باغ کے علاقے ڈھکی پنڈی (پنڈی ٹوپی) میں جمعرات کی شام ایک گھر میں دھماکہ ہوا۔ اس واقعے کی باغ دھماکہ تحقیقات جاری ہیں۔ دھماکے میں ایک ہی خاندان کے چار افراد جاں بحق ہو گئے۔ ایک نوعمر لڑکی زخمی ہوئی۔ دھماکے سے گھر کا ایک حصہ تباہ ہو گیا۔
جاں بحق ہونے والوں میں ایک 80 سالہ خاتون شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 40 سالہ شازیہ بھی جاں بحق ہوئیں۔ 11 سالہ حارث اور 8 سالہ ملائکہ بھی جاں بحق ہونے والوں میں شامل ہیں۔ زخمی نوعمر لڑکی کو باغ ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال منتقل کیا گیا۔ بعد میں اسے مظفرآباد منتقل کرنے کے انتظامات کیے گئے۔
باغ دھماکہ تحقیقات
اس واقعے پر کشمیر ٹائمز کی رپورٹ میں بھی بتایا گیا کہ ایک ہی خاندان کے چار افراد جاں بحق ہوئے۔ تاہم واقعے کی وجہ کے بارے میں ابھی تک کوئی متفقہ اور حتمی بات سامنے نہیں آئی۔ پولیس سے منسوب اطلاعات میں گھریلو گیس سلنڈر پھٹنے کا ذکر آیا ہے۔
دوسری جانب ڈپٹی کمشنر باغ ممتاز کاظمی کے حوالے سے دستی بم کے امکان کی خبر بھی سامنے آئی۔ تاہم ضلعی انتظامیہ نے سوشل میڈیا پر ان سے منسوب حتمی دعووں کو مسترد کر دیا۔
مشترکہ عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں نے اس کے برعکس الزام لگایا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے گھر پر حملہ کیا۔ ان کے مطابق گرینیڈ یا ڈرون حملہ کیا گیا۔ اس کے باوجود یہ الزام آزادانہ طور پر ثابت نہیں ہوا۔
باغ دھماکہ تحقیقات ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے۔ جمعے تک اس بارے میں کوئی آزادانہ فرانزک نتیجہ سامنے نہیں آیا تھا۔ سابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر نے متاثرہ خاندان سے تعزیت کی ہے۔
اس کے علاوہ علاقے میں کشیدگی برقرار ہے۔ راولاکوٹ میں ٹرانسپورٹ کی بندش جاری ہے۔ سیکیورٹی اہلکار بھی تعینات ہیں۔ لہٰذا علاقے میں بے چینی قائم ہے۔ واقعے کی اصل وجہ پر اتفاق رائے تاحال نہیں ہو سکا۔