سعودی عرب نے پاکستان کا 3 ارب ڈالر ڈپازٹ رول اوور کر دیا ہے۔ سعودی ڈپازٹ رول اوور کی تصدیق وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کی۔ انہوں نے بدھ 4 نومبر 2026 کو پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں یہ تصدیق کی۔ وہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں شریک تھے۔ سعودی عرب پاکستان کا قریبی دوست ملک ہے۔ یہ رقم اسٹیٹ بینک کے ذخائر کا حصہ ہے۔
سعودی ڈپازٹ رول اوور کی تفصیل
یہ 3 ارب ڈالر کی سہولت اپریل 2026 میں طے پائی تھی۔ اس کی مدت 31 اکتوبر کو ختم ہو گئی تھی۔ اب اس میں ایک مناسب مدت کے لیے توسیع کر دی گئی ہے۔ توسیع کی مدت ظاہر نہیں کی گئی۔ رول اوور کا مطلب ہے کہ ڈپازٹ کی مدت بڑھا دی گئی ہے۔ اس سے پاکستان کو فوری ادائیگی کا دباؤ کم ہوگا۔ یہ ڈپازٹ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کے لیے اہم ہے۔
سعودی عرب کی دیگر سہولت اور ذخائر
سعودی عرب کی ایک الگ 5 ارب ڈالر کی سہولت پہلے ہی 2028 تک بڑھا دی گئی ہے۔ اسٹیٹ بینک کے ذخائر 30 اکتوبر کو 21.56 ارب ڈالر تھے۔ ملک کے مجموعی مائع ذخائر تقریباً 26.9 ارب ڈالر ہیں۔ زرمبادلہ کے ذخائر ملک کی معاشی مضبوطی کی علامت ہیں۔ پاکستان کو بیرونی ادائیگیوں کے لیے 21.5 ارب ڈالر درکار ہیں۔ اس میں 17 ارب ڈالر اصل رقم اور 4 ارب ڈالر سود شامل ہے۔ بیرونی ادائیگیوں میں قرضوں کی واپسی اور سود شامل ہوتا ہے۔
آئی ایم ایف اور مستقبل
آئی ایم ایف کا بورڈ دسمبر میں 1.2 ارب ڈالر کی قسط کی منظوری دے سکتا ہے۔ اس قسط سے بھی ذخائر میں اضافہ ہوگا۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ اس وقت سعودی عرب سے مزید مدد کی ضرورت نہیں ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کی معاشی صورتحال بہتر ہو رہی ہے۔ حکومت معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔ سعودی ڈپازٹ رول اوور سے پاکستان کو بیرونی ادائیگیوں میں ریلیف ملے گا۔ سعودی عرب کی حمایت سے پاکستان کی معیشت کو سہارا ملا ہے۔
مزید کاروباری خبریں پڑھیں: سونے کا ریٹ 5 نومبر 2026۔ تفصیلی خبر کے لیے اسلام آباد پوسٹ کی رپورٹ ملاحظہ کریں۔