اسلام آباد — 3 فروری 2026 ورلڈ بینک گروپ کے صدر اجے بنگا نے پیر کے روز وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی۔ وزیراعظم نے اجے بنگا کا خیرمقدم کرتے ہوئے ورلڈ بینک کے دیرینہ تعاون کو سراہا، جو پاکستان میں معاشی ترقی اور اصلاحات کے عمل کو آگے بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔
ملاقات کے اہم نکات اور ترجیحات
اس ملاقات میں پاکستان کی معاشی ترقی کے لیے 10 سالہ کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک (CPF) کی اہمیت پر زور دیا گیا۔ وزیراعظم نے ورلڈ بینک کی قیادت کو حکومت کے معاشی ایجنڈے سے آگاہ کیا، جس کے اہم خدوخال درج ذیل ہیں:
ڈیجیٹل ڈویلپمنٹ اور توانائی: ملک میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی بہتری اور توانائی کے شعبے میں اصلاحات۔
انسانی سرمایہ (Human Capital): تعلیم اور صحت کے شعبوں میں سرمایہ کاری۔
نجی سرمایہ کاری: روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے نجی شعبے کی حوصلہ افزائی۔
زراعت اور انفراسٹرکچر: جدید زراعت (Agribusiness) اور موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف مضبوط انفراسٹرکچر کی تعمیر۔
اصلاحات پر عملدرآمد کا عزم
وزیراعظم شہباز شریف نے اس بات کا اعادہ کیا کہ حکومت پاکستان پائیدار معاشی استحکام کے لیے اپنے مقامی طور پر تیار کردہ (Homegrown) اصلاحاتی پروگرام پر سختی سے عمل پیرا ہے۔ انہوں نے ترقیاتی منصوبوں میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے مضبوط نگرانی (Oversight) کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
“ورلڈ بینک پاکستان کا ایک بااثر ترقیاتی شراکت دار بن چکا ہے، اور ہم ان کے تعاون سے ملک میں نوکریوں سے بھرپور معاشی ترقی لانے کے لیے پرعزم ہیں۔” — وزیراعظم شہباز شریف
ورلڈ بینک کا موقف
ورلڈ بینک کے صدر اجے بنگا نے وزیراعظم کی میزبانی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے حکومتی اصلاحات کی تعریف کی۔ انہوں نے “ون ورلڈ بینک گروپ” (One World Bank Group) اپروچ کے ذریعے تعاون کو مزید گہرا کرنے کے عزم کا اظہار کیا اور کہا کہ نجی وسائل کا بہتر استعمال حکومت کے اصلاحاتی ایجنڈے کو پورا کرنے کے لیے ضروری ہے۔