12

عید الاضحیٰ 2026: پاکستان میں حتمی تاریخ، سرکاری چھٹیوں کا نوٹیفکیشن اور مسنون دعائیں و تکبیرات

اسلام آباد (ویب ڈیسک | 20 مئی 2026): پاکستان بھر میں عید الاضحیٰ 1447ھ روایتی عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جائے گی۔ مرکزی رویتِ ہلال کمیٹی کے حتمی فیصلے کے بعد وفاقی حکومت نے عید الاضحیٰ کی سرکاری چھٹیوں کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے، جس کے بعد ملک بھر میں عید کی تیاریاں عروج پر پہنچ گئی ہیں۔

یہ مبارک دن حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی عظیم قربانی اور اللہ کی رضا کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے کی لازوال یادگار ہے، جسے دنیا بھر کے مسلمان ہر سال 10 ذی الحجہ کو پورے جوش و جذبے سے مناتے ہیں۔

1۔ پاکستان میں عید الاضحیٰ کی حتمی تاریخ اور چھٹیوں کا اعلان

چاند کی رویت اور عید کی تاریخ: مرکزی رویتِ ہلال کمیٹی کا اجلاس 17 مئی کو کراچی میں مولانا آزاد کی زیرِ صدارت منعقد ہوا، جس میں ملک کے مختلف حصوں سے چاند کی شرعی شہادتیں موصول ہوئیں۔ کمیٹی کے متفقہ فیصلے کے مطابق یکم ذی الحجہ 1447ھ پیر 18 مئی کو تھی، جس کے تحت پاکستان میں عید الاضحیٰ بدھ 27 مئی 2026 کو منائی جائے گی۔

سرکاری چھٹیوں کا نوٹیفکیشن: کیبنٹ ڈویژن کی جانب سے بدھ کے روز جاری کردہ آفیشل نوٹیفکیشن کے مطابق، وزیرِ اعظم پاکستان نے عید الاضحیٰ کے موقع پر 3 دن کی عوامی تعطیلات کی منظوری دی ہے۔ ملک بھر میں 26، 27 اور 28 مئی 2026 (منگل، بدھ اور جمعرات) کو عام تعطیل ہوگی۔

2۔ عید الاضحیٰ کی مسنون دعائیں اور تکبیرات

عید الاضحیٰ کے ایام ذکر و اذکار اور اللہ کی بڑائی بیان کرنے کے دن ہیں۔ اس سیزن میں کچھ خاص دعائیں اور تکبیرات پڑھنا سنتِ نبوی ﷺ سے ثابت ہیں۔

الف) تکبیرِ تشریق (عید کے ایام کا لازمی ذکر)

9 ذی الحجہ کی نمازِ فجر سے لے کر 13 ذی الحجہ کی نمازِ عصر تک (یعنی منگل 26 مئی کی فجر سے ہفتہ 30 مئی کی عصر تک)، ہر فرض نماز کے بعد بلند آواز سے (خواتین دھیمی آواز میں) ایک مرتبہ یہ تکبیر پڑھنا واجب ہے:

اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، وَلِلَّهِ الْحَمْدُ

ترجمہ: “اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اور اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اور تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں۔”

ب) قربانی کرنے کی مسنون دعا

جب قربانی کے جانور کو قبلہ رخ لٹا دیا جائے، تو ذبح کرنے سے پہلے یہ دعا پڑھیں:

إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، إِنَّ صَلاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، لا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِکَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ۔ اللَّهُمَّ مِنْکَ وَلَکَ

ترجمہ: “میں نے اپنا رخ یکسو ہو کر اس ذات کی طرف کیا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔ بے شک میری نماز، میری قربانی، میرا جینا اور میرا مرنا سب اللہ رب العالمین ہی کے لیے ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے اور میں فرمانبرداروں میں سے ہوں۔ اے اللہ! یہ (جانور) تیری ہی طرف سے ہے اور تیرے ہی لیے ہے۔”

ذبح کرتے وقت کہیں:

بِسْمِ اللَّهِ وَاللَّهُ أَكْبَرُ (اللہ کے نام کے ساتھ اور اللہ سب سے بڑا ہے)

ذبح کرنے کے بعد کی دعا: جانور ذبح کرنے کے بعد بارگاہِ الٰہی میں قربانی کی قبولیت کے لیے یہ دعا مانگیں:

اللَّهُمَّ تَقَبَّلْ مِنِّي كَمَا تَقَبَّلْتَ مِنْ حَبِيبِكَ مُحَمَّدٍ وَخَلِيلِكَ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِمَا السَّلَامُ

ترجمہ: “اے اللہ! میری طرف سے یہ قربانی ایسے ہی قبول فرما جیسے تو نے اپنے حبیب حضرت محمد ﷺ اور اپنے خلیل حضرت ابراہیم علیہ السلام سے قبول فرمائی تھی۔”

(نوٹ: اگر آپ کسی اور کی طرف سے قربانی کر رہے ہیں، تو مِنِّي کی جگہ مِنْ کہہ کر اس شخص کا نام لیں)۔

3۔ عید الاضحیٰ کی روح اور معاشرتی اہمیت

قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

“اللہ کو نہ تو ان (قربانی کے جانوروں) کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ ان کا خون، بلکہ اسے تو تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔” (سورۃ الحج: 37)

یہ تہوار ہمیں سکھاتا ہے کہ اسلام میں اصل اہمیت ظاہری رسم کی نہیں بلکہ نیت اور تقویٰ کی ہے۔ عید الاضحیٰ کے موقع پر نمازِ عید کی ادائیگی، خاندانی اجتماعات اور قربانی کے گوشت کی تقسیم کے ذریعے بھائی چارے کو فروغ ملتا ہے۔ اسلام کی رو سے قربانی کے گوشت کے تین حصے کیے جاتے ہیں؛ ایک حصہ اپنے گھر کے لیے، دوسرا رشتہ داروں اور دوستوں کے لیے، اور تیسرا لازمی حصہ غریبوں، مسکینوں اور ضرورت مندوں میں تقسیم کیا جاتا ہے تاکہ معاشرے کا کوئی بھی فرد اس خوشی سے محروم نہ رہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں