8

وفاقی بجٹ 2026-27ء: 18,771 ارب روپے کا حجم؛ تنخواہ دار طبقے اور کاروباروں کے لیے تاریخی ٹیکس ریلیف کا اعلان

اسلام آباد (خصوصی بجٹ رپورٹ): وفاقی حکومت نے نئے مالیاتی سال کا بجٹ پیش کر دیا ہے جس میں جی ڈی پی (GDP) کی شرحِ نمو کا ہدف 4 فیصد اور اوسط مہنگائی کا ہدف 8.2 فیصد مقرر کیا گیا ہے۔ حکومت نے نئے ٹیکس لگانے کے بجائے ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے اور انفورسمنٹ کو مضبوط بنانے کی حکمتِ عملی اپنائی ہے۔

1. تنخواہ دار طبقے (Salaried Class) کے لیے بڑا سرپرائز اور ٹیکس کٹس

وفاقی وزیرِ خزانہ نے وزیرِ اعظم شہباز شریف کی خصوصی ہدایت پر تنخواہ دار طبقے پر عائد انکم ٹیکس کی چار مختلف سلیبس (Slabs) میں نمایاں کمی کا اعلان کیا ہے:

سالانہ 22 سے 32 لاکھ آمدن: ٹیکس کی شرح 23 فیصد سے کم کر کے 20 فیصد کر دی گئی ہے۔

سالانہ 32 سے 41 لاکھ آمدن: ٹیکس کی شرح 30 فیصد سے کم کر کے 25 فیصد مقرر کی گئی ہے۔

سالانہ 41 سے 56 لاکھ آمدن: ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کر کے 29 فیصد کر دی گئی ہے۔

سالانہ 56 سے 70 لاکھ آمدن: ٹیکس ریٹ 35 فیصد سے کم کر کے 32 فیصد کر دیا گیا ہے۔

سرچارج کا خاتمہ: تنخواہ دار طبقے پر عائد 9 فیصد سرچارج مکمل طور پر ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

سرکاری ملازمین: سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافہ جبکہ کم از کم اجرت میں 10 فیصد اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔

2. نجی شعبے اور کاروباری برادری کو مراعات

معاشی پہیہ تیز کرنے اور سمال انڈسٹریز کو سہارا دینے کے لیے بجٹ میں بڑے اقدامات شامل ہیں:

سپر ٹیکس کا خاتمہ: سالانہ 15 سے 50 کروڑ روپے کمانے والے کاروباروں پر عائد سپر ٹیکس (جو کہ 1% سے 7% تک تھا) کو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔ ہائی ارنرز (50 کروڑ سے زائد) کے لیے اسے 10 فیصد سے کم کر کے 8 فیصد کیا گیا ہے۔

پراپرٹی ٹیکس میں کمی: فائلرز کے لیے پراپرٹی خریدنے پر ودہولڈنگ ٹیکس 2.5 فیصد سے گھٹا کر 1.25 فیصد کر دیا گیا ہے۔

برآمدات (Exports): ایکسپورٹ پر مجموعی ٹیکس کو 2 فیصد سے کم کر کے 1.25 فیصد کر دیا گیا ہے تاکہ ملکی برآمدات کو فروغ مل سکے۔

3. ڈیجیٹل اکانومی، آئی ٹی اور فیمیل ویلفیئر

آئی ٹی اور فری لانسنگ: آئی ٹی سیکٹر اور فری لانس ایکسپورٹرز کے لیے ‘فائنل ٹیکس ریژیم’ (Final Tax Regime) کی مدت میں مالیاتی سال 2030ء تک مزید 3 سال کی توسیع کر دی گئی ہے۔

کریڈٹ کارڈ ٹرانزیکشنز: بینکاری ذرائع کو فروغ دینے کے لیے غیر ملکی ڈیبٹ اور کریڈٹ کارڈز پر ودہولڈنگ ٹیکس 5 فیصد سے یکسر کم کر کے 0.5 فیصد کر دیا گیا ہے۔

خواتین کے لیے ریلیف: سینیٹری پیڈز اور مانع حمل ادویات/وسائل (Contraceptives) پر عائد تمام ٹیکسز مکمل طور پر ختم کر دیے گئے ہیں۔

مصنوعی ذہانت (AI): ملک میں ٹیکنالوجی کے انقلاب کے لیے “نیشنل آرٹیفیشل انٹیلیجنس ایکو سسٹم ڈویلپمنٹ پروگرام” کا آغاز کیا گیا ہے جو کہ 1 ارب ڈالر کا فلیگ شپ منصوبہ ہے۔

4. بڑے اخراجات اور ترقیاتی فنڈز (Allocations)

سود اور قرضوں کی ادائیگی (Debt Servicing): بجٹ کا سب سے بڑا حصہ یعنی 8,054 ارب روپے صرف مارک اپ اور قرضوں کی ادائیگی کی مد میں جائے گا۔

دفاعی بجٹ: علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال اور دفاعی ضروریات کے پیشِ نظر دفاعی بجٹ میں 17.6 فیصد اضافہ کر کے اسے 3,000 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے۔

ترقیاتی بجٹ (PSDP): وفاقی پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے لیے 1,000 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

سوشل سیفٹی نیٹ (BISP): بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا بجٹ 17 فیصد بڑھا کر 838 ارب روپے کر دیا گیا ہے، جس سے اب 12 ملین (ایک کروڑ 20 لاکھ) خاندان مستفید ہوں گے۔

ڈیمز اور پانی کے منصوبے: داسو ہائیڈرو پاور کے لیے 21 ارب اور دیامیر بھاشا ڈیم کے لیے 14 ارب روپے سمیت پانی کے منصوبوں کے لیے مجموعی طور پر 103.1 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں