5

آزاد کشمیر کی تعلیمی تاریخ کا انقلابی قدم: 3 ارب روپے سے زائد کا تعلیمی پیکج منظور

مظفرآباد (23 اپریل 2026): موسٹ سینئر وزیر میاں عبدالوحید ایڈووکیٹ نے وزراء حکومت دیوان علی خان چغتائی اور ملک ظفر کے ہمراہ ایک اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے تاریخی تعلیمی پیکج کی تفصیلات جاری کر دیں۔ انہوں نے اسے نیشنل ایجوکیشن پالیسی کا تسلسل اور وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور کے ویژن کی کامیابی قرار دیا۔

تعلیمی پیکج کے مالیاتی و انتظامی خدوخال

میاں عبدالوحید ایڈووکیٹ نے بتایا کہ یہ پیکج کسی پسند نا پسند کے بجائے “ریشنلائزیشن پالیسی” اور ضرورت کی بنیاد پر تیار کیا گیا ہے۔

کل بجٹ: سکولوں کے لیے 2 ارب 45 کروڑ روپے جبکہ ہائیر ایجوکیشن کے لیے 76 کروڑ 65 لاکھ روپے مختص۔

آسامیوں کی تخلیق: سکولز اور کالجز میں ہزاروں نئی تدریسی آسامیاں پیدا کی گئی ہیں۔

مشاورت: یہ تمام سفارشات منتخب ممبران اسمبلی کی مشاورت سے حتمی کی گئی ہیں۔

سکول ایجوکیشن: اپ گریڈیشن اور نئی آسامیاں

وزیر تعلیم سکولز دیوان علی خان چغتائی نے بتایا کہ مجموعی طور پر 868 اداروں کی قسمت بدلنے جا رہی ہے:

نئے سکول: 182 نئے سکولوں کا قیام (259 نئی آسامیاں)۔

اپ گریڈیشن: 653 موجودہ سکولوں کو اگلے درجے پر منتقل کیا گیا (2692 آسامیاں)۔

اضافی نفری: 200 موجودہ سکولوں میں 368 نئی آسامیاں تخلیق کی گئیں۔

ماہر مضامین (Subject Specialists): تمام مڈل اور ہائی سکولوں میں ماہر مضامین کی موجودگی یقینی بنائی گئی ہے۔

ہائیر ایجوکیشن: ڈویژن وار تقسیم اور نئے کالجز

وزیر ہائیر ایجوکیشن ملک ظفر نے “یونیفارم پالیسی” کے تحت منظور شدہ پیکج کی تفصیلات فراہم کیں:

ڈویژننئے کالجزاپ گریڈیشننئی آسامیاںکل مالیت
مظفرآباد090623525 کروڑ 77 لاکھ
پونچھ071426027 کروڑ 63 لاکھ
میرپور041122622 کروڑ 11 لاکھ

جامعہ کشمیر (UAJK) کا مالی بحران: ملک ظفر نے انکشاف کیا کہ حکومت نے تاریخ میں پہلی بار جامعہ کشمیر کو پونے دو ارب (1.75 ارب) روپے فراہم کیے ہیں تاکہ یونیورسٹی کو مالی بحران سے مستقل طور پر نکالا جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں