ڈیلی دومیل نیوز، ہر سال 3 دسمبر دنیا بھر میں معذور افراد کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد نہ صرف معذور افراد کے حقوق، ضروریات اور معاشرتی شمولیت کو اجاگر کرنا ہے بلکہ ریاستوں کو یہ یاد دہانی بھی کروانا ہے کہ ایک مہذب معاشرہ وہ ہے جہاں کوئی بھی فرد اپنی جسمانی یا ذہنی کمزوری کے باعث پیچھے نہ رہ جائے۔ پاکستان میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق معذور افراد کی تعداد 3 سے 5 فیصد کے درمیان بتائی جاتی ہے، تاہم غیر سرکاری اداروں کے مطابق یہ تعداد 12 فیصد سے بھی زیادہ ہے۔ آبادی کے اس بڑے حصے کو تعلیم، صحت، روزگار، رسائی اور سماجی تحفظ جیسے بنیادی حقوق تک رسائی میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
آزاد کشمیر میں معذور افراد کی مشکلات مزید بڑھ جاتی ہیں کیونکہ پہاڑی جغرافیہ، دور دراز علاقے، کمزور انفراسٹرکچر اور حکومتی عدم توجہی معاشرتی محرومی کو مزید گہرا کرتی ہے۔ آزاد کشمیر کے معاشرتی اور انتظامی ڈھانچے میں یہ مسئلہ کئی پہلوؤں سے متاثر ہوتا ہے، اور معذور افراد کی مشکلات بعض اوقات زندگی بھر کے چیلنج میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔تعلیم کے میدان میں اکثر تعلیمی اداروں میں ریمپس، خصوصی کلاس رومز، سائن لینگویج انٹرپریٹرز اور خصوصی اساتذہ جیسی سہولیات موجود نہیں ہوتیں، جس کے باعث سینکڑوں بچے تعلیم کو ادھورا چھوڑ دیتے ہیں۔ صحت اور بحالی کے شعبے میں فزیوتھراپی مراکز کی شدید کمی، مصنوعی اعضاء کے اداروں کا فقدان، اور ماہرین نایاب ہونے کی وجہ سے بحالی کا عمل انتہائی دشوار ہو جاتا ہے۔ سماج کا منفی رویہ اور معذوری کو کمزوری یا بوجھ سمجھنا معذور افراد کی خود اعتمادی اور عملی زندگی پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔اسی طرح سرکاری اداروں میں ملازمتوں کے لیے موجود 2% کوٹہ پر عملدرآمد کمزور ہے، سفارشی کلچر اور بھرتیوں میں رکاوٹیں مزید مایوسی پھیلاتی ہیں۔ سرکاری عمارتوں میں رسائی کا فقدان، مناسب ریمپس، لفٹ، ٹوائلٹ اور سائن بورڈز کی عدم موجودگی معذور افراد کے لیے بنیادی خدمات تک رسائی کو بھی مشکل بنا دیتی ہے۔ مالی معاونت اور سوشل پروٹیکشن کے پروگرام غیر منظم اور ناکافی ہیں جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ میں سہولتوں کی کمی آزاد کشمیر کے پہاڑی ماحول میں معذور افراد کو مزید مشکلات سے دوچار کرتی ہے۔خواتین معذور افراد کی مشکلات دوگنا بڑھ جاتی ہیں۔ انہیں تعلیم، صحت، روزگار، گھریلو زندگی اور معاشرتی سطح پر شدید امتیاز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ معاشرہ اکثر ان کے حقوق کو نظر انداز کر دیتا ہے، جو ان کے لیے مزید رکاوٹیں پیدا کرتا ہے۔
ان تمام مسائل کے باوجود آزاد کشمیر میں مظفرآباد فزیکل ری ایبلیٹیشن سینٹر (MPRC) ایک ادارہ ایسا بھی ہے جو معذور افراد کی بحالی کے لیے امید کی کرن بنا۔2005 کے تباہ کن زلزلے کے بعد جب ہزاروں افراد جسمانی معذوری کا شکار ہوئے تو مظفرآباد میں ایک ایسا بحالیاتی مرکز قائم کیا گیا جو بعد ازاں مظفرآباد فزیکل ری ایبلیٹیشن سینٹر (MPRC) کے نام سے پورے خطے کے لیے مثال بن گیا۔ یہ مرکز کمبائنڈ ملٹری ہاسپٹل (CMH) مظفرآباد کی اراضی پر قائم کیا گیا اور آج بھی وہیں سے اپنی خدمات انتہائی کامیابی اور مؤثریت کے ساتھ جاری رکھے ہوئے ہے۔ ایم پی آر سی نے جسمانی معذوری کے شکار مرد و خواتین، خصوصی بچوں، حادثات و جنگی زخموں سے متاثرہ افراد، اور نیورو و آرتھو بیماریوں کے مریضوں کو جدید بحالی سہولیات فراہم کیں۔
موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے یہ پہلو بھی نہایت اہم ہے کہ کمبائنڈ ملٹری ہاسپٹل (CMH) مظفرآباد آزاد کشمیر میں ہیلتھ سروسز کی فراہمی کے حوالے سے سرفہرست ادارہ ہے، جہاں مریضوں کا دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ علاج کے معیار، ماہر ڈاکٹروں کی دستیابی اور جدید سہولیات کے باعث سی ایم ایچ کو روزانہ کے اعتبار سے خطے بھر سے آنے والے مریضوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس کے نتیجے میں جگہ اور مکانیت کی کمی ایک حقیقی چیلنج بن چکی ہے۔ ایسی صورتحال میں اگر مظفرآباد فزیکل ری ایبلیٹیشن سینٹر (MPRC) کے لیے ترجیحی بنیادوں پر دارالحکومت میں کسی مناسب مقام پر اراضی اور مستقل عمارت فراہم کر دی جائے تو نہ صرف ایم پی آر سی بہتر سہولیات کے ساتھ اپنی خدمات جاری رکھ سکے گا، بلکہ سی ایم ایچ کی وہ جگہ بھی خالی ہو جائے گی جہاں یہ مرکز اب تک کام کر رہا ہے۔ یہ جگہ مستقبل میں سی ایم ایچ کے کسی اہم طبی شعبے یا نئی تعمیرات کے لیے انتہائی مفید ثابت ہو سکتی ہے، جس سے مجموعی طور پر صحت کے نظام میں مزید بہتری آئے گی۔
یہ ادارہ تربیت یافتہ اسٹاف، عالمی معیار کے مصنوعی اعضاء، فزیوتھراپی، اسپیچ تھراپی، اوکیوپیشنل تھراپی اور دیگر بحالیاتی خدمات کے ذریعے نہ صرف آزاد کشمیر بلکہ پنجاب اور خیبرپختونخوا تک اپنی خدمات کا دائرہ پھیلا چکا ہے۔ دور دراز سے لوگ یہاں آکر نئی امید کے ساتھ اپنے قدموں پر کھڑے ہوئے ہیں۔تاہم مرکز کے قیام کی عارضی نوعیت اور اس کی بڑھتی ہوئی ضرورتوں کے پیش نظر ضروری ہے کہ آزاد حکومت، محکمہ صحت اور بالخصوص پاک فوج کی جانب سے اس ادارے کی مضبوطی اور مستقبل کی پائیداری کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ دارالحکومت مظفرآباد میں کسی مناسب مقام پر ایم پی آر سی کے لیے مستقل اراضی اور جدید عمارت فراہم کی جائے تاکہ یہ سلسلہ نہ صرف برقرار رہے بلکہ مزید وسعت پا سکے۔
ِبِلاشُبہ MPRC جیسے ادارے معاشرے میں انسانی خدمت کی وہ روشن مثال ہیں جو معذور افراد کو باوقار زندگی کی طرف لوٹنے کا اعتماد دیتے ہیں۔ معذوروں کے عالمی دن کے موقع پر ہمیں اجتماعی طور پر یہ عہد کرنا چاہیے کہ پاکستان اور آزاد کشمیر کے معذور افراد کو وہی سہولتیں، عزت اور مواقع ملیں جو کسی بھی مہذب معاشرے میں معمول سمجھے جاتے ہیں۔یہ ادارہ آج ہزاروں افراد کے لیے زندگی کی نئی صبح ہے۔ ضرورت صرف اتنی ہے کہ ہم اس روشنی کو ہمیشہ روشن رکھیں۔
78