ڈیلی دومیل نیوز،ڈائریکٹر جنرل سٹیٹ دیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی و کمشنر بحالیات سردار وحید خان نے کہا ہے کہ کشمیر پالیسی ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے زیر اہتمام نجی تعلیمی اداروں کے اساتذہ کرام کے لیے تربیت ورکشاپ کا انعقاد وقت کی اہم ضرورت ہے،نجی تعلیمی سیکٹر اس سے قبل نظرانداز تھا کشمیر پالیسی ریسرچ انسٹیٹیوٹ کا یہ اقدام خوش آئیند ہے کہ نجی تعلیمی اداروں کے اساتذہ کرام کو تعلیم و تدریس کے ساتھ ساتھ تاریخ اور تحریک آزادی کشمیر سے شناساں کیا گیا،یہ پیغام صرف شرکاء تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ تمام اساتذہ کرام اپنے اپنے تعلیمی ادارہ جات میں طلباء کو تاریخ او رتحریک آزادی کشمیر کے پس منظر اور پیش منظر سے آگاہ کریں،آپریشن بنیان المرصوص کے بعد جس طرح پاکستان کی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے اس سے مسئلہ کشمیر بھی ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔ اب سب سے زیادہ ذمہ داریاں اہلیان کشمیر کی ہیں کہ ہم مقظوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، ہندوستان کے ناجائز قبضہ اور غیر قانونی اقدامات سے دنیا کو آگاہ کریں،سردار وحید خان کشمیر پالیسی ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے زیراہتمام تعلیمی ادارہ جات کے اساتذہ کرام کے لیے منعقدہ دو روزہ تربیتی ورکشاپ کے اختتامی سیشن سے بطور مہمان خصوصی خطاب کر رہے تھے۔تربیتی سیشن کے دوسرے دن مہمان مقررڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر جہلم ویلی سید احمد حسن نےEducation Technology Integration in کے موضوع پر لیکچر دیا جبکہ دوسرے مہمان مقرر چیئرمین ضلعی ایلیمنٹری بورڈ راجہ محمد سفیرخان نے Lesson Planning and Assesment کے موضوع پر لیکچر دیا۔تربیت ورکشاپ کی اختتامی تقریب سے کشمیرپالیسی ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر راجہ محمد سجاد خان، اسسٹنٹ ڈائریکٹر سید عثمان علی بخاری، معاون بابر بشیر اعوان، مطلوب حسین اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔ تقریب سے خطاب کے دوران مہمان اعزاز ڈائریکٹر جنرل ایس ڈی ایم اے و کمشنر بحالیات سردار وحید خان نے تربیتی ورکشاپ کے شرکاء مین سرٹیفیکیٹس تقسیم کیے۔تقریب سے خطاب کے دوران مہمان اعزاز نے مزید کہا کہ نجی تعلیمی سیکٹر اہمیت کا حامل ہے جس نے حکومت کا بہت بڑا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھا رکھا ہے۔ پرائیوٹ تعلیمی سیکٹر توجہ کا متقاضی ہے اور اس سیکٹر کی راہنمائی و اسے دور جدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے کے لیے سرکاری سطح پر معاونت ناگزیر ہے۔
86
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل