اسلام آباد: کانسٹی ٹیوشن ایونیو کے منصوبے کے حوالے سے حکومت نے ایک اہم فیصلہ کیا ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران اعلان کیا۔ انہوں نے بتایا کہ وفاقی کابینہ نے اس منصوبے سے متعلق جے آئی ٹی کی رپورٹ منظور کر لی ہے۔ حکومت نے ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو کی عمارت کا قانونی قبضہ لے لیا ہے۔ یہ اعلان بدھ 4 نومبر کو کیا گیا۔ اس کی تفصیل دی نیوز کی رپورٹ میں شائع ہوئی ہے۔
کانسٹی ٹیوشن ایونیو کو فائیو اسٹار ہوٹل بنانے کا فیصلہ
وزیر داخلہ نے کہا کہ عمارت کو آئندہ چند ماہ میں فائیو اسٹار ہوٹل میں تبدیل کیا جائے گا۔ حکومت کسی بڑی ہوٹل چین کے ساتھ معاہدے تک پہنچنے کی کوشش کرے گی۔ سی ڈی اے کے ممبر ایڈمنسٹریشن کو عمارت سے متعلق تمام امور کا فوری چارج لینے کی ہدایت دی گئی ہے۔ اس فیصلے کے بعد عمارت کے مستقبل کا راستہ واضح ہو گیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ قدم قانونی طریقے سے اٹھایا گیا ہے۔ اس منصوبے کی تکمیل سے اسلام آباد میں سیاحت کو فروغ ملنے کی توقع ہے۔
منصوبے کا پس منظر
رپورٹ کے مطابق عمارت کو اصل میں فائیو اسٹار ہوٹل کے طور پر منظور کیا گیا تھا۔ بعد میں اسے رہائشی اپارٹمنٹس اور تجارتی جگہوں میں تبدیل کر دیا گیا۔ یہ تبدیلی منظور شدہ مقصد کی خلاف ورزی قرار دی گئی ہے۔ جے آئی ٹی نے منصوبے میں بے ضابطگیاں پائی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 254 اپارٹمنٹس 99 سالہ سب لیز کے ذریعے فروخت کیے گئے۔ یہ فروخت ہوٹل کی منظوری کے باوجود کی گئی۔ حکومت کا موقف ہے کہ متعلقہ افراد کو واجب الادا رقوم جے آئی ٹی رپورٹ کے مطابق ادا کی جائیں گی۔
نیب کو معاملہ بھیجنے کا اعلان
وزیر داخلہ نے اعلان کیا کہ یہ معاملہ نیب کو بھیجا جائے گا۔ اس اقدام کا مقصد رپورٹ میں سامنے آنے والی بے ضابطگیوں کی مزید جانچ ہے۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ فیصلہ کابینہ کی منظوری سے کیا گیا ہے۔ عمارت کے قبضے کے بعد اگلا مرحلہ ہوٹل چین سے معاہدہ ہے۔ پاکستان میں تعلیم اور نوجوانوں کی مہارت سے متعلق پاکستان چین تعلیمی معاہدوں کی خبر بھی پڑھیں۔ اسلام آباد میں اس منصوبے کی پیش رفت پر نظر رکھی جائے گی۔ آنے والے مہینوں میں ہوٹل کی تبدیلی کا عمل شروع ہونے کی توقع ہے۔