سہیل آفریدی نے پنجاب کو ”ایزی“ لے لیا ، تحریر،حامد ولید

16

ڈیلی دومیل نیوز،سیاست میں توجہ حاصل کرنے کے شوق کو اگر کسی مظہر سے تعبیر کرنا ہو۔ تو خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ اور ان کے رفقاء کے حالیہ دورہِ پنجاب سے بہتر کوئی مثال نہیں مل سکتی۔

لاہور اور پنجاب کے دیگر علاقوں میں ”سیاسی اٹھک بیٹھک“ اور طوفانی دورے ہوئے۔ ان کا بنیادی مقصد کسی عوامی مسئلے کا حل یا سنجیدہ سیاسی پیش رفت نہیں تھا۔ بلکہ محض میڈیا کی توجہ سمیٹنا اور اپنے سیاسی وجود کو زبردستی تسلیم کروانا تھا۔

تاہم، اس تمام ڈرامائی مشق کا اختتام ہوا۔ پنجاب کے عوام کی روایتی سرد مہری اور بے نیازی سے ہوا۔ اس نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا۔ کہ پنجاب کے سیاسی شعور کو سطحی شعبدہ بازی سے رام کرنا ممکن نہیں۔

میڈیا کا کردار

اس تمام سیاسی شو کے دوران سکرینوں پر بیٹھے ”نام نہاد دانشوروں“ کی کارکردگی بھی کم دلچسپ نہیں تھی۔ اور کچھ خاص ٹی وی صحافیوں کی بھی نہیں تھی۔ جیسے ہی وزیراعلیٰ اور ان کا وفد پنجاب کی حدود میں داخل ہوا۔ میڈیا کے ان بقراطوں نے فوراً پنجاب حکومت کے خلاف محاذ کھول دیا۔ ایک مخصوص بیانیہ تیار کیا گیا۔ کہ ”مہمان نوازی میں کسر چھوڑ دی گئی ہے“۔ اور ”میزبان نے پشتون روایت اور سیاسی رواداری کا پاس نہیں رکھا“۔

مظلومیت کا کارڈ

روزانہ شام کو ٹاک شوز میں بیٹھ کر جس طرح پنجاب حکومت کو کوسا گیا۔ وہ حقیقت میں ایک مصنوعی ڈرامے سے زیادہ کچھ نہیں تھا۔ مہمان نوازی کے اس واویلے کے پیچھے اصل مقصد یہ تھا۔ کہ کسی طرح اس بے سمت اور بے مقصد دورے کو مظلومیت کا رنگ دیا جا سکے۔ تاکہ عوامی ہمدردیاں حاصل کی جا سکیں۔ لیکن پنجاب کا عام شہری اس کھیل کو اچھی طرح سمجھتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ جب سیاست دان اپنے علاقے کا کارکردگی کارڈ دکھانے میں ناکام ہو جاتے ہیں۔ تو وہ اکثر ”مظلومیت کے کارڈ“ کا سہارا لیتے ہیں۔

انتظامیہ کا ردعمل

پنجاب کے انتظامی اور سیاسی حلقوں نے سہیل آفریدی اور ان کے لشکریوں کے ساتھ بالکل یہی سلوک کیا۔ پنجاب کی انتظامیہ کو بخوبی اندازہ تھا۔ کہ اس وفد کی آمد کا مقصد کوئی مثبت تعمیری گفتگو نہیں تھی۔ بلکہ صرف ہنگامہ آرائی اور انتظامی مشینری کو مشتعل کرنا تھا۔ چنانچہ پورے دورے کے دوران ہر قیمتی اور حساس ادارے اور مقام کو اسی طرح محفوظ رکھا گیا۔ جیسے کسی بے قابو بچے سے گھر کا قیمتی سامان بچایا جاتا ہے۔

عوام کی بے نیازی

سب سے دلچسپ پہلو اس تمام سیاسی تھیٹر پر پنجاب کے عوام کا ردِعمل تھا۔ سہیل آفریدی اور ان کی ٹیم نے سوچا تھا۔ کہ وہ لاہور کی سڑکوں پر نکلیں گے۔ تو عوام کا ایک سمندر ان کے استقبال کیلئے امڈ آئے گا۔ لیکن پنجاب کے عوام نے انہیں بالکل اسی طرح نظر انداز کر دیا۔ جس طرح وہ اس سے قبل بلاول بھٹو زرداری کو کر چکے ہیں۔

بلاول بھٹو کا حشر

بلاول بھٹو نے بھی کئی سال پنجاب میں ڈیرے ڈالے۔ ریلیوں کے ذریعے پنجاب کے دل میں جگہ بنانے کی بھرپور کوششیں کیں۔ اور ’جیالے‘ بیدار کرنے کے دلاسے دیے۔ مگر پنجاب نے ان کے ہر نعرے کو مسکرا کر نظر انداز کر دیا۔ یہی حشر اس بار خیبرپختونخوا کے سیاسی مسافروں کا بھی ہوا۔ پنجاب کے عوام نے نہ صرف ان کے نعروں پر کوئی کان نہیں دھرے۔ بلکہ انہیں ایک ایسی خاموش بے نیازی کا تحفہ دیا۔ جو کسی بھی سیاست دان کیلئے کھلے احتجاج سے زیادہ تکلیف دہ ہوتی ہے۔

پنجاب کا سیاسی شعور

پنجاب کی اس بے نیازی کو سیاسی کم فہمی سمجھنا سب سے بڑی بھول ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پنجاب کے عوام ایک نہایت گہرا، پختہ اور پائیدار سیاسی شعور رکھتے ہیں۔ تاریخ شاہد ہے۔ کہ پنجاب کبھی بھی وقتی جذباتی نعروں سے مستقل طور پر متاثر نہیں ہوا۔ نہ چیخ و پکار سے۔ اور نہ ڈرامائی اندازِ بیاں سے۔ یہ خطہ صرف ان سیاست دانوں کو قبول کرتا ہے جو عمل، کارکردگی اور سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

تاریخ کے سبق

پنجاب کی سیاسی تاریخ بڑی بے رحم ہے۔ یہاں جذباتی فیصلوں کی جگہ ہمیشہ شعوری اور عمل پسندانہ فیصلوں نے لی ہے۔ اگر سہیل آفریدی یا ان کے قائدین کو یہ لگتا ہے۔ کہ وہ سڑکوں پر آ کر جذباتی تقاریر کر کے پنجاب کو فتح کر لیں گے۔ تو انہیں ماضی کے چند بڑے سیاسی ناموں کا حشر دیکھ لینا چاہئے۔ اپنے دور کے سب سے بڑے اور کرشماتی خطیب، ذو الفقار علی بھٹو۔ جنہوں نے پنجاب سے ہی اپنے سیاسی عروج کا آغاز کیا تھا۔ ایک وقت ایسا آیا کہ اسی پنجاب نے ان کے جذباتی نعروں کو مسترد کر دیا۔

بھٹو کا روایتی سحر ٹوٹا۔ تو پنجاب نے ان کی پارٹی کو ایسا کنارے لگایا۔ کہ دہائیاں گزرنے کے بعد بھی پیپلز پارٹی پنجاب میں اپنا وجود بحال کرنے کیلئے ترستے دکھائی دیتی ہے۔

گجرات کے چودھریوں نے پنجاب کی سیاست میں دہائیوں تک جوڑ توڑ کی سیاست کی۔ لیکن جب چودھری پرویز الٰہی نے محض اقتدار اور ذاتی مفادات کیلئے انحراف کیا۔ انہوں نے اپنی سیاسی سمت اور نظریات سے بار بار انحراف کیا۔ نتیجہ یہ ہوا۔ کہ وہ پنجاب جو کبھی ان کا گڑھ سمجھا جاتا تھا۔ وہاں وہ ایک غیر متعلقہ سیاسی کردار بن کر رہ گئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں