ڈھاکہ/کیرالہ — 27 جنوری 2026 جنوبی ایشیا میں موسمِ سرما کے اختتام کے ساتھ ہی نیپا وائرس کے پھیلاؤ کے خطرات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق، بنگلہ دیش کے چند اضلاع میں کھجور کے کچے رس (Raw Date Palm Sap) کے استعمال سے نیپا وائرس کے نئے کیسز سامنے آئے ہیں، جس کے بعد محکمہ صحت نے عوام کو خبردار کر دیا ہے۔
نیپا وائرس کیا ہے اور یہ کیسے پھیلتا ہے؟
نیپا وائرس ایک زونوٹک وائرس ہے، یعنی یہ جانوروں (بنیادی طور پر چمگادڑوں اور خنزیروں) سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے۔
منتقلی کا ذریعہ: آلودہ پھلوں کا استعمال (جنہیں چمگادڑوں نے کھایا ہو)، کھجور کا کچا رس، یا متاثرہ شخص کے ساتھ قریبی تعلق۔
عالمی ادارہ صحت (WHO): ڈبلیو ایچ او نے اسے ان بیماریوں کی فہرست میں شامل کیا ہے جو مستقبل میں عالمی وبا (Pandemic) بننے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
نیپا وائرس کی علامات
اس وائرس کی علامات عام طور پر 4 سے 14 دنوں کے اندر ظاہر ہونا شروع ہوتی ہیں:
ابتدائی طور پر بخار، سر درد، اور گلے میں سوزش۔
سانس لینے میں شدید دشواری۔
دماغی سوزش (Encephalitis) جس سے غنودگی، الجھن اور دورے پڑ سکتے ہیں۔
شدید صورتوں میں مریض 24 سے 48 گھنٹوں کے اندر کومہ میں جا سکتا ہے۔
3. بچاؤ کی احتیاطی تدابیر
چونکہ نیپا وائرس کی فی الحال کوئی مستند ویکسین یا مخصوص علاج موجود نہیں ہے، اس لیے احتیاط ہی واحد حل ہے:
پھلوں کی دھلائی: درخت سے گرے ہوئے یا پرندوں کے کترے ہوئے پھل ہرگز نہ کھائیں۔
کھجور کا رس: کھجور کے کچے رس کو ابالے بغیر پینے سے پرہیز کریں۔
ہاتھوں کی صفائی: صابن اور پانی سے بار بار ہاتھ دھوئیں۔
فاصلہ: متاثرہ مریضوں کی دیکھ بھال کے دوران حفاظتی ماسک اور دستانے استعمال کریں۔
پاکستان کی موجودہ صورتحال (جنوری 2026)
اگرچہ پاکستان میں فی الحال اس کا کوئی کیس نہیں ہے، لیکن چند عوامل کی وجہ سے ماہرینِ صحت محتاط رہنے کا مشورہ دیتے ہیں:
چمگادڑوں کی موجودگی: نیپا وائرس پھیلانے والی مخصوص نسل کی بڑی چمگادڑیں (Fruit Bats) پاکستان کے بعض علاقوں (خصوصاً پنجاب اور سندھ کے باغات) میں پائی جاتی ہیں۔ تاہم، ان میں وائرس کی موجودگی کے شواہد ابھی تک نہیں ملے۔
سرحدی نگرانی: پاکستان کے محکمہ صحت اور این آئی ایچ (NIH) نے سرحدوں اور ہوائی اڈوں پر اسکریننگ کے نظام کو الرٹ کر رکھا ہے تاکہ کسی بھی متاثرہ علاقے سے آنے والے مسافروں کی نگرانی کی جا سکے، جیسا کہ کووڈ کے دوران کیا گیا تھا۔
غلط معلومات (Misinformation): سوشل میڈیا پر اکثر پرانی ویڈیوز یا افواہیں پھیلائی جاتی ہیں۔