88

پیسے ایک نمبر کے سامان کاپی شدہ، شہر اقتدار میں کاپی کر کے اشیائے ضروریہ کی فروخت کھلے عام جاری

مظفرآباد(نامہ نگار) پیسے ایک نمبر کے سامان کاپی شدہ، شہر اقتدار میں کاپی کر کے اشیائے ضروریہ کی فروخت کھلے عام جاری، انتظامیہ خاموش مبینہ حصہ دار بن گئی، مصروف ترین کاروباری مراکز سمیت گلی کوچوں میں قائم دکانوں پر عام استعمال،ضروریات زندگی کا سامان اور کاپی کاسمیٹکس کھلے عام فروخت کیے جانے لگے، مظفرآباد کاپی شدہ اشیاء کی فروخت میں کھلی منڈی کی حیثیت اختیار کر گیا،کچہری روڈ،مدینہ مارکیٹ،دو روپے والی گلی سب پر بازی لے گیے، تفصیلات کے مطابق دارالحکومت مظفرآباد کے مصروف ترین کاروباری مراکز قرب و جوار کے علاقوں اور گلی کوچوں میں کھلی دکانوں پر اشیائے ضروریہ سمیت دیگر کاپی شدہ سامان کی فروخت دھڑلے سے جاری ہے جنھیں کوئی پوچھنے والا نہیں، دو نمبر کاسمیٹکس کا سامان استعمال کر کے درجنوں افراد مرد و زن مختلف جلدی بیماریوں کا بھی شکار ہونے لگے ہیں،کاپی سامان میں ہائیجین ریزر، چھوٹے بڑے سیل، گلسرین، وائسلین، کریمیں، پینسلز، تیل، جلدی صفائی کی کریمیں، مختلف انواع و اقسام کی کریمیں، بلیڈ، صرف، صابن نہانے والے، صابن کپڑے دھونے والے، حتی کہ زندگی میں استعمال ہونے والی چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی کاپی مارکیٹ میں کھلے عام دستیاب اور فروخت کی جا رہی ہے، ملٹی نیشنل کمپنیوں نے بھی چپ سادھ رکھی ہے، گزشتہ روز عوام الناس اور سول سوساٸٹی کے اکابرین نے بتایا کہ انہوں نے ریزر خرید کر لائے اعلی کوالٹی کے ریزر لانے کے بعد جب وہ شیو کرنے لگے تو ریزر نے شیو کرنے سے انکار کر دیا، دوسری جانب مختلف باربرز شاپس کے مالکان نے بھی یہ شکایت کی ہے کہ مارکیٹ میں دستیاب بلیڈ شیو کے قابل نہیں ہیں حالانکہ ہم دیکھ بھال کر اچھی کمپنی کے بلیڈ خرید کر لاتے ہیں مگر جب استعمال کرتے ہیں تو وہ بلیڈ شیو نہیں کرتے، اسی طرح مصروف ترین کاروباری مراکز جن میں بینک روڈ، کچہری روڈ، اولڈ سیکرٹریٹ، مدینہ مارکیٹ، اپر اڈا، مین بازار اور دیگر گلی کوچوں میں قاٸم دکانوں پر کھلے عام یہ کاپی سامان فروخت کیا جا رہا ہے مگر انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں، سول سوسائٹی اور لوگوں نے ارباب اختیار ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان تمام کاروباری مراکز میں فروخت کیے جانے والا یہ کاپی شدہ سامان کو خصوصی طور پر چیک کریں اور ایسے تمام سامان کو تلف کیا جائے اور راتوں رات امیر ہونے والے تاجروں کو نکیل ڈالی جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں