفارمر کا افتتاح کیا کہ کہیں کریڈٹ عوامی ایکشن کمیٹی نہ لے جائے لیکن عجلت میں کیا گیا کام ناقص اور نان ٹیکنکل ہے پورے ضلع میں وولٹیج 135سے اوپر نہیں جارہا ہے جس کی وجہ سے تمام الیکٹرانکس کی اشیاء ناکارہ ہوگئی ہیں ۔موبائل کمپنیاں لوٹ مار میں مصروف ہیں مہنگے ترین پیکچز کی مد میں صارفین کی کھال ادھیڑی جارہی ہے فور جی سروس کے نام پر ون جی اور ٹو جی سروس بھی فراہم نہیں کی جارہی ہے پی ٹی اے کے احکام خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہے ہیں ان زیادتیوں اور ناانصافیوں کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے کاروباری طبقے کے تذبذب کو دیکھتے ہوئے انجمن تاجران ۔سول سوسائٹی ۔طلبہ تنظیمیں ۔جہلم ویلی بارایسوسی ایشن ۔جہلم ویلی ٹرانسپورٹ یونین مشترکہ طور پر 26کو ہڑتال کرے گی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں