لاہور (31 مارچ 2026) – لاہور کی ایک سیشن عدالت نے منگل کے روز گلوکارہ میشا شفیع کے خلاف ہتکِ عزت کے دعوے پر مختصر فیصلہ سناتے ہوئے انہیں حکم دیا ہے کہ وہ علی ظفر کو 50 لاکھ روپے (5 ملین) بطور ہرجانہ ادا کریں۔ عدالت نے قرار دیا کہ میشا شفیع کی جانب سے لگائے گئے جنسی ہراساں کرنے کے الزامات ثابت نہیں ہو سکے اور ان سے علی ظفر کی شہرت کو نقصان پہنچا۔
عدالتی فیصلے کے اہم نکات
عدالت کی جانب سے جاری کردہ مختصر حکم نامے کے مطابق:
الزامات کی نوعیت: عدالت نے پایا کہ میشا شفیع کی سوشل میڈیا پوسٹس اور ایک انٹرویو میں علی ظفر پر لگائے گئے “جسمانی نوعیت کے جنسی ہراساں کرنے کے الزامات” جھوٹے، توہین آمیز اور نقصان دہ تھے۔
ثبوتوں کی کمی: حکم نامے میں کہا گیا کہ یہ الزامات سچے ثابت نہیں ہوئے اور نہ ہی یہ عوامی مفاد کے لیے لگائے گئے تھے، لہٰذا یہ ہتکِ عزت کے زمرے میں آتے ہیں۔
ہرجانے کی رقم: اگرچہ علی ظفر نے 1 ارب روپے کے ہرجانے کا دعویٰ کیا تھا، تاہم عدالت نے قرار دیا کہ “خصوصی نقصانات” (Special Damages) کے ٹھوس شواہد موجود نہیں ہیں۔ اس لیے عدالت نے 50 لاکھ روپے بطور “جنرل ہرجانہ” (General Damages) منظور کیے۔
مستقل پابندی: عدالت نے میشا شفیع پر مستقل طور پر پابندی عائد کر دی ہے کہ وہ پرنٹ، الیکٹرانک یا سوشل میڈیا سمیت کسی بھی فورم پر علی ظفر کے خلاف جنسی ہراساں کرنے کے یہ الزامات براہِ راست یا بالواسطہ طور پر دوبارہ شائع یا بیان نہیں کر سکتیں۔
کیس کا پس منظر
یہ قانونی جنگ 2018 میں اس وقت شروع ہوئی تھی جب میشا شفیع نے ٹویٹر (موجودہ ایکس) پر علی ظفر پر ایک سے زیادہ بار جنسی ہراساں کرنے کا الزام لگایا تھا۔
علی ظفر نے ان الزامات کی سختی سے تردید کی اور میشا شفیع کے خلاف ایک ارب روپے کا ہتکِ عزت کا دعویٰ دائر کیا، جس میں مؤقف اپنایا گیا کہ ان الزامات سے ان کی اور ان کے خاندان کی ساکھ بری طرح متاثر ہوئی اور انہیں ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑا۔
وکلاء کے دلائل
علی ظفر کے وکیل (عمر طارق گل): انہوں نے دلیل دی کہ میشا شفیع کے علاوہ کسی نے بھی علی ظفر پر ایسے الزامات نہیں لگائے اور ان جھوٹے دعوؤں سے علی ظفر کے کیریئر اور عزت کو شدید ٹھیس پہنچی۔
میشا شفیع کے وکیل (ثاقب جیلانی): انہوں نے مؤقف اپنایا کہ میشا شفیع نے اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعات کو بیان کیا اور وہ اپنے بیانات پر قائم رہیں۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ ہتکِ عزت کا دعویٰ خارج کیا جائے کیونکہ کسی کو اپنی تکلیف بیان کرنے پر سزا نہیں دی جا سکتی۔