کوہاٹ(ڈیلی دومیل نیوز)کوہاٹ میں پولیس لائن کے قریب دھماکے کے نتیجے میں 15 افراد جاں بحق اور 50 سے زائد زخمی ہو گئے۔زخمیوں میں پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ دھماکا نمازِ جمعہ کے دوران ہوا جس سے مسجد کے باہر گڑھا پڑ گیا، دھماکے سے مسجد کا بیرونی حصہ شدید متاثر ہوا اور دیوار بھی گر گئی۔دھماکے سے قریبی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
آئی جی خیبر پختون خوا ذوالفقار حمید نے ’جیو نیوز‘ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ بارود سے بھری گاڑی پرانی پولیس لائنز کے گیٹ سے ٹکرائی گئی جس کے بعد دھماکا ہوا اور فائرنگ بھی ہوئی۔
پس منظر: کوہاٹ
پولیس لائنز عام طور پر سکیورٹی کے اہم مراکز ہوتی ہیں۔
وہاں عام طور پر سخت سکیورٹی انتظامات ہوتے ہیں۔
دھماکوں کے بعد عام طور پر علاقے کو گھیرے میں لیا جاتا ہے۔
پولیس شواہد اکٹھے کرتی ہے۔
فرانزک ٹیمیں جائے وقوعہ کا معائنہ کرتی ہیں۔
زخمیوں کو عام طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا جاتا ہے۔
ریسکیو ٹیمیں امدادی کارروائیوں میں حصہ لیتی ہیں۔
اسپتالوں میں عام طور پر ایمرجنسی نافذ کی جاتی ہے۔
دھماکوں سے عمارتوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
قریبی آبادی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
حکومت عام طور پر واقعے کی تحقیقات کا حکم دیتی ہے۔
سکیورٹی ادارے ملزمان کی تلاش کرتے ہیں۔
عوام سے بھی تعاون کی اپیل کی جاتی ہے۔
مشکوک سرگرمی کی اطلاع دینا شہریوں کی ذمہ داری ہے۔
نماز کے اوقات میں مساجد میں رش ہوتا ہے۔
ایسے میں سکیورٹی مزید سخت کی جاتی ہے۔
خیبر پختون خوا میں پولیس نے قربانیاں دی ہیں۔
دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پولیس کا کردار اہم ہے۔
عوام کا حوصلہ بلند رکھنا ضروری ہے۔
متاثرہ خاندانوں کی مدد سماجی ذمہ داری ہے۔
میڈیا ذمہ داری سے رپورٹنگ کرے۔
افواہوں سے گریز کرنا چاہیے۔
سرکاری بیانات پر اعتماد کرنا بہتر ہے۔
امن کی بحالی سب کی مشترکہ کوشش سے ممکن ہے۔