87

منگلا ڈیم کی تعمیر کے دوران ہزاروں کشمیریوں نے اپنے گھر، زمینیں، آبائی قبریں اور تاریخی ورثہ قربان کیا محمد طاہر کھوکھر

اسلام آباد (ڈیلی دومیل نیوز) نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں منگلا ڈیم متاثرین نے ہنگامی پریس کانفرنس کی، جس کی قیادت پاسبانِ وطن پاکستان کے مرکزی صدر اور سابق وزیر سیاحت و ٹرانسپورٹ محمد طاہر کھوکھر نے کی۔

پریس کانفرنس کے آغاز میں طاہر کھوکھر نے کہا کہ منگلا ڈیم کی تعمیر کے دوران ہزاروں کشمیریوں نے اپنے گھر، زمینیں، آبائی قبریں اور تاریخی ورثہ قربان کیا، لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ آج وہی متاثرین انصاف اور سہولیات کے لیے دربدر پھر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے اقتدار میں رہتے ہوئے بھی متاثرین کے مسائل حل نہیں کیے۔ متاثرین نے بتایا کہ انہیں بطور معاوضہ زمینیں الاٹ کی گئیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ بیشتر متاثرین کو 15 ایکڑ کے بجائے صرف 8 سے 10 ایکڑ تک زمین ملی جبکہ باقی زمینوں پر مقامی افراد یا سرکاری ادارے قابض ہیں۔ اس موقع پر متاثرین نے اپنی زمینوں کے ریکارڈ بھی میڈیا کو دکھائے۔

متاثرین نے الزام لگایا کہ بلدیہ خوشاب نے 32 ایکڑ زمین پر غیر قانونی قبضہ کیا ہوا ہے جو متاثرین کو الاٹ کی گئی تھی۔ بارہا حکومت پنجاب اور مقامی انتظامیہ سے رجوع کیا گیا مگر عملی اقدام نہ اٹھایا گیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ زمین فوری طور پر اصل مالکان کو واپس دلائی جائے۔

طاہر کھوکھر نے کہا کہ حکومت نے متاثرین کو آزاد کشمیر کی عوام کی طرح سہولیات دینے کا وعدہ کیا تھا مگر آج وہ بھی مہنگی بجلی خریدنے پر مجبور ہیں۔ اگر آزاد کشمیر کو سستی بجلی فراہم کی جا سکتی ہے تو انہی متاثرین کو کیوں نہیں جنہوں نے اپنی زمینیں دے کر یہ بجلی پیدا کی۔

پریس کانفرنس میں یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ ملک بھر میں آباد متاثرین منگلا ڈیم کے لیے آزاد کشمیر اسمبلی میں ایک مخصوص نشست مختص کی جائے تاکہ ان کی آواز ایوانوں تک پہنچ سکے۔ متاثرین نے کہا کہ ہزاروں کی تعداد میں مقیم پاکستان متاثرین کے نام ووٹر لسٹوں میں شامل نہیں کیے گئے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ آئندہ الیکشن میں تمام متاثرین کو ووٹر لسٹوں میں شامل کیا جائے۔

طاہر کھوکھر نے عوامی ایکشن کمیٹی کے 28 نکاتی ایجنڈے پر بھی تنقید کی اور کہا کہ اس میں متاثرین منگلا ڈیم کا ذکر تک نہیں کیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں