پولیو کیسز کی تعداد 2026 میں 8 ہو گئی ہے، جس کے بعد 2 سے 8 نومبر تک ملک کے 97 منتخب اضلاع میں بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کی مہم جاری ہے۔ یہ مہم اس وقت شروع ہو رہی ہے جب نیا کیس سامنے آیا ہے۔ اس لیے والدین کے لیے اپنے بچوں کو قطرے پلوانا زیادہ اہم ہو گیا ہے۔
نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر نے آٹھویں کیس کی تصدیق کی ہے۔ یہ کیس 13 ماہ کی ایک بچی کا ہے۔ بچی کا تعلق یونین کونسل جانباز بی، تحصیل باڑہ، ضلع خیبر سے ہے۔ اس کیس کے بعد ملک میں اس سال کیسز کی تعداد 8 تک پہنچ گئی ہے۔ ان میں سے 6 کیسز خیبر پختونخوا سے ہیں۔ باقی 2 کیسز سندھ سے ہیں۔
پولیو کیسز اور جاری مہم کی تفصیل
مہم 2 سے 8 نومبر تک جاری رہے گی۔ اس میں تقریباً 24 ملین پانچ سال سے کم عمر بچوں کو قطرے پلائے جائیں گے۔ مہم کے لیے 97 زیادہ خطرے والے اضلاع کا انتخاب کیا گیا ہے۔ اس میں 200,000 سے زیادہ فرنٹ لائن ورکرز حصہ لے رہے ہیں۔ یہ ورکرز گھر گھر جا کر بچوں تک پہنچیں گے۔
بلوچستان میں بھی مہم کا دائرہ وسیع ہے۔ وہاں 31 اضلاع میں 2.2 ملین سے زیادہ بچوں کو قطرے پلائے جائیں گے۔ یہ تعداد اس صوبے میں مہم کی وسعت کو ظاہر کرتی ہے۔ والدین سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو لازمی قطرے پلوائیں۔
والدین سے اپیل اور مہم کا ہدف
وزیراعظم کی فوکل پرسن عائشہ رضا فاروق نے والدین سے اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ہر پانچ سال سے کم عمر بچے کو ویکسین لگوائی جائے۔ یہ اپیل اس لیے اہم ہے کہ ہر بچے تک پہنچنا ہی مہم کی کامیابی کی کنجی ہے۔ اگر کوئی بچہ رہ جائے تو وائرس پھیلنے کا خطرہ رہتا ہے۔
2026 میں اب تک چار بڑی مہمات چلائی جا چکی ہیں۔ ان مہمات میں 45 ملین سے زیادہ بچوں کو کئی بار تحفظ دیا گیا۔ ستمبر کی مہم میں 29.3 ملین سے زیادہ بچوں کو تحفظ دیا گیا۔ مہم کا ہدف جون 2027 تک وائرس کی منتقلی روکنا ہے۔ اس ہدف کے لیے ہر مہم میں مکمل شرکت ضروری ہے۔ مہم کے آغاز سے متعلق ہماری گزشتہ رپورٹ پولیو مہم بھی دیکھیں۔ مزید معلومات کے لیے ماخذ کی رپورٹ ملاحظہ کریں۔