دھیر کوٹ میں کانفرنسی کارکنان کیخلاف انتقامی کارروائیوں سے باز رہے:عثمان علی خان

11

مظفر آباد(دومیل نیوز)چیئرمین یوتھ ونگ سردارعثمان علی خان نے انتظامیہ کی جانب سے مسلم کانفرنسی کارکنان کیخلاف دھیر کوٹ میں انتقامی کارروائیوں کی شدید مذمت کی اور کہا کہ انتخابات میں بدترین دھاندلی اور جوڑ توڑ کے ذریعے مسلم کانفرنس کو اسمبلی سے باہر کرکے بھی انتظامیہ کا دل ابھی نہیں بھرا۔

سابق وزیراعظم آزاد سردار عتیق احمد خان کے صاحبزادے نے کہا کہ حکومت آزادکشمیر مسلم کانفرنس کیخلاف انتقامی کارروائیوں سے باز رہے۔ انہوں نے کہا کہ دھیرکوٹ میں مسلم کانفرنس کے کارکنان کیخلاف ناجائز تجاوزات کے نام پر کی جانے والی انتقامی کارروائیاں انتہائی قابل مذمت ہیں۔

اگر انتظامیہ نے ناجائز تجاوزات کیخلاف کوئی کارروائی کرنی ہے تو اسے بلا تخصیص اور بلا امتیاز کرنا چاہیے لیکن چن چن کر مسلم کانفرنس کے کارکنان اور کشمیر بنے گا پاکستان کے حامیوں کو نشانہ بنانا کسی خطرناک رجحان کی نشاندہی کرتا ہے۔

آزادکشمیر حکومت اور ان کی انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ ابھی دوسرے اہم مسائل پر توجہ دیں جن میں آزادکشمیر کا امن و امان سرفہرست ہے۔ مسلم کانفرنس کیخلاف جس طرح ماضی میں بھی کی جانے والی انتقامی کارروائیوں کا آج تک کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا اسی طرح مستقبل میں بھی ان اقدامات کا کوئی فائدہ نہیں اُٹھایا جاسکتا۔

دھیر کوٹ کا پس منظر

دھیر کوٹ کے اس معاملے کے تناظر میں چند عمومی باتیں سمجھنا مفید ہے۔

سیاسی کارکن کسی بھی جمہوری نظام میں عوام اور سیاسی جماعتوں کے درمیان رابطے کا ذریعہ ہوتے ہیں۔ وہ عام طور پر مقامی مسائل اجاگر کرتے ہیں اور پرامن سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں۔

انتظامیہ سے عام طور پر یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ قانون کا اطلاق بلا امتیاز کرے۔ جب کارروائی یکساں معیار پر ہو تو عوام کا اعتماد بڑھتا ہے۔

ناجائز تجاوزات کے خلاف مہمات عام طور پر شہروں میں چلائی جاتی ہیں۔ ان کا مقصد عوامی راستے اور سرکاری زمین واگزار کرانا ہوتا ہے۔ ایسی مہمات کی شفافیت اور غیر جانبداری ان کی کامیابی کے لیے ضروری سمجھی جاتی ہے۔

سیاسی اختلافات کا حل عام طور پر مذاکرات، قانونی راستوں اور جمہوری اداروں کے ذریعے تلاش کیا جاتا ہے۔ پرامن سیاسی ماحول معاشرے کے لیے فائدہ مند ہوتا ہے۔

عوام عام طور پر شفاف معلومات چاہتے ہیں۔ میڈیا ایسے معاملات کی کوریج کرتا ہے۔ قانونی ماہرین آئینی پہلوؤں پر رائے دیتے ہیں۔ جمہوری معاشروں میں اختلاف رائے معمول کی بات ہے۔ پرامن احتجاج جمہوری حق سمجھا جاتا ہے۔ اداروں کا باہمی احترام جمہوریت کو مضبوط کرتا ہے۔ عوامی مسائل کا حل بات چیت سے نکلتا ہے۔ آزاد صحافت معاشرے کی رہنمائی کرتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں