ڈیلی دومیل نیوز،اکثر سوچتا ہوں کہ یہ موبائل فون اور اِس میں موجود ایپس اگر نہ ہوتیں تو کیا ہوتا۔ آج کے پاکستانیوں کی کیا حالت ہوتی۔ مجھ سمیت سارا دن ہم اِدھر اُدھر کی ہانکنے اور سوچنے کی بجائے اس جادو نگری میں ڈوبے رہتے ہیں۔ اس جادو نگری میں نو بہ نو فیچرز ہیں، دنیائیں ہیں اور مرچ مصالحہ ہے۔ کبھی فیس بک، کبھی انسٹا گرام، کبھی ٹک ٹاک۔ کہیں چیٹ جی بی، کہیں ایکس، کہیں یہ کہیں وہ۔ غرض نہ دن کا چین رہا ہے اور نہ رات کی نیند۔ یہ بیماری ہے یا تفریح آج تک اس میں تفریق نہیں ہو سکی۔
موبائل اور نیند کا بحران
رات کو دو بجے آنکھ کھل جائے تو سرہانے پڑے موبائل کو آن کر کے اُسے دیکھنے کی عادت اب گھر گھر کا سیاپا ہے۔ ایک بار اسے کھول لیا تو پھر ایک ڈیڑھ گھنٹہ کہیں نہیں گیا۔ وہ ایک ڈیڑھ گھنٹہ جسے نیند کی نذر ہونا چاہئے تھا، جب موبائل کی نذر ہوتا ہے۔ تو انسانی جسم کے سارے سسٹم کو توڑ پھوڑ کے رکھ دیتا ہے۔ اُس کے بعد ڈھنگ کی نیند نہیں آتی، بلکہ وہی مناظر اور اُن سے جڑے خیالات گھومتے ہیں۔ یہ ایجاد بھی کمال ہیں انہوں نے انسان کو چاروں طرف سے جکڑ لیا ہے۔
ایپس کا جال
ہم سمجھتے ہیں کہ فیس بک، واٹس ایپ، انسٹا گرام اور دیگر ایپلی کیشنز علیحدہ علیحدہ ہیں۔ حالانکہ یہ سب آپس میں جڑی ہوئی ہیں۔ ہمارا ذہن پڑھ کر پھر اسی کو خراب کرنے پر تُل جاتی ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی اس قدر شارپ ہے کہ جو آپ سوچ رہے ہوتے ہیں، اُسے پڑھ کر سامنے لے آتی ہے۔ پھر ایک بار آپ نے کسی میں دلچسپی ظاہر کی، یا اُسے دیکھ لیا تو گویا آپ ان کے نرغے میں آ گئے۔
ایک بار مجھے کمر میں درد ہوا۔ میں نے ایسے ہی بیک پین لکھ کر ڈال دیا۔ اُس کے بعد جو یلغار ہوئی، الامان الحفیظ۔ کہیں کسی ڈاکٹر کی ایڈ آ رہی ہے، کہیں حکیم کی۔ کوئی کمر درد کے بارے میں بقراطی جھاڑ رہا ہے تو کسی نے اُس کا پورا فلسفہ بیان کرنے کی تقریر بنا رکھی ہے۔ ایک کے بعد ایک آنے والی اِن پوسٹوں نے میرا کمردرد تو کیا ٹھیک کرنا تھا، الٹا دماغ کا دلیہ بنا دیا۔ اب میں نے توبہ کر لی کہ کوئی بات لکھ کر نہیں پوچھوں گا۔
ایک دن اتفاق سے گھر بیٹھے بچوں سے یہ مشورہ کر رہا تھا۔ ڈرائنگ روم کی رینوویشن کی ہے تو پردے کیسے ہونا چاہئیں۔ بس اسی بات کو چند منٹ ہی گزرے ہوں گے کہ پردوں کے بارے میں پوسٹیں شروع ہو گئیں۔ لاہور کی شاہ عالمی سے لے کر کراچی کی مارکیٹوں تک کے بیوپاری پردوں کے بارے میں بتانے لگے۔ بنے بنائے پردوں والے آئے۔ اور کپڑا خرید کر اپنی پسند کا پردہ بنانے کی رونق لگانے والوں نے بھی ڈیرے ڈال دیئے۔ ارے بھائی یہ کیا چکر ہے، کیا اب ہم کہیں بیٹھ کر کوئی بات بھی نہ کریں۔ وہ بھی اسی موبائل کے ذریعے کہیں جا کر ہماری خواہشات کا پردہ چاک کر دیتی ہے۔
سوشل میڈیا کا جنجال
دو دن پہلے میں نے اتفاق سے لاہور میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی ایک پوسٹ دیکھ لی۔ پوسٹ چونکہ دلچسپ تھی اسی لئے پوری دیکھی۔ اُس کے بعد تو موبائل کی سکرین سہیل آفریدی کی پوسٹوں سے بھر گئی۔ کہیں اُن کا گاڑی پر چڑھ کے خطاب، کہیں سڑک کنارے بیٹھنا۔ کہیں پولیس والوں کو جھاڑنا، کہیں یہ تو کہیں وہ۔ ارے بابا کچھ اور بھی دکھا دو۔ نہیں صاحب، ہر طرف آفریدی آفریدی کی پکار ہی ہوتی نظر آئی۔ اس کا توڑ میں نے یہ نکالا کہ عظمیٰ بخاری کو سرچ کیا۔ اُن کی پوسٹیں آنا شروع ہوئیں، جن میں وہ سہیل آفریدی کے بارے میں اظہارِ خیال کر رہی تھیں۔ پھر چل سو چل، سہیل آفریدی پیچھے چلے گئے اور عظمیٰ بخاری کی پوسٹیں آگے آ گئیں۔ فیس بک کا جنجال پورہ ایسے کام کرتا ہے اور کسی کو چین نہیں لینے دیتا۔
فیچرز کا سیلاب
اس کے کتنے ہی فیچرز بن گئے ہیں۔ فیس بک ریل، فیس بک سٹوری۔ یہی چیز انسٹا پر بھی ہے۔ پھر ایک فیچر ”فیڈ“ کا ہے، جس پر کوئی اپنی پوسٹ لگاتا ہے۔ ایک بار غلطی سے کسی صاحب نے کوئی معیوب ریل دیکھ لی تو سمجھو مارا گیا۔ اب مخرب الاخلاق ریلیز کا ایک سیلاب آجائے گا۔ آپ لاکھ سٹپٹائیں کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے۔ یہ طوفان رکنے والا نہیں۔
موبائل اور گھریلو زندگی
جو اس میٹھے زہر کے عادی ہو جاتے ہیں وہ پھر جکڑے جاتے ہیں۔ اپنا موبائل چھپا چھپا کے رکھتے ہیں کہ کوئی دیکھ نہ لے۔ خاص طور پر شوہروں کو بہت پریشانی ہوتی ہے۔ موبائل کی سکرین لاک رکھتے ہیں۔ مگر اچانک اہلیہ آ جائے تو جب چونک کر جلدی سے موبائل کو چھپاتے ہیں تو راز کھل جاتا ہے۔ ایک نیا سیاپا شروع ہو جاتا ہے۔
بے لگام ٹیکنالوجی
شروع شروع میں فیس بک، انسٹا، ٹک ٹاک اور دیگر ایپس آئی تھیں۔ جب یہ آئی تھیں تو ان کے پاس بھی ٹیکنالوجی اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس اتنی زیادہ نہیں تھی۔ ہم نے ابتدائی زمانے میں انہیں استعمال کیا۔ یہ سادہ سا نظام رکھتی تھیں جسے صارف آسانی سے اپنے کنٹرول میں رکھتا تھا۔ مگر اب یہ بے لگام گھوڑے بن چکی ہیں۔ آپ کا ذہن اور رجحان پڑھ لیتی ہیں۔ جو کچھ آپ سوچ رہے ہیں، اُسی کے مطابق مواد سامنے لے آتی ہیں۔ آپ کی سوچ، خواہشات، رجحان اور دِل کے اندر کی باتیں بھی جان لیتی ہیں۔ اور ایسی دنیا میں لے آتی ہیں جو آپ کی ساری پرائیویسی کو سامنے لے آتی ہے۔
سوچ سمجھ کر استعمال کریں
سیانے کہتے ہیں سوشل میڈیا اور موبائل کے فیچرز کا استعمال سوچ سمجھ کے کیا کریں۔ فرشتوں کی طرح یہ بھی بندے کی سرگرمیاں نوٹ کر رہے ہوتے ہیں۔ کوئی پوسٹ بھی سوچ سمجھ کے لگایا کریں۔ کسی غصے یا غلط فہمی میں جو پوسٹ ہم آج لگاتے ہیں وہ آنے والے زمانوں تک محفوظ ہو جاتی ہے۔ جس طرح فیس بک میموری میں دس سال پہلے کی اپنی ہی پوسٹ ہمیں حیران کر دیتی ہے۔ اُسی طرح یہ ہمارے بعد بھی دنیا کے سامنے آتی رہیں گی۔ اسی لئے حذر اے چیرہ دستاں سخت ہیں فیس بک کی تعزیریں۔
ماہرین کی رائے
امریکہ میں بیٹھی شاعرہ اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی ماہر بینا گوئندی کا کہنا ہے۔ انسانی دماغ اب یرغمالی بن چکا ہے، اپنا نہیں رہا۔ کوئی شخص بھی آزادانہ سوچ نہیں رکھتا۔ کہیں نہ کہیں وہ اے آئی سے متاثر ہوتا ہے۔ بظاہر تو اس سے بچا نہیں جا سکتا۔ البتہ سوشل تعلقات بڑھا کر اپنی سرگرمیوں کو مضبوط کیا جا سکتا ہے۔ مطالعے اور انسانی روابط سے ہم اس یلغار سے کسی حد تک بچ سکتے ہیں۔
موبائل اور صحت
مجھے ایک فزیو تھراپسٹ نے بتایا کہ پاکستان میں دائیں کندھے کے درد کی شکایت بہت بڑھ گئی ہے۔ اس کی وجہ انہوں نے یہ بتائی۔ رات کے وقت بستر پر لیٹ کر دائیں ہاتھ سے موبائل استعمال کرنے سے کندھے پر بوجھ پڑتا ہے۔ پھر درد شروع ہو جاتا ہے۔ جو اسی لئے کم نہیں ہوتا کہ روزانہ کی یہ عادت اسے ختم نہیں ہونے دیتی۔ میں نے خود جب اپنے کندھے کا جائزہ لیا تو وہ بھی اسی وجہ سے درد کی ٹیس بنا ہوا تھا۔ گویا موبائل کی یہ دنیا دو دھاری تلوار ہے۔ ایک طرف یہ مصروفیت بن گئی ہے اور دوسری طرف ذہنی و جسمانی خلجان کی بڑی وجہ ہے۔