مظفرآباد(ڈیلی دومیل نیوز)پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی راہنما اپوزیشن لیڈر خواجہ فاروق احمد نے آزادکشمیر کے جاریہ سیاسی بحران پرتبصرہ کرتے ہوئے پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کے ذمہ داران سے سوال کیا ہے کہ اب جبکہ آپ نے پاکستان میں سینٹ سے 27ویں ترمیم بھی منظور کرالی اور اب سہولت کاروں کی مدد سے اسمبلی سے بھی منظور کرالیں گے اور آزادکشمیر میں بھی بقول پیپلزپارٹی کے آپ کے 27 اراکین عدم اعتماد کے لیے پورے کرلیے ہیں تو پھر دیر کس بات کی ہے کیوں آپ اپنی عدم اعتماد کی تحریک کو اسمبلی میں پیش نہیں کرتے،کیا اب بھی آپ کو کوئی خوف ہے،کوئی ڈر ہے کہ کہیں کوئی رکن سلپ نہ کرجائے۔خواجہ فاروق احمد نے کہا کہ ان 27اراکین میں پی ٹی آئی کے 10منحرف اراکین شامل ہیں مانگے تانگے کی سواریاں جلد ہی گاڑی سے اتر جاتی ہیں،آپ ان 27کی دن رات حفاظت کریں گے یا موجودہ اسمبلی کے بچ جانے والے 6ماہ میں کوئی عوامی کام کرسکیں گے،پی ٹی آئی کا چوری شدہ مینڈیٹ آپ کے ساتھ بھی چلنے والانہیں ہے۔انہوں نے وزیراعظم انوارالحق سے مطالبہ کیا کہ وہ جاتے جاتے چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے لیے اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرتے جائیں اور اپوزیشن لیڈر سے مشاورت کا عمل مکمل کرتے ہوئے مطابق ڈائریکشن عدالت العالیہ تقرری کے لیے پینل وزیراعظم پاکستان کو بھجوادیں تاکہ وقت مقررہ پر جولائی 2026ء میں الیکشن کا انعقاد ہوسکے وگرنہ اس بات کا خدشہ ہے کہ مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کی مشترکہ حکومت چیف الیکشن کمشنر کی بروقت تقرری کا عذر لے کر الیکشن ایک سال کے لیے کہیں ملتوی نہ کردیں کیونکہ ان کے پاس عذر ہوگا کہ انتخابی فہرستیں حلقہ جات ودیگرانتظامات کرنے ہیں جس کے لیے ٹائم نہ ہے اس لیے ان ہی دونوں میں پراسس مکمل کرلیں وگرنہ یہ پاکستان کے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان کی طرح اپنی مرضی،منشاء کا الیکشن کمشنر لگوانے میں کامیاب ہوجائیں گے اور یہاں بھی فارم 47 والا پارٹ 2 ہی چلے گا۔اب جبکہ آپ کے پاس 27 پورے ہیں چاہیے جیسے بھی جس طرح بھی آپ نے پورے کیے ہیں کو سامنے لے آئیں اس سیاسی بحران کو ختم کریں،آزادکشمیر میں ٹھپ ہوا ترقیاتی عمل چلنے دیں،عوام پر کچھ رحم کریں اپنے اقتدار کی جنگ بندکریں۔
82
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل