3

بڑی طبی تبدیلی: PCOS کا نام بدل کر PMOS رکھ دیا گیا، تشخیص میں حائل رکاوٹیں دور ہونے کی امید

پراگ (طبی ڈیسک | 13 مئی 2026): خواتین میں ہارمونز کی خرابی کی عام بیماری، جسے اب تک ‘پولی سسٹک اوورین سنڈروم’ (PCOS) کہا جاتا تھا، کا نام باقاعدہ طور پر تبدیل کر کے ‘پولی اینڈوکرائن میٹابولک اوورین سنڈروم’ (PMOS) رکھ دیا گیا ہے۔

نام کی تبدیلی کی وجہ اور اعلان

اس تبدیلی کا اعلان پراگ میں منعقدہ ‘یورپین کانگریس آف اینڈو کرائنولوجی’ میں کیا گیا اور اس کی تفصیلات طبی جریدے ‘دی لینسیٹ’ (The Lancet) میں شائع ہوئی ہیں۔

14 سالہ محنت: یہ فیصلہ بین الاقوامی طبی تنظیموں اور مریضوں کے گروپس کے درمیان 14 سالہ تعاون کے بعد کیا گیا ہے۔

پرانے نام کی خامی: ماہرین کے مطابق پرانا نام ‘پولی سسٹک’ صرف بیضہ دانی (Ovary) کی طرف توجہ دلاتا تھا، جبکہ یہ بیماری پورے جسم کے میٹابولزم اور ہارمونز کو متاثر کرتی ہے۔

تشخیص میں تاخیر: پرانے نام کی وجہ سے دنیا بھر میں تقریباً 70 فیصد مریض خواتین کی درست تشخیص نہیں ہو پاتی تھی۔

پاکستان اور عالمی صورتحال

عالمی شرح: دنیا بھر میں ری پروڈکٹیو عمر کی 10 سے 13 فیصد خواتین اس مرض کا شکار ہیں۔

پاکستان میں تشویشناک اعداد و شمار: پاکستان میں اس بیماری کی شرح حیران کن طور پر 50 فیصد ہے، جو کہ ایک سنگین صورتحال کی عکاسی کرتی ہے۔

PMOS کیا ظاہر کرتا ہے؟

نیا نام PMOS اس بیماری کی پیچیدہ نوعیت کو بہتر طور پر واضح کرتا ہے:

یہ صرف بیضہ دانی کا مسئلہ نہیں بلکہ انسولین اور اینڈروجن جیسے ہارمونز کی خرابی کا مجموعہ ہے۔

یہ نظامِ تولید کے ساتھ ساتھ میٹابولزم کو بھی متاثر کرتا ہے۔

اس مرض کے شکار افراد میں ذیابیطس (Diabetes) اور دل کی بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں