کراچی (19 اپریل 2026) – وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور ڈی جی ایف آئی اے ڈاکٹر عثمان انور نے ایف آئی اے کراچی زون کے مختلف شعبوں کا تفصیلی معائنہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے واضح کیا کہ عوامی مسائل کا حل اور میرٹ پر مبنی تحقیقات ادارے کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔
اہم ہدایات اور اصلاحات
شفاف تحقیقات: وزیر داخلہ نے ہدایت کی کہ تمام زیرِ التواء انکوائریوں اور شکایات کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹایا جائے اور تحقیقات میں شفافیت پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے۔
جدید ادارہ سازی کا ہدف: محسن نقوی نے عزم ظاہر کیا کہ 31 دسمبر تک ایف آئی اے کو ایک جدید، متحرک اور انتہائی موثر ادارہ بنا دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا، “ایف آئی اے کو ملک کا مضبوط ترین اور قابلِ بھروسہ ادارہ بنانا ہماری اولین ترجیح ہے۔”
کرپشن پر زیرو ٹولرنس: ادارے میں کرپشن کے خلاف سخت ترین کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بدعنوان افسران کے لیے کوئی جگہ نہیں، جبکہ ایماندار افسران کو مکمل تحفظ اور جاب سیکیورٹی فراہم کی جائے گی۔
جزا و سزا کا نظام: کارکردگی کی بنیاد پر افسران کے لیے جزا و سزا کا ایک خودکار نظام متعارف کرایا جا رہا ہے۔
عملے کی فلاح و بہبود اور ترقی
دورے کے دوران افسران اور عملے کی سہولیات پر بھی بات چیت کی گئی:
طبی سہولیات: عملے کے باقاعدہ طبی معائنے اور انہیں اضافی طبی سہولیات کی فراہمی کے احکامات جاری کیے گئے۔
پرموشن سسٹم: ڈائریکٹر ایف آئی اے کراچی نے بتایا کہ افسران کی پیشہ ورانہ ترقی کے لیے پرموشن کے نظام کو مزید بہتر اور تیز بنایا جا رہا ہے۔
مستقبل کا لائحہ عمل
| پہلو | تفصیل |
| ڈیڈ لائن | 31 دسمبر (جدید ادارے کی تکمیل) |
| اصول | میرٹ، شفافیت اور سچائی |
| احتساب | کرپشن پر زیرو ٹولرنس، جزا و سزا کا نظام |
| وسائل | بہتر کارکردگی پر اضافی وسائل کی فراہمی |