95

وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ چیف آف آرمی سٹاف ایک آئینی عہدہ ہے جس کی مدت ملازمت پانچ سال ہے

ڈیلی دومیل نیوز،وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ چیف آف آرمی سٹاف ایک آئینی عہدہ ہے جس کی مدت ملازمت پانچ سال ہے ۔

سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ مارشل آف ایئر فورس اور مارشل آف نیول فورس کے ٹائٹل متعارف کرانے کی تجویر ہے یہ ٹائٹل دینے کا اختیار وزیراعظم کا نہیں ہو گا بلکہ پارلیمنٹ کا ہو گا ۔

تجویز ہے کہ آرمی چیف ، چیف آف ڈیفنس فورسز ہوں گے ۔ ان کا کہنا تھا کہ فیلڈ مارشل کے رینک اور ٹائٹل کو آئینی تحفظ حاصل ہو گا ۔

وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا ہے کہ ستائیسویں آئینی ترمیم کے تحت ججز ٹرانسفر پر ایگزیکٹو کے اختیارات میں کمی کی گئی ہے جبکہ فیلڈ مارشل کا اعزاز تاحیات ہوگا ۔

دوسری طرف اعظم تارڑ نے کہا کہ آئینی ترمیم کا بل سینیٹ میں پیش ہونے کے بعد مشترکہ کمیٹی کے سپرد کیا جائے گا، حکومت نے اس سلسلے میں پیپلز پارٹی، متحدہ قومی موومنٹ پاکستان اور دیگر اتحادی جماعتوں سے مشاورت مکمل کر لی ہے، چارٹر آف ڈیموکریسی میں آئینی عدالت سے متعلق جو پرانا وعدہ تھا اس پر اتفاق رائے ہو گیا ۔

وزیر قانون نے کہا ہے کہ ججز کے ٹرانسفر کے معاملے پر ایگزیکٹو کے اختیارات میں کمی لانے اور یہ اختیار جوڈیشل کمیشن کے سپرد کرنے کی تجویز دی گئی ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں